ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کا کہنا ہے کہ انڈونیشیاءدنیا میںشارک فنزیا شارک کے پروں کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، ان پروں کے حصول کیلئے ہر سال ڈیڑھ لاکھ کے قریب شارکس کو ہلاک کردیا جاتا ہے، جسکے نتیجے میں شارک کی متعدد اقسام کے خاتمے کا خطرہ درپیش ہوگیا ہے، تاہم ایک گروپ نے اس شکار پر پابندی کیلئے مہم شروع کی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈز کی انڈونیشیاءشاخ نے ایک مہم شروع کی جس کے تحت شارک کے شکار پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے، اس تقریب کا انعقاد کورل ترینگلے ڈے پر ہوا، جس کے دوران لوگوں نے شارک کا بہروپ بھررکھا تھا۔ نوجوان اداکار رنگو اگس رحمان اس ایونٹ میں شریک
ہیں۔
رحمان”میں شارکس سے محبت کرتا ہوں، کیا آپ شارکس سے محبت کرتے ہیں؟ یا آپ اس سے ڈرتے ہیں؟ بری شارکس صرف فلموں میں ہی ہوتی ہیں، جیسے جاز یا ڈیپ بلیو سی (سمندر ) جیسی فلموں میں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ شارکس کے ہاتھوں ہلاکت کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، اس سے بھی زیادہ لوگ ٹریفک حادثات، ملیریا، کتے کے کاٹنے یا بجلی گرنے سے مرجاتے ہیں، تو آپ خود فیصلہ کریں کہ شارک کو کسی بھی حالت میں نہیں کھائیں گے”۔
تاہمشارک فن سُوپ جکارتہ کے چینی ریستوران کے مقبول ترین کھانوں میں سے ایک ہے، اسے پرتعیش سمجھا جاتا ہے، اور اسے خصوصی مواقعوں جیسے شادیوں یا ظہرانوں وغیرہ میں بھی رکھا جاتا ہے۔ اس ریستوران کی مالکہ پارٹریکا کوہکا کہنا ہے کہ اس سوپ کی طلب بہت زیادہ ہے۔
پٹریکیا”اس کا انحصار پیالے کے حجم اور اس میں مچھلی کی مقدار پر ہے، تاہم سب سے سستا پیالہ بھی ستر ڈالرز کا ہے، جبکہ سب سے مہنگا دو سو ڈالرز کا ہے”۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے انڈونیشیاءمیں سربراہ ایفرنس جااس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔
ایفرنس جا”شارک مچھلی کو سمندر سے زندہ پکڑا جاتا ہے، جس کے بعد اس کے فن کو کاٹ لیا جاتا ہے اور دھڑ کو واپس سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ شارک فن بالکل ایسے ہیں جیسے کسی طیارے کیلئے اس کے پر، شارکس کو تیرنے اور پانی میں اوپر نیچے ہونے کیلےءاس کی ضرورت ہوتی ہے، جب یہ کٹ جاتے ہیں تو شارک کیلئے آکسیجن کے حصول کیلئے تیر کر اوپر نہیں آیا جاتا اور وہ مرجاتی ہے،فنز کے بغیر شارک بے بس ہوجاتی ہیں اور انہیں دوسری مچھلیاں کھاجاتی ہیں”۔
تین سال قبل ماحولیاتی گروپس کے دباﺅ پر ہانگ کانگ اور چین کی حکومتوں نے شارکس فنز کا سرکاری ضیافتوں میں استعمال روک دیا تھا، گزشتہ برس ایک آن لائن مہم کے نتیجے میں جکارتہ ائیرپورٹ کی انتظامیہ نے اپنے ریسٹورنٹس میں اس سوپ کی فروخت بند کردی تھی، مگر حکومت نے تاحال اسپر مکمل پابندی پر غور شروع نہیں کیا۔ٹونی روچی مٹ، وزارت سمندری امور و فشریز کے ڈائریکٹر ہیں۔
ٹونی”ہم اس پر مکمل پابندی نہیں عائد کرسکتے ہیں، کیونکہ ابھی بھی بڑی تعداد میں ماہی گیروں کا روزگار اس سے وابستہ ہے، یہ وہ انڈونیشیاءکے سب سے غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم اس سوپ کو اپنی تفریح طبع کیلئے استعمال کرتے ہیں اور وہ اسے اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے کیلئے فروخت کرتے ہیں”۔
تاہم اب انڈونیشیاءمیںفنز اور شارک سے تیار کی جانے والی دیگر اشیاءکی تیاری سے شارک مچھلیوں کی کچھ اقسام 70 فیصد تک ختم ہوچکی ہیں۔ احمد حفیظ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے عہدیدار ہیں۔
احمد”ہمارے اعدادوشمار کے مطابق دس برس پہلے صرف شارک کی پندرہ اقسام کی بقاءکو خطرہ لاحق تھا، مگر اب یہ تعداد ایک سو اسی تک جاپہنچی ہے، یعنی اتنے قلیل وقت میں بارہ گنا اضافہ ہوا ہے”۔
تاہم صورتحال میں تبدریج تبدیلی آرہی ہے۔ رواں برس مارچ میں پانچ اقسام کو عالمی کنونشن میں شامل کیا گیا، تاکہ ان کی تجارت اور شکار کو روکا جاسکے۔اسکا مطلب ہے کہ سرکاری اجازت کے بغیر آٹھ اقسام کی شارک مچھلیوں کا شکار کسی صورت ممکن نہیں۔ ایک حالیہ امریکی تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ شارک فن کا سوپ صحت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے، ماہر طب ا یکر لیبانگ اس بات کی وضاحت کررہے ہیں۔
لیبانگ “شارک مچھلیاں سمندر کی سب سے بڑی شکاری ہوتی ہیں، وہ بہت زیادہ کھاتی ہیں، اس کا مطلب ہے کہ شارکس چھوٹی مچھلیاں بہت زیادہ کھاتی ہیں اور ان مچھلیوں میں مرکری کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جب لوگ شارکس کھاتے ہیں، تو وہ اس زہریلے مادے کو بھی استعمال کرتے ہیں”۔