رواں ماہ کے شروع میں پاکستان کی نومنتخب حکومت نے موت کی سزا کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاکہ جرائم کی شرح پر قابو پایا جاسکے۔ اس سزا پر گزشتہ پانچ سال کے دوران پابندی رہی۔ حکومتی فیصلے کے بعد عالمی و ملکی سطح پر کئی حلقے اس پر تنقید کررہے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ملک بھر میں وکلاءمظاہرے کرتے ہوئے قیدیوں کو پھانسیوں پر لٹکانے کا مطالبہ کررہے ہیں، پاکستان میں قتل و غارت گری کے دوران اکثر وکلاءبھی ہدف بن جاتے ہیں۔سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطابق 2007ءکے بعد سے اب تک چالیس سے زائد وکلاءقتل ہوچکے ہیں۔ مصطفیٰ لاکھانی بار ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔
مصطفی”ہماری حکومت، ہائیکورٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست ہے کہ سزائے موت کے فیصلوں پر عملدرآمد کرایا جائے، تاکہ دیگر مجرموں پر قابو پایا جاسکے”۔
انھوں نے چند روز قبل ہائیکورٹ میں سزائے موت کے فیصلوں پر جلد از جلد عملدرآمد کیلئے درخواست دائر کی تھی۔
مصطفی”اس سے دہشتگردوں کو ایک پیغام جائے گا کہ جو بھی وہ کریں گے اس کی قیمت انہیں زندگی کی صورت میں چکانا پڑے گی، عدالتیں ان مجرموں کو سزا سنانے کے بعد ان کی سزائے موت پر بھی عملدرآمد کرائیں”۔
دو ہزار آٹھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے ایک آرڈنینس کے ذریعے اس پر پابندی عائد کی تھی، تاہم اس حکم نامے کی مدت گزشتہ ماہ ختم ہوگئی تھی۔اس وقت ملک بھر میں سزائے موت کے آٹھ ہزار کے لگ بھگ قیدی ہیں۔
گزشتہ ماہ کراچی میں ایک سنیئر جج کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، جس سے وہ زخمی ہوگئے، جبکہ نو افراد جاں بحق ہوگئے۔ زاہد محمود کے بھائی اس دھماکے میں چل بسے تھے۔
زاہد”میں اسے کھلی دہشتگردی قرار دیتا ہوں اور اس پر قابو پایا جانا چاہئے۔ دہشتگردوں کو موت کی سزا دی جانی چاہئے اور جنھیں یہ سزا مل چکی ہے انہیں فوری طور پر لٹکا دیا جانا چانا چاہئے، یا انہیں اسی جگہ ہلاک کیا جانا چاہئے تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کو کیسا محسوس ہوتا ہے”۔
پاکستان ان 29 ممالک میں سے ایک ہے جہاں سزائے موت رائج ہے، متعدد حکام کا ماننا ہے کہ جرائم کے سدباب کیلئے یہ اہم ضرورت ہے، حالانکہ ڈیڑھ سو ممالک میں یہ سزا کالعدم قرار دی جاچکی ہے۔ اب حکومت نے نئی پالیسی کے تحت سزائے موت پر عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت سے ایسا نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ معروف وکیل عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ یہ سزا بھی امتیازی ہے۔
عاصمہ جہانگیر”پاکستانی قوانین کے تحت کسی کو پھانسی کے پھندے سے صرف اسی صورت میں بچایا جاسکتا ہے، جب مقتول کے ورثاءخون بہاءلینے پر تیار ہوجائیں، تاہم یہ بیشتر مجرموں کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ غریب ہوتے ہیں اور وہ یہ رقم ادا نہیں کرپاتے، جس کی وجہ سے انہیں لٹکا دیا جاتا ہے۔ تو یہ امتیازی قانون صرف امیر افراد کیلئے مددگار ثابت ہوتا ہے، جو خون بہاءادا کرکے رہائی حاصل کرلیتے ہیں اور صرف غریب ہی لٹکا دیئے جاتے ہیں۔ اس قانون سے جرائم کی شرح پر قابو نہیں پایا جاسکتا”۔
وزارت داخلہ نے چار سو سزائے موت کے قیدیوں کا فیصلہ جلد کرنے کیلئے درخواست صدر کو ارسال کردی ہے۔ تاہم وکیل ظفراللہ خان نے اس سزا کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔
ظفراللہ خان”قانونی طریقہ کار میں خامی ہسکتی ہے، جبکہ ملک میں کرپشن بھی بہت ہے۔ اگرچہ ملک میں کرپشن نہیں ہونی چاہئے مگر کیا حکومت اس سے انکار کرسکتی ہے؟ اگر غلط مقدمات درج کرنے کے بعد ان کی سماعت کے دوران غلط فیصلے ہوجائیں تو پھر کیا کیا جائے؟”
ماہ رمضان کے دوران پاکستان میں کسی قیدی کو پھانسی پر نہیں لٹکایا جاتا، جبکہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت کیس بھی کچھ قیدیوں کیلئے امید کی کرن ہے۔