صدیوں سے برمی قبیلے پیڈونگ کی لڑکیاں اپنی گردنیں، بازو اور ٹانگیں پیتل کے لچھوں میں پھنسا کر انہیں لمبا کرتے ہیں، تاہم اب نئی نسل یہ بھاری رنگز پہہننے کیلئے تیار نہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ
صدیوں سے لوگ پوچھتے آرہے ہیں کہ آخر پیڈونگ خواتین پتیل کے لچھے یا کڑے اپنی گردنوں کے گرد کیوں چڑھائے رکھتی ہیں، کچھ افراد ان پرانی لوک کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں، جس کے مطابق یہ قبیلہ ڈریگن کی نسل سے تعلق رکھتا ہے اور یہ کڑے خواتین کو اس خیالی درندے جیسا بنادیتے ہیں، دیگر افراد کا کہنا ہے کہ ایسا اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ مخالف قبائل ان کی خواتین کو نہ لے جائیں۔ڈارکلو ہٹو نامی گاﺅں میں خواتین یہ کڑے خوبصورتی کی علامت اور اپنی ثقافتی شناخت کے طور پر دیکھتی ہیں،موو ڈے ان میں سے ایک ہیں۔
موو ڈے”میری ماں کہتی تھی کہ میں پتیل کے یہ کڑے پہنو ورنہ میں رقص کے دوران اپنی سہلیوں کی طرح خوبصورت نہیں نظرآﺅں گی، ہر شخص رقص کے وقت ان کڑوں کو پہنتا ہے اور میں بھی ایسا ہی کرتی ہوں، اس سے مجھے خوشی ہوتی ہے”۔
بیشتر پیڈونگ لڑکیاں پانچ یا چھ سال کی عمر میں تین یا چار کڑے پہننا شروع کرتی ہیں،موو ساکا کہنا ہے کہ جب لڑکیاں اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچتی ہیں تو ان کڑوں کی تعداد پندرہ تک جاپہنچتی ہے۔
مو سا”میں نے یہ کڑے سات سال کی عمر سے اپنی گردن، ٹانگوں اور ہاتھوں پر پہننا شروع کئے تھے۔ اور ان کڑوں کا آخری جوڑا سولہ سال کی عمر میں پہنا تھا”۔
ان کڑوں کی وجہ سے آنکھوں کو لگتا ہے کہ گردنیں غیرمعمولی حد تک لمبی ہوگئی ہیں، مگر درحقیقت یہ کڑے کندھوں اور ہنسلی کی ہڈی کو نیچے دبا دیتے ہیں۔تین کلو تک وزنی یہ کڑے کندھوں اور کمر کو مختلف مسائل میں مبتلا کردیتے ہیں، کیونکہ اس سے ریڑھ کی ہڈی پر دباﺅ بڑھا جاتا ہے۔پیڈونگ خواتین ان کڑوں کے اندر کپڑوں کے ٹکڑے بھی استعمال کرتی ہیں تاکہ ان کی جلد پر اسکی رگڑ سے زخم نہ بن جائیں۔چند دہائی قبل یہ خواتین ان کڑوں کو پہننے پر فخر محسوس کرتی تھیں ۔
اور وہ انہیں ہر وقت چمکاتی رہتی تھیں، مگر موجودہ نسل نے اس روایت سے منہ موڑنا شروع کردیا ہے۔ مووڈےاس بارے میں بتارہی ہیں۔
موو ڈے”موجودہ عہد کے نوجوان بہت پرسکون نظر آتے ہیں، یہ نوجوان اسکولوں یا دفاتر میں بھی فارغ نظر آتے ہیں، مجھے ان کی یہ فارغ البالی دیکھ کر رشک آتا ہے، میں بھی ان کی طرح ان کڑوں سے آزادی چاہتی ہوں، اس عہد کے نوجوان بہت خوش قسمت ہیں”۔
موویی ان کڑوں کی عادی ہیں مگر اب وہ انہیں ہٹانے کے بعد خوش ہیں۔
موویی”میں پہلے چار کڑے استعمال کرتی تھی، مگر میری گردن کے گرد درد رہنے لگا تھا اور میں نے ان کڑوں کو ہٹا دیا، میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے بعد میں انہیں پھر استعمال نہیں کرنا پڑا، ورنہ مجھے یہ بھاری کڑے ہر وقت گردن پر چڑھائے رکھنے پڑے”۔
ڈور کلو ہٹو میں بیس برس قبل تیس خواتین یہ کڑے پہنے نظر آتی تھیں مگر اب یہ تعداد صرف چار رہ گئی ہے۔ صدیوں پرانی یہ روایت لگتا ہے کہ بہت جلد دم توڑ جائے گی۔
تاہم تھائی لینڈ کی جانب دیہات میں سیاحوں کی بڑی تعداد اس علاقے میں زرافہ جیسی گردنوں والی خواتین کو دیکھنے کیلئے آتی ہے، سیاح اس قبائلی زندگی کے انوکھے تجربے سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں، مگر برمی سرحد کے اندر یعنیڈور کلو ہٹومیں زندگی معمول پر نظر آتی ہے، جگہ جگہ سرسبز کھیت لہلہاتے نظر آتے ہیں، مگر لمبی گردنوں والی خواتین کا نظارہ ماضی کا قصہ بنتا جارہا ہے۔موو سا اظہار خیال کررہی ہیں۔
موو سا”اب ہم جیسی عورتوں کی تعداد چند ہی رہ گئی ہے، ہم خود کو تنہا اور بدصورت سمجھنے لگے ہیں، کیونکہ اب ہم یہاں موجود خواتین سے بالکل الگ نظر آتی ہیں”۔