آج کل کے دور میں ٹیلی ویژن تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ،جس کے ذریعے ہم گھر بیٹھے سینکڑوں چینلز کے ذریعے حالات حاضرہ سے بھی آگاہ رہتے ہیں اور اپنے فارغ وقت میں مختلف ڈراموں ،فلموں اور مزاحیہ پروگراموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ٹیلی ویژن کے علاوہ ایک اور شعبہ بھی ہے جس کے ذریعے بھی ہم ڈراموں اور مزاحیہ پروگراموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ،اور وہ ہے اسٹیج یاا تھیٹر۔خواتین جہاں ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں وہیں اسٹیج پر بھی اپنی اداکارانہ صلاحیتوں سے حاضرین کے دل موہ لیتی ہیں ،نادیہ علی ایک اسٹیج اداکارہ ہیں ،ان کے مطابق وہ اس شعبے کو پسند نہیں کرتی تھیں لیکن بعد میں انہوں نے اس شعبے کا مستقل طور پر انتخاب کیا،ان کا فیصلہ کیوں تبدیل ہوا ،اس بارے میںنادیہ علی کا کہنا ہے،
اسٹیج ڈراموں کے حوالے سے ایک بڑی شکایت یہ آتی رہتی ہے کہ اب ان ڈراموں کا معیار بہت حد تک گر چکا ہے اور ماحول بہت خراب ہو چکا ہے ،اس بارے میں نادیہ علی کیا کہتی ہیں ،آئیے سنتے ہیں۔
میگھا اسٹیج ڈراموں کی پرانی اداکارہ ہیں،ان کے مطابق بعض اسٹیج اداکارائیں سستی شہرت حاصل کرنے لئے فحاشی کا سہارا لیتی ہیں،لہٰذہ اسٹیج ڈراموں کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے فحش کردار ادا کرنے والی اداکاراﺅں پر پابندی لگانی چاہئے اور اسٹیج اداکاراﺅں کی تربیت کے لئے اکیڈمیوں کا قیام اور تربیت فراہم کی جائے ،جبکہ حکومتی سرپرستی کی بہت زیادہ ضرورت ہے،
آج کل کے اسٹیج ڈراموں میں رقص اب ایک لازمی حصہ بن چکا ہے،رقص کے بغیر اسٹیج ڈرامے ادھورے محسوس ہوتے ہیں،اس بارے میں نادیہ علی کا کہنا ہے،
لیکن اسٹیج ڈراموں میں جو آج کل جو رقص پیش کیا جاتا ہے وہ رقص کے نام ایک دھبہ ہے ،اسٹیج ڈراموں میں پیش کئے جانے والے رقص کو رقص کا نام دیا جائے یا نہیں اس بارے میں میگھا کہتی ہیں،
رضیہ ملک پچھلے 20 سال سے پاکستان کے نامور اجوکا تھیٹر سے وابستہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اسٹیج رقاصاﺅں کی وجہ سے اسٹیج تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔
اسٹیج ڈرامے حاضرین کو ایک سستی اور دلچسپ تفریح فراہم کرتے ہیں ،ڈیجٹیل میڈیا کا دور آنے سے پہلے اسٹیج ڈراموں کو ہی اظہار کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا،اور اب بھی اس کی اہمیت اسی طرح برقرار ہے،خواتین اداکاراﺅں کی شرکت کے بغیر اسٹیج ڈراموں کی کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ،لہٰذہ اس حوالے سے بھی خواتین کی ضرورت و اہمیت کا تسلیم کرتے ہوئے ان کی تربیت کے لئے نہ صرف اکیڈمیوں کا قیام ضروری ہے بلکہ ایک اچھا ماحول فراہم کرنا بھی اسٹیج منتظمین اور حکومت کی ایک بڑی ذمہ داری ہے،تا کہ حاضرین کے ساتھ ساتھ خواتین اداکارائیں بھی اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو مثبت انداز سے استعمال کر سکیں۔