چین نے اپنی صدیوں پرانی ادویات کی افادیت جانچنے کیلئے آسٹریلین یونیورسٹی کو تحقیق کیلئے لاکھوں ڈالرز دیئے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سائنس کی دنیا میں روایتی چینی ادویات کیلئے کوئی جگہ نہیں، مگر ماہر طب ڈیوڈ ایڈیلسن اس بارے میں کچھ شبہات رکھتے ہیں۔
“بالکل، بالکل، مگر آپ کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مغربی ادویات کی تیاری میں وہی پودے اور اجزاءاستعمال کئے جاتے ہیں جو ہربل ادویات میں ہوتے ہیں”۔
پروفیسر ڈیوڈ کی تحقیق میں چینی ادویات میں عام استعمال ہونے والے دو پودوں کا جائزہ لیا گیا، ان میں سے ایک ہوانگ کی ہے جو معدے اور جگر کے کینسر کے مریضوں کے علاج کیلئے استعمال ہوتا ہے، جبکہ دوسر کو شِن ذیابیطس ٹائپ ٹو وغیرہ کیلئے کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
ڈیوڈ”جہاں تک میری معلومات ہے کہ دنیا میں صرف ایک یا دو ممالک میں ہی اس طرح کی ادویات کو استعمال کیا جاتا ہے، ہم اسے بائیولوجی سسٹم قرار دیتے ہیں جس میں ان ادویات کا مالیکیولر لیول پر جائزہ لیا جاتا ہے، یہی چیز اسے منفرد بھی بناتی ہے”۔
اس تحقیق کا ایک منفرد پہلو یہ تھا کہ اسے فنڈز کس نے دیئے، ایڈیلیڈ یونیورسٹی نے اس تحقیق کیلئے ایک چینی یونیورسٹی اور چینی ادویہ ساز کمپنی کیساتھ معاہدہ کیا، جنھوں نے جنوبی آسٹریلیا میں ایک تحقیقی سینٹر کیلئے پچاس لاکھ ڈالرز سے زائد خرچ کئے، ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر وارن بیبینگٹن کا کہنا ہے کہ یہ چین سے قریبی تعلقات قائم کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات کا حصہ ہے۔
وارن”یہاں چار ہزار طالبعلم تعلیم حاصل کررہے ہیں، اب ہم بیرون ملک اپنا سب سے بڑا مرکز چین میں قائم کررہے ہیں، اگر ہم شنگھائی یا بیجنگ میں یہ مرکز قائم کریں تو وہاں سینکڑوں نوجوان اس کے منتظر ہیں، تو چین ہمارے مستقبل کیلئے بہت اہم ہے، اور یہ ہماری تحقیق کا پہلا قدم ہے”۔
دینا تسی اوپیلاس کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے چینی ادویات کی پریکٹس کررہی ہے، ان کی طلب میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔
دینا”جب میں نے پہلی بار یہ کام شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ تبدریج کی اس مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے، میرے خیال میں اس تحقیق سے لوگوں کو اپنی صحت اور طبی مسائل کے متبادل حل کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا، میں نے چند درد کش ادویات لیں اور اس کا تجربہ کیا، اس سے مجھے صحت کے خیال کے حوالے سے مختلف نظریہ جاننے میں مدد ملی”۔
پاولا ایم سی کارٹرایک دوست کے مشورے پر دینا انکے پاس آئیں۔
پاولا”میں خود کو بہت بیمار، سست، تھکاوٹ کا شکار، کند ذہن اور دماغی طور پر کسی کام کے قابل نہیں سمجھ رہی تھی، اس لئے میں دینا کے پاس آئی اور اب میں پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر محسوس کررہی ہوں، میری توانائی کا ذخیرہ بڑھ گیا ہے، میں زیادہ چوکس ہوگئی ہوں، میری یاداشت بہتر ہوگئی ہے، مجموعی طور پر اب پہلے کے مقابلے میں میری حالت پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہوگئی ہے”۔
جب پاﺅلا نے یہاں آنا شروع کیا تو دینا نے خام ہربل اجزاءسے چائے تیار کرکے انہیں دی، موجودہ دور میں چینی ادویہ ساز کمپنیاں زیادہ منظم ہوگئی ہیں، ذیہن ڈونگ گروپ ایک ایسی ہی کمپنی ہے جو اس تحقیق کے شراکت داروں میں شامل ہے، تاہم پروفیسر ایڈیلسن کا کہنا ہے کہ پیسہ ہماری تحقیق کے نتائج پر اثرانداز نہیں ہوا۔
ایڈیلسن”یہ رقم ہمیں امداد کے طور پر ملی جس سے ہم نے مرکز قائم کیا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کمپنیوں کو ہمارے کام میں دخل اندازی کی اجازت مل گئی۔ ہم شراکت داروں کی حیثیت سے ان کی قدر کرتے ہیں، مگر دن کے اختتام پر سائنس ہی پوری کہانی کو بیان کرتی ہے، اگر یہ ثابت ہوا کہ کوئی چیز کارآمد نہیں، یہ وہ بالکل بیکار ہے تو ہم وہ سچائی کھلے دل سے سب کے سامنے بیان کردیں گے”۔
انکا کہنا ہے کہ یہ مناسب وقت ہے کہ ہزاروں سال پرانی روایتی ادویات کو سائنسی طور پر پرکھا جائے۔
ایڈیلسن”میں ہمیشہ سے متبادل ادویات پر شکوک و شبہات کا شکار رہا ہوں، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر دوائیں کام بھی کرتی ہیں، مگر ہم نہیں جانتی کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، مگر یہ ماننا پڑے گا کہ یہ دوائیں زندگی کے حقائق میں شامل ہیں۔جہاں کہیں بھی آپ جائیں، آپ کو معلوم ہوگا کہ مقامی افراد آپ کو کسی موقع پر کہیں گے اوہ آپ کو زکام ہوگیا آپ کو یہ چیز لینی چاہئے۔ اب وہ چکن سوپ ہو یا کچھ اور، مگر کچھ نہ کچھ خاص مقامی چیز ہی ہوگی ہے، پیچیدہ ادویات عام طور پر کچھ کھانوں سے ہی تیار ہوتی ہیں، اس سے وہ عمل شروع ہوتا ہے تو ہم جیسے سائنسدان اس کا جائزہ کیوں نہیں لے سکتے؟