تیمور لیسٹ کو آزادی حاصل کئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا مگر وہاں کی حکومت اپنے شہریوں کے معیار زندگی کو اعلیٰ ترین بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ تاہم بہتر معاشی شرح نمو کے باوجود کافی بڑی آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے، مگر حکومت کو توقع ہے کہ سیاحت کی صنعت کے ذریعے معیار زندگی کو بہتر بنایا جاسکے گا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ریکارڈو زی مینس ماکوئس،باو کاوکے ساحلی علاقے میں رہائش پذیر ہیں، وہ یہاں ایک ریسٹورنٹ میں بطور ویٹر کام کرتے ہیں، یہاں ساحل پر پانی بالکل شفاف ہے جس سے وہاں موجود بحری زندگی اور مونگوں کی چٹانیں بھی بغیر غوطہ لگائے ہی دیکھے جاسکتے ہیں۔
مگر اس جنت نظیر مقام کو دیکھنے کیلئے ایک ہفتے میں اوسطاً صرف 27 افراد ہی آتے ہیں، جس سے ریکارڈو کا اعلیٰ تعلیم کا خواب تعبیر نہیں پاسکا۔
ریکارڈو”میرے والدین کے اتنے وسائل نہیں کہ وہ ہم بہن بھائیوں کو یونیورسٹی بھیج سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنی مدد خود کرنے کا فیصلہ کیا، میں سب سے بڑا ہوں اسی لئے میں بہت محنت کررہا ہوں تاکہ اپنا خواب پورا کرسکوں”۔
ریکارڈو ایک کمیونٹی پروگرام کا حصہ ہیں، جس کے تحت پندرہ افراد کو ملازمت دی گئی ہے، یہ پروگرام دو سال قبل شروع کای گیا تھا تاکہ اس علاقے میں سیاحت، ماہی گیری اور زراعت کو فروغ دیا جاسکے۔ اس پروگرام کے روح رواں 42 سالہ کیون آسٹن ہیں، جو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے سابق مشیر بھی رہ چکے ہیں۔تاہم ان کیلئے اس کام کا آغاز آسان ثابت نہیں ہوا۔
کیون”ابتدائی طور پر ہمیں کافی عوامی بداعتمادی کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً ان لوگوں کی جانب سے جو تحریک آزادی کا دل سمجھے جاتے تھے”۔
کیون اس پروگرام کے ذریعے لوگوں کو مختلف تیکنیکی صلاحیتیں سیکھاتے ہیں، انھوں نے ساڑھے چار ہزار ڈالرز سے کام شروع کیا، جو ایک چھوٹے ریسٹورنٹ کو قائم کرنے کیلئے کافی ثابت ہوئے۔
گزشتہ برس اس ملک سے جانے سے قبل اقوام متحدہ کے عہدیداران اور ماہرین نے ساحلی علاقوں کا دورہ کیا، اور ابھی بھی اگرچہ سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم کیون اسے مستقبل میں ترقی کا اہم ذریعہ مانتے ہیں۔
کیون”یہاں کے لوگ پہلے مختلف شعبوں میں مہارت نہیں رکھتے تھے، ان ساحلی علاقوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں، بلکہ یہاں کے لوگوں کو تجربے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سیاحوں کو بہتر سہولیات فراہم کرسکیں اور یہاں اپنی رقم اطمینان سے خرچ کرسکیں”۔
مگر انفراسٹرکچر ایک بہت بڑا چیلنج ہے، باو کاوکے ساحلی علاقوں میں گاڑی کے ذریعے پہنچنے میں خراب سڑکوں کی وجہ سے گھنٹوںلگ جاتے ہیں، مگر حکومتی وعدہ ہے کہ انفراسٹرکچر کو بحال کرکے ملک کو ایک سیاحتی مقام بنایا جائے گا۔سیکرٹری ثقافت ماریہ ایسا بیل کا کہنا ہے کہ حکومت کو توقع ہے کہ وہ تمور کو معروف ایڈونچر سیاحتی مقام بنانے میں کامیاب رہے گی۔
ماریہ”اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم فور یا فائیو اسٹار ہوٹلز نہیں چاہتے، مگر ہم اپنے ملک کے فطری نظارے دنیا کو دکھانے کے زیادہ خواہشمند ہیں، ورنہ لوگ بالی جاتے رہیں گے، جہاں ہر چیز موجود ہے۔ وہاں سیون اسٹار ہوٹل موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں مہم جوئی پر مبنی سیاحت کے فروغ دینا چاہتےہ یں جہاں سیاح مقامی برادری سے بات چیت کرسکیں اور ان کے طرز زندگی کو دیکھ سکیں”۔
تی مو ر لیسٹ قدرتی خوبصورتی سے مالامال ملک ہے۔خام تیل و گیس کی بدولت حالیہ معاشی ترقی کے باعث متعدد حلقوں کا خیال ہے کہ سیاحت کے بارے میں حکومتی خواب تعبیر پاسکتا ہے۔ ماہر معاشیات ہنس بینک اس بارے میں اظہار خیال کررہے ہیں۔
ہنس”یہ ملک صرف دس سال کا ہوا ہے اور اس نے اپنی ترقی کا سفر شروع کردیا ہے، تحقیق ظاہر کرتی ہے ممالک میں آزادی کے بعد اداروں اور معیشت کو صحیح معنوں میں تشکیل دینے میں پندرہ سے تیس برس لگ جاتے ہیں، تو میرے خیال میں تو تمور نے کافی بہترین کام کیا ہے”۔
مگر متعدد افراد جیسے ریکارڈو کو توقع ہے کہ ترقی کی شرح میں تیزی دیکھنے میں آئے گی۔
ریکارڈو”حکومت اپنے وسائل کے مطابق سب کچھ کررہی ہے، سیاحت بہت خاص شعبہ ہے، حکومت کو اسے اولین ترجیح دینی چاہئے، مگر دیانتداری سے بات کی جائے تو ہم جاتے ہیں کہ تمور کتنا نوجوان ملک ہے، ہمیں دیگر ممالک کے تجربات سے سیکھنا چاہئے”۔