Tougher Anti-Conversion Law in Madhya Pradesh – بھارتی قانون

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں مذہب تبدیل کرنے کے حوالے سے قوانین کو سخت کردیا گیا ہے،۔اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

سن سائی کاجور،سن گرا گاﺅں کے رہائشی ہیں، گزشتہ سال انکے پاس عیسائی مشنریز نے آکر مذہب تبدیل کرنے کا کہا تھا۔

سن سائی”انکا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی مرض میں مبتلا شخص کا علاج کرسکتے ہیں، میں نے ان سے اپنی بیمار والدہ کا علاج کرنے کا کہا، مگر وہ ایساکرنے میں ناکام ہوگئے۔ اس کے بعد انھوں نے مجھ سے مذہب تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ میری ماں بھی عیسائی بن جائیں تو ان کی علاج زیادہ اچھا ہوسکے گا”۔

تاہمسن سائی کاجور نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ایک دہائی قبل پاس کئے جانے والے ریلیجس فریڈم ایکٹکا مقصد زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کی روک تھام تھا،اس قانون کے تحت مذہب تبدیل کرنے سے پہلے حکومت کو ایک ماہ کا نوٹس دینا پڑتا تھا، جبکہ نئے قانون میں مذہبی عالموں کو بھی اس کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کا پابند بنایا گیا، ورنہ انہیں تین سال قید یا ایک ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنائی جاسکے گی۔ اما شنکر گپتا مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ہیں۔

گپتا”یہ ترمیم مذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام کیلئے ضروری تھی، یہاں ایسے عناصر موجود ہیں جو غریب افراد کو مذہب تبدیل کرنے کے عوض رقم کی پیشکش کرتے ہیں، ہم اس قسم کے ہتھکنڈوں کو روکنا چاہتے ہیں”۔

مدھیہ پردیش کی ایک فیصد سے بھی کم آبادی عیسائی برادری پر مشتمل ہے، اور مئینارٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کے مطابق اس اقلیتی برادری کو حملوں اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

عیسائی تبلیغی اداروں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ قبائلی افراد اور نچلی ذات کے ہندوﺅں کو لالچ اور جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرتے ہیں، رواں برس فروری میں پادری اساق اور ان کے ساتھیوں پر اسی طرح کے الزامات سامنے آئے، تاہم آتل پرتاب نے اپنی مرضی سے عیسائی مذہب قبول کیا ہے۔

آتل”میں ہندو پیدا ہوا، مگر پھر میرا تعلق عیسائیوں سے ہوا، جنھوں نے مجھے حقیقی مذہب کی نشاندہی کرائی، میرے خیال میں یہ پروپگینڈا ہے کہ عیسائی بھارت میں لوگوں کو پیسہ کا لالچ دیکر مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کررہے ہیں”۔

رواں برس عیسائیوں پر نوحملوں کی رپورٹس سامنے آچکی ہیں،آنند متنگل ایک این جی اوکرسچن فیڈریشن کے کوآرڈنیٹر ہیں۔

آنند”ہندو انتہا پسند گروپس قانون میں نئی ترمیم کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں، مذہب کی تبدیلی کے بغیر ہی وہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہمارے خلاف 36 مقدمات درج کراچکے ہیں، جن میں سے دو کو عدالتوں نے مسترد کردیا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم مسلسل خطرے کی زد میں ہیں”

فریڈم آف ریلیجس ایکٹ بھارت کی 28 میں سے چھ ریاستوں میں نافذ ہے، متعدد افراد کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے اکثر اقلیتی گروپس پر حملے ہوتے ہیں۔اوصاف شاہ میرری آل انڈیا مسلم کمیٹی کے صدر ہیں۔

اوصاف”یہ انفرادی سطح پر انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی ہے، ہر ایک کسی بھی مذہب کو قبول کرنے کیلئے آزاد ہے، آخر حکومت یا انتظامیہ کسی کو اپنی پسند کے مذہب کو قبول کرنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟ یہ بھارتی آئین کی مکمل خلاف ورزی ہے”۔

مگر ہندو قوم پرست مذہب کی تبدیلی روکنے کیلئے سخت ترین قوانین چاہتے ہیں، اشوتوش، سخت گیر ہندو گروپ وشوا ہندو پریشدسے تعلق رکھتے ہیں۔

آسوتوش”میرے خیال میں اس قانون کو مزید سخت بنانے کا موقع موجود ہے، اسی طرح ہم مذہب تبدیل کرنے کے رجحان کو روک سکیں گے۔ یہ عیسائی مشنریز اپنی دولت کے ذریعے معصول قبائلی افراد کے مذہب تبدیل کراتی ہیں، ہمیں اس نئے قانون کی حمایت کرنی چاہئے، آخر دولت کے بدلے میں کسی کو مذہب تبدیل کرنے کی کیسے اجازت دی جاسکتی ہے؟ حکومت کو اسے روکنے کیلئے ہرممکن اقدامات کرنے چاہئے”۔

تاہمآنند متنگل کا ماننا ہے کہ یہ نیا قانون آئندہ سال شیڈول انتخابات سے قبل صرف ہندو اکثریت کو مطمئن کرنے کیلئے سامنے لایا گیا ہے۔

آنند”اس وقت اس ترمیم کی کوئی تک سمجھ نہیں آتی، انتخابات جلد ہونے والے ہیں اور یہی اس بل کو متعارف کرانے کی واحد وجہ ہے، اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں صرف ہندوﺅں کی پروا ہے اور حکومت نے عیسائیوں کو اپنا ہدف بنارکھا ہے”۔