بھارت کے شہر بھوپال میں 1984ءکے گیس سانحے کے متاثرین کی مہم کو اس وقت دھچکہ لگا جب نیویارک کی وفاقی عدالت نے امریکی کمپنی Union Carbide اور اس کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر Warren Anderson کیخلاف دائر مقدمہ خارج کردیا۔اس فیصلے کے بعد سے بھوپال میں مظاہرے جاری ہیں اور متاثرین کی جانب سے زرتلافی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
بھوپال شہر میں درجنوں مشتعل افراد 1984ءمیں گیس لیک ہونے کے باعث پیش آنیوالے سانحے پر امریکی عدالتی فیصلے پر احتجاج کررہے ہیں۔ شہر میں مارچ کرتے ہوئے یہ لوگ نعرے لگا رہے ہیں کہ ہم بھیک نہیں اپنے حقوق مانگ رہے ہیں، جبکہ ان کے ہاتھوں میں موجود بینرز میں لکھا ہے کہ ہمیں انصاف چاہئے یا Warren Anderson کو گرفتار کیا جائے۔ 55 سالہ عقیلہ بیگم میں مظاہرین میں شامل ہیں۔
عقیلہ(female)“عدالتی فیصلے نے ثابت کردیا ہے کہ غریب اور عام افراد کی کوئی اہمیت نہیں۔ انکے ساتھ کیڑے مکوڑوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، انہیں انصاف اس لئے نہیں ملتا کیونکہ عدالتیں بااثر اور امیر افراد کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں”۔
امریکی عدالت میں یہ مقدمہ سماجی کارکنوں کے ایک گروپ کی جانب سے گیس سانحے کے متاثرین کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔مقدمے میں امریکی کمپنی Union Carbide اور اس کے سابق سی ای او وارن اینڈرسن پر اس سانحے کی ذمہ داری عائد کی گئی تھی، تاہم عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ Union Carbide یا وارن اینڈرسن اس سانحے اور اس کے اثرات کے ذمہ دار نہیں۔ قانونی جنگ لڑنے والے سماجی کارکن اس فیصلے کو غیرمتوقع نہیں قرار دیتے،Satinath Srangi ایک این جی او Bhopal Group of Information and Action کے رکن ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ امریکی جج مقدمے کے آغاز سے متعصبانہ روئیے کا مظاہرہ کررہا تھا۔
(male) Satinath Srangi “درحقیقت ہمیں اسی فیصلے کی توقع تھی، کیونکہ 1999ءمیں جب ہم امریکی عدالت میں گئے تھے، جج John Keenon نے ہماری درخواست کو تین بار رد کیا اور ہر بار ہم نے نئے نکات اٹھا کر دوبارہ اپیل کی۔ اب چوتھی بار ایسا ہوا ہے تو ہم ایک بار پھر سرکٹ کورٹ میں اپیل دائر کریں گے”۔
تاہم قانونی ماہر Ravi Batra جج کا دفاع ان الفاظ میں کررہے ہیں۔
(male) Ravi Batra “جج John Keenon نے اپنا فیصلہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر دیا۔جج شواہد کو دیکھ کر ہی فیصلے دیتے ہیں، اور جیسے شواہد ہوں گے وہ ویسا ہی فیصلہ سنائیں گے”۔
گیس سانحے کا سبب بننے والا پلانٹ اب ایک اور امریکی کمپنی Dow Chemicals کی ملکیت بن چکا ہے، اس نے پلانٹ کو صاف کرنے سے انکار کردیا ہے، حالانکہ وہاں اب بھی ہزاروں ٹن زہریلا مواد موجود ہے۔ نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے ادارے Centre for Science and Environment نے حال ہی میں اپنی ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ یہ زہریلا مواد شہر کی زمین اور پانی کو بھی زہریلا کررہا ہے۔ Sunita Narain اس تحقیقی ٹیم کی قائد تھیں۔
(female) Sunita Narain “ہم نے وہاں بہت زیادہ شرح میں زہریلا مواد پایا ہے، وہاں مرکری اور کیڑے مار ادویات کے بہت زیادہ اثرات پائے گئے ہیں، اس کے علاوہ ہم نے اپنی تحقیق کے دوران زیرزمین پانی میں اس زہریلے مواد کے آثار ڈھونڈے ہیں۔یہ بالکل ناقابل برداشت امر ہے اور Dow Chemicals کی یہ دلیل ناقابل قبول ہے کہ وہ اس کی ذمہ دار نہیں”۔
امریکی عدالت نے Union Carbide Corporation کو بری ضرور قرار دیا تاہم اس کی بھارتی شاخ کو اس سانحے کا ذمہ دار بھی قرار دیا۔عدالت کا کہنا ہے کہ Union Carbide Corporation اور وارن اینڈرسن اس سانحے میں براہ راست ملوث نہیں، تاہم سنیئر صحافی Praful Bidwai اس دلیل کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔
(male) Praful Bidwai “ہر آپریشنل فیصلہ، کیڑے مار ادویات بنانے اور ان کے ذخیرہ کرنے کی تعداد کا فیصلہ، انہیں درآمد یا برآمد کرنے سے متعلق براہ راست Union carbide کی ہانگ کانگ شاخ نے کیا، جس کا مطلب ہے کہ اس سانحے کی سو فیصد ذمہ داری Union carbide پر عائد ہوتی ہے”۔
Chandra Bhushan، Centre for Science and Environment کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ بھوپال پلانٹ کے ڈیزائن میں غلطیاں تھیں جسکے باعث یہ سانحہ پیش آیا۔
چندرا بھوشن(male)“یہ بات واضح ہے کہ اس سانحے کی وجہ غلط ڈیزائن اور Union Carbide کی جانب سے زہریلے فضلے کو ٹھکانے لگانے کی سفاکانہ پالیسی تھی۔ اس فضلے کو ٹھکانے لگانے کیلئے بنائے جانے والے تالاب کا نظام بہت خراب تھا، اس وقت بھارت میں اس حوالے سے قوانین بھی موجود نہیں تھے، حالانکہ امریکہ میں اس طرح کے پلانٹس کیلئے قوانین موجود تھے جہاں فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے زیادہ بہتر نظام کی پابندی عائد تھی۔ اس چیز سے union Carbide کے مالکان کا دوہرا معیار ثابت ہوتا ہے جو امریکہ میں تو تمام تر حفاظتی اقدامات پر عمل کرتے تھے مگر بھوپال میں انتہائی خراب پلانٹ تعمیر کرایا”۔
مرکزی حکومت نے حال ہی میں ایک جرمن کمپنی کو بھوپال میں موجود زہریلا مواد ٹھکانہ لگانے کا ٹھیکہ دیا ہے، جس کے اخراجات وہ Dow Chemicals سے لینے کی کوشش کررہی ہے۔تاہم متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو سب سے پہلے متاثرین پر توجہ دینی چاہئے۔ Hartosh Singh Bal ایک جریدے اوپن میگزین کے سیاسی ایڈیٹر ہیں۔
(male) Hartosh Singh Bal “متاثرین کو طبی سہولیات کی فوری ضرورت ہے، انہیں صاف پانی کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ انہیں زہریلے مواد کے اثرات سے بچانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہم تعمیر نو اور زرتلافی کی بات کرسکتے ہیں۔ یہ لوگ 25 برس سے زرتلافی کی صحیح رقم کا انتظار کررہے ہیں، وہ اس حوالے سے مزید انتظار بھی کرسکتے ہیں، مگر پانی اور طبی سہولیات کی انہیں فوری ضرورت ہے”۔