افغانستان بھر میں ایک ہزار سے زائدطالبات کو گزشتہ چند ماہ کے دوران زہریلے مواد کا نشانہ بنایا گیا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان یہ کام کررہے ہیں، صوبہ Takhar اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
بیس سالہ صدیقہ کو اس وقت ہنگامی طور پر ہسپتال لیکر جانا پڑا جب وہ اچانک اسکول میں بے ہوش ہوگئی۔
صدیقہ صوبہ Takhar کے شہر Taliqan کے گرلز ہائی اسکول میں 12 ویں جماعت کی طالبہ ہے۔
صدیقہ(female) “ہم اس وقت کلاس میں تھے اور اساتذہ کمرے سے جاچکے تھے۔ میں بھی کمرے سے باہر نکل رہی تھی کہ مجھے لگا جیسا کسی نے پرفیوم چھڑکا ہو، اور پھر میں اچانک زمین پر گرگئی۔ میں نہیں جانتی کہ مجھے کیا ہوا تھا، جب میں ہوش میں آئی تو میں ہسپتال میں تھی۔میں نے اپنی ساتھی طالبات کو اپنے بستر کے ارگرد کھڑے دیکھا۔ ڈاکٹروں نے مجھے ادویات دیں اور بتایا کہ میری بیماری کی وجہ کسی زہریلی چیز کو سونگھنا ہے”۔
یہ افغانستان میں کسی طالبہ پر زہر سے حملہ کرنے کا پہلا واقعہ تھا مگر آئندہ چند روز میں صدیقہ کے اسکول میں ایک سو ساٹھ طالبات پر اس طرح کے حملے ہوئے، صوبے کے دیگر اسکولوں میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آئے۔ شفیقہ بی بی ہاجرہ اسکول کی طالبہ ہے، اسے جون کے شروع میں زہر کا نشانہ بنایا گیا۔ نفیسہ صالحی شفیقہ کی والدہ ہیں۔انکا کہنا ہے کہ یہ واقعات روکے نہیں گئے تو لڑکیوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
نفیسہ(female) “ہم آئندہ اپنی بچیوں کو اس وقت تک بے فکری سے نہیں بھیج سکتے، جب تک پولیس شرپسندوں کو گرفتار نہیں کرلیتی۔ ان ملزمان کو سرعام سزا دی جانی چاہئے تاکہ آئندہ کبھی اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پولیس اور حکومت کرپٹ ہے وہ رشوت لیکر ملزمان کو چھوڑ دیتے ہیں”۔
حکومت کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف عناصر ان حملوں کے پیچھے ہیں، افغان انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ جسے National Directorate of Security یا این ڈی ایس کا کہا جاتا ہے، نے اعلان کیا ہے کہ اب تک ان حملوں میں ملوث پندرہ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ان میں ایک طالبان کمانڈر سمیت کئی طالبعلم اور ایک اسکول لائبریرین بھی شامل ہے۔ لطف اللہ مشعل این ڈی ایس کے ترجمان ہیں۔
لطف اللہ” Mawlawi Najibullah (male) طالبان دور میں صوبہ Takhar میں گورنر تھا، اس نے دو طالبعلموں کوزہریلا اسپرے اور سفوف فراہم کیا اور ایک ہزار ڈالر دیئے۔ ان طالبعلموں کو اسکول میں ہر جگہ جانے کی آزادی تھی، جب ان لڑکوںنے یہ اسپرے کیا تو اس سے نکلنے والی زہریلی گیس سے طالبات متاثر ہوئیں۔ اسی طرح زہریلے سفوف کو پانی میں ملادیا گیا، جس کے باعث پانی پینے والی طالبات متاثر ہوئیں۔ اب تک ہم نے ان حملوں میں ملوث تین خواتین اور بارہ مردوں کو گرفتار کیا ہے”۔
طالبان نے اپنے بیان میں ان الزامات کو مسترد کردیا ہے، تاہم این ڈی ایس کا اصرار ہے کہ ان حملوں کے پیچھے طالبان تحریک میں شامل دو چھوٹے گروپس Mahaz-e-Dadullah اور Uzbekistan Jondullah ملوث ہیں۔
لطف اللہ(male) “ان حملوں کی سازش پاکستانی علاقے میران شاہ میں تیار ہوئی،جو شخص پاکستان سے زہر لیکر یہاں آیا وہ Mawlawi Najeebullah تھا، جسے ہماری فورسز نے گرفتار کرلیا ہے”۔
دیگر صوبوں میں بھی یہ حملے ہوئے مگر سب سے متاثر صوبہ Takhar ہی ہوا، ان حملوں میں جو زہر استعمال کیا گیا اس سے سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے، سردرد ہوتا ہے اور قے آنے لگتی ہے، مگر اب تک ان حملوں سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔Soraya Dalil افغان وزیر صحت ہیں، انکا کہنا ہے کہ زہر کا اثر تھوڑی دیر کیلئے ہوتا ہے۔
female) Soraya Dalil) “اس زہر سے موت، مستقبل نفسیاتی مسائل یا کسی قسم کی معذوری نہیں ہوتی۔ بچیوں کو بس کچھ دن کی بیماری کا تجربہ ہوتا ہے، یہ طالبان کی تازہ ترین حکمت عملی ہے تاکہ ہماری بیٹیوں کو اسکولوں میں جانے سے روکا جاسکے۔ میں چاہتی ہوں تمام اساتذہ، طالبات اور والدین اس کے خلاف جدوجہد کریں اور لڑکیوں کو اسکول بھیجنے سے نہ روکیں”۔
حکومت کی جانب سے طالبات کی اسکول واپسی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، تاہم اٹھارہ سالہ انوشہ کا کہنا ہے کہ اس کی چند سہلیاں بہت خوفزدہ ہیں۔
انوشہ(female) “میری زیادہ تر سہلیاں اب صحت یاب ہوچکی ہیں مگر وہ اب تک ذہنی طور پر پریشان ہیں۔ اس زہر کے ڈر سے وہ اب اسکول جانے کیلئے تیار نہیں، ہم نے سنا ہے کہ حکومت نے چند ملزمان کو گرفتار کیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ انہیں زندگی بھر کیلئے قید کی سزا سنائی جائے۔ اگر حکومت ایسا کرے تو اس سے دیگر شرپسند عبرت پکڑیں گے”۔