تھائی لینڈ میں پہلی بار عالمی بدھ فلم فیسٹیول کا انعقاد کیا جارہا ہے
Santi Opaspakornkij، عالمی بدھ فلم فیسٹیول کے ڈائریکٹر ہیں۔
(male) Santi Opaspakornkij “رواں برس تھائی لینڈ اور جنوب مشرقی ممالک میں مہاتما بدھ کے افکار کی روشنی کو 2600 سال مکمل ہوگئے ہیں، اس چیز کو دیکھتے ہوئے ہم نے اس موقع کیلئے کچھ خصوصی کام کرنے کا فیصلہ کیا”۔
وہ مزید بتارہے ہیں۔
(male) Santi Opaspakornkij “فلم فیسٹیول کے انعقاد کا ایک مقصد مہاتما بدھ کے افکار اور بدھ مت کے حوالے سے لوگوں کی سوچ میں کشادگی لانا ہے”۔
اس فیسٹیول میں تیس فلموں کی نمائش کی جارہی ہے، جو تھائی لینڈ، بھوٹان، نیپال، بھارت، جاپان، فرانس، چین اور ارجنٹائن وغیرہ میں تیار ہوئی ہیں۔Gaetana Kazuo Maida فیسٹیول کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔
(male) Gaetana Kazuo Maida “یہ فلمیں دنیا بھر سے آئی ہیں، ہم ڈرامائی، مزاحیہ، کارٹون اور دیگر فلموں کے ساتھ ساتھ دستاویزی فلمیں بھی فیسٹیول میں دکھائیں گے۔ ہم چند تجرباتی فلموں کی بھی نمائش کریں گے”۔
انکا کہنا ہے کہ ان فلموں کا مقصد لوگوں کو بدھ مت قبول کرنے پر مجبور کرنا نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس مذہب کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔
(male) Gaetana Kazuo Maida “ہم سینما کے ذریعے عالمی برادری کی بدھ مت کے حوالے سے سوچ کو کشادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہمیں توقع ہے کہ ان فلموں کے ذریعے ہم لوگوں کو مختلف انداز سے سوچنے پر مجبور کردیں گے۔ ہم لوگوں کو بدھ مذہب میں لانے کی کوشش نہیں کررہے، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ اس مذہب کے بارے میں جانے اور بدھ مت کے ماننے والوں کے حوالے سے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں”۔
نمائش میں پیش کی جانے والی ایک فلم 1925ءمیں بھارت میں تیار کی گئی تھی، جس کا نام The Light of Asia ہے، یہ پہلی فلم تھی جس میں مہاتما بدھ کی زندگی کا احوال پیش کیا گیا تھا۔ جاپان سے ایک پرانی فلم The Book of the Dead نمائش میں بھیجی گئی ہے، جبکہ ایک نوجوان جاپانی فلمساز Naoki Kato اپنی فلم Abraxas کے ساتھ فیسٹیول میں شریک ہوئے ہیں۔
نیپالی فلمساز Tsering Rhitar Sherpa کی فلم Karma میں ایک تبتی خاتون کی داستان بیان کی گئی ہے جو کھٹمنڈو سے اپنا روحانی سفر شروع کرتی ہے۔ Tsering Rhitar اپنی فلم کے بارے میں بتارہے ہیں۔
(male) Tsering Rhitar “اپنی فلم کے اندر میں نے اس سوال کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جو بیشتر بدھ مت ماننے والوں کے ذہنوں میں گردش کرتا ہے۔ یہ سوال روحانیت کے حوالے سے ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے روحانی سفر کا احوال پیش کرنے کی کوشش کی ہے، میری پوری فلم اسی سفر کے گرد گھومتی ہے”۔
فلم میں اس بدھ خاتون کا سفر اس وقت حیرت انگیز ہوجاتا ہے جب اس کا رابطہ بیرونی دنیا سے ہوتا ہے۔
(male) Tsering Rhitar “اس سفر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بھکشو خاتون دنیا کو کس طرح دیکھتی ہے، فلم میں بھکشو خاتون Karma جس نے کبھی اپنے بدھ مندر سے باہر کا سفر نہیں کیا تھا، نے باہر کی دنیا کا سفر شروع کیا تو وہ اس کے لئے حیرت انگیز ثابت ہوا، فلم کے اختتام میں یہ خاتون انتہائی امیر بن جاتی ہے”۔
وہ مزید بتارہے ہیں۔
(male) Tsering Rhitar “فلم میں خاتون بھکشو کی ملاقات متعدد مذہبی گروپس سے ہوتی ہے، اس وقت نیپال میں سب سے بڑا مسئلہ مختلف مذاہب کو آئین کے تحت دیئے جانے والے حقوق اور ذاتی خودمختاری کا ہے۔ میری فلم میں ان گروپس کو منقسم دکھانے کی بجائے تاریخی طور پر متحد دکھایا گیا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ یہ فلم نیپال میں قومی اتحاد کو فروغ دینے کا سبب بنے گی”۔
فیسٹیول کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Gaetana Kazuo Maida کو توقع ہے کہ یہ فلمیں وسیع سماجی تبدیلیوں کیلئے بحث کو جنم دیں گیں۔
Gaetana Kazuo Maidaّ(male) “میں نے اب تک سات فلمیں دیکھی ہیں،ان سب میں ایک مثبت پیغام دیا گیا ہے۔ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی کا ایک طریقہ فلمیں بھی ہیں، یہ فلمیں طرز زندگی، مقاصد، مسائل کے حل اور تنازعات کے خاتمے کے متبادل پیش کرتی ہیں، خصوصاً ان میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح دنیا میں نسلی و مذہبی اعتبار سے اپنے روئیے کا اظہار کیا جانا چاہئے”۔