صدر پاکستان آصف علی زرداری نے گزشتہ دنوں بھارت کا تاریخی دورہ کیا، وہ سات برسوں میں بھارت جانے والے پہلے پاکستانی سربراہ مملکت تھے۔اگرچہ یہ ایک نجی دورہ تھا تاہم انھوں نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے بھی ملاقات کی،مگر اس دورے پر حافط سعید کا معاملہ ہی چھایا رہا،
یہ بھارتی شہر اجمیر کا وہ مزار ہے جہاں پاکستانی صدر آصف علی زرداری اپنی منت پوری کرنے کیلئے آئے۔ یہاں اہم شخصیات کے تاثرات جاننے کے لئے موجود کتاب میں آصف زرداری نے اپنے کلمات میں پاکستان اور بھارت سمیت پوری دنیا میں امن کی خواہش کا اظہار کیا۔صدر اپنے بیٹے بلاول کے ہمراہ یہاں آئے۔ سات برس قبل ان کی اہلیہ اور سابق وزیراعطم بے نطیر بھٹو نے بھی اسی طرح کا دورہ کیا تھا۔ انیس کپتان خواجہ معین الدین چشتی کے مزار کے عہدیدار ہیں۔
انیس کپتان(male) “ہمیں وہ وقت ابھی بھی بالکل اچھی طرح یاد ہے۔ ہم نے ان کے تاثرات کتاب میں درج کرائے اور چند تصاویر بھی لیں۔ وہ ہمارے لئے بہت خوبصورت تجربہ تھا”۔
صدر زرداری کے اس دورے کو نجی اور روحانی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود انھوں نے طہرانے پر بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں حالیہ دنوں میں بہتری آئی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ اچھا ہوگیا ہے۔ پاکستانی صدر کا موجودہ دورہ بھی ایک دوسرے پر الزامات کے سائے میں ہوا، کیونکہ چند روز قبل ہی امریکی حکومت نے پاکستانی مذہبی رہنماءحافط محمد سعید کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کردیا تھا۔حافظ سعید لشکر طیبہ کے بانی ہیں، جس پر بھارت نے 2008ءکے ممبئی حملے کرانے کا الزام عائد کیا ہے۔وکٹوریہ نولینڈ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیں
نولینڈ(female) “ہم نے یہ اقدام ممبئی واقعے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے کیا ہے”۔
بھارت نے امریکی اعلان کا خیرمقدم کیا، کیونکہ اس نے طویل عرصے سے حافظ سعید کو اپنا مطلوب ترین ملزم قرار دے رکھا ہے۔پی چدم برم بھارت کے وزیر داخلہ ہیں۔
چدم برم(male) “اس اعلان کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ اب ہم پاکستانی حکومت پر عملی اقدامات کرنے کیلئے دباﺅ ڈال سکتے ہیں، اور مجھے توقع ہے کہ ہمارے دباﺅ ڈالنے پر پا کستان اقدامات کرنے پر مجبور ہوجائے گا”۔
بھارت کا کہنا ہے کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ حافط سعید ممبئی حملوں میں ملوث ہیں۔پی چدم برم کا کہنا ہے کہ یہ شواہد پاکستان کو دیدئیے گئے ہیں۔
چدم برم(male) “ہم نے 26 اگست 2009ءکو ایک دستاویز دیا تھا جو ممبئی حملوں میں حافط سعید کے کردار کے حوالے سے تھا، ہم نے ان کی چند پرنفرت تقاریر بھی ایک سی ڈی کے ذریعے دیں۔ ہم نے حافط سعید کی سرگرمیوں کی معلومات جمع کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور ہمارا خیال ہے کہ یہ شواہد انہیں قید کرنے کیلئے کافی ہیں، تاہم پاکستان اس سے انکار کرتا رہا ہے اور میرے خیال میں وہ آئندہ بھی ایسا کرتا رہے گا”۔
عالمی دباﺅ پر پاکستان نے حافط سعید کو دوبار گرفتار کیا اور مقدمہ چلایا، مگر ناکافی شواہد کی بناءپر انہیں رہا کرتے ہوئے حکومت پر ڈیڑھ سو ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کردیا۔ طلعت مسعود پاکستانی دفاعی تجزیہ کار ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بھارتی شواہد قانونی طور پر مستند نہیں۔
مسعود(male) “درحقیقت یہ انٹیلی جنس رپورٹس ہیں اور آپ کو معلوم ہی ہوگاکہ اس طرح کی رپورٹس عدالتوں میں تسلیم نہیں کی جاتیں۔ پاکستانی حلقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ بھارت ٹھوس شواہد فراہم کرنے کے حوالے سے زیادہ سنجیدہ نہیں، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو سیاست زدہ کررہا ہے”۔
اجمل قصاب وہ واحد حملہ آور تھا جسے بھارتی پولیس نے ممبئی حملوں کے دوران زندہ پکڑا، اسے سزائے موت سنائی جاچکی ہے، جس کے خلاف اس کی اپیل کی سماعت جاری ہے۔موجودہ امریکی اعلان کے بعد اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد حال ہی میں تعلقات بہتر ہونا شروع ہوئے اور تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے اور ویزہ قوانین میں نرمی کے معاہدے ہوئے۔ سندیپ ڈکشٹ بھارتی روزنامے دی ہندو کے خارجہ امور کے ایڈیٹر ہیں۔
ڈکشٹ(male)“امریکہ کی جانب سے یہ اعلان آصف علی زرداری کے دورے کو خراب کرنے کی دانستہ کوشش تھی۔ بھارت نے پاکستانی صدر کو بات چیت کیلئے دعوت دی، تاہم امریکہ نے اس امن عمل کو خراب کرنے اور پاکستان کو دباﺅ میں لانے کی کوشش کی، کیونکہ وہ نیٹو سپلائی کھولنے کیلئے تیار نہیں ہورہا۔یہ دھیان میں رہے کہ حافظ سعید نیٹو سپلائی کی بحالی کیخلاف مہم چلارہے ہیں”۔
یہ واضح نہیں کہ اس امریکی اعلان سے کیا چیز حاصل کی جاسکی ہے کیونکہ حافظ سعید پاکستان میں آزادانہ گھوم رہے ہیں اور کھلے عام میڈیا میں آکر امریکہ کو بتارہے ہیں کہ اس وقت وہ کہاں ہیں۔حافط سعید کا معاملہ پاک بھارت رہنماﺅں کی ملاقات کے درمیان بھی زیربحث آیا۔ Ranjan Mathia بھارتی سیکرٹری خارجہ ہیں۔
(male) Ranjan Mathia “دونوں رہنماﺅں نے دہشتگردی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا، جو کہ مرکزی مسئلہ ہے۔ اسی چیز سے بھارتی عوام باہمی تعلقات کی پیشرفت کو جانچتے ہیں۔ وزیراعظم من مو ہن سنگھ نے صدر زرداری کو بتایا کہ ممبئی حملوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اور پاکستانی سرزمین کو بھارت کیخلاف استعمال ہونے سے روکنا تعلقات بہتر بنانے کیلئے ضروری شرط ہے”۔
صدر زرداری نے من موہن سنگھ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی، جو انھوں نے قبول کرلی۔ تاہم متعدد بھارتی سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ من موہن سنگھ اپنے دورے کو ملتوی کردیں، کم از کم حافظ سعید کیخلاف پاکستان کی جانب سے کارروائی تک تو وہ اس دورے کا انعقاد نہیں چاہتے۔تاہم کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی مخالفت کرنے کی بجائے اس کا ساتھ دینا چاہئے۔ Manishankar Aiyer بھارتی حکمران جماعت کانگریس سے تعلق رکھتے ہیں، وہ پاکستان میں بھارت کے سابق سفیر بھی رہ چکے ہیں۔
(male) Manishankar Aiyer “ہمیںسمجھنا ہوگا کہ پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا ہدف بنا ہے۔ جب یہ حقیقت پسندی فروغ پائے گی تو میرا خیال ہے کہ ہم پاکستان میں موجود دہشتگر د عناصر سے ملکر کر نمٹ سکیں گے،یہ ایک دوسرے کی مخالفت سے نہیں بلکہ تعاون سے ہی ہوسکتا ہے”۔