جاپانی شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما میں جوہری بم دھماکوں کو لگ بھگ ستر سال ہوچکے ہیں، مگر اس واقعے کی ہولناکی اب تک کم نہیں ہوسکی، ان امریکی حملوں میں بچنے والوں میں ہیروشیما کے ہیباکو نامی درخت بھی تھی، اور اس سے متاثر ہوکر ایک جاپانی فنکار نے فطرت کی طاقت کو سامنے لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
جاپانی آرٹسٹ ہیروشی سونیری کا ہیروشیما سے ذاتی تعلق ہے، اس شہر میں پلنے بڑھنے والی ان کی والدہ اور نانی 1945ءانیس سو پینتالیس میں جوہری بم دھماکے کے بعد تابکاری سے متاثر ہوئیں، کئی برس بعد ہیروشیما میوزیم کیلئے کام کرتے ہوئے ہیروشی سونیری کو ،چکارا ہوریگوچی کاہیباکو درختوں کے بارے میں لیکچر سننے کا موقع ملا، جو اس دھماکے سے بچنے والے خاموش متاثرین میں شامل تھے۔
ہیروشی سونیری”میںچکارا ہوری گوچی کے کام اور فلسفے سے بہت متاثر ہوا، انھوں نے بتایا کہ اگرچہ درختوں یا فطرت کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا، مگر ہم خود ان کے ذریعے امن، ماحول، اور ایٹم بم کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ درخت وغیرہ خود تو کچھ نہیں کہتے مگر پھر بھی وہ بچ نکلنے کی طاقت رکھتے ہیں”۔
نیویارک کے رہائشی ہیروشی سونیری نےچکارا ہوریگوچی سے رابطہ کرکے ہیباکو کے کچھ بیج لئے اور اپنے ٹری پراجیکٹ کا 2006ئدو ہزار چھ میں آغاز کیا۔
ہیروشی سونیری”اس منصوبے میں میرا حصہ اتنا زیادہ نہیں، یعنی یہ منصوبہ عوامی ہے، میں اس منصوبے کی دستاویزات، عوامی مشورے اور تصاویر اپنے ٹری پراجیکٹ بلاگ پر اپ لوڈ کرتا رہتا ہوں”۔
ان سات برسوں کے دوران انھوں نے پچاس ممالک میں لوگوں کو ان درختوں کے بیچ دیئے۔
ہیروشی سونیری”ڈاکٹرہوریگوچی کا یہ کہنا کہ درختوں کا اپنا کوئی نظریہ نہیں ہوتا، نے میری بہت مدد کی، کیونکہ اب میں کہہ سکتا ہوں کہ اٹیم بموں کے حملے ایسے ہیں جیسے کوئی ملک بناءسوچے سمجھے تباہی پھیلا دے۔اسی لئے میں اس پراجیکٹ کو پسند کرتا ہوں، کیونکہ یہ میرے اور فطرت کے درمیان تعلق کی وجہ بنا ہے، میں ہیروشیما پر ان حملوں سے پڑنے والے اثرات پر کام نہیں کررہا کیونکہ میرے خیال میں ایسی متعدد چیزوں پر کافی کام ہوچکا ہے، میں تو اس خوفناک واقعے کی مزید گہرائی میں جانا چاہتا ہوں، اور بتانا چاہتا ہوں کہ اس واقعے کے باوجود زندگی نے کس طرح اپنی بقاءکی جدوجہد کی، اس خوفناک واقعے کے باوجود زندگی کی خوبصورتی نے لوگوں کا حوصلہ بڑھایا اور ان کی زندگیوں میں مسرت لوٹ آئی”۔
تاہم اس پراجیکٹ کو کافی چیلنجز کا سامنا ہے، سب سے بڑا مسئلہ مختلف ممالک میں مختلف موسموں سے درختوں کی افزائش کے نتائج میں فرق سامنے آنا ہے۔
ہیرو شی سونیری”کیونکہ ہم فطرت پر کام کررہے ہیں، تو اس کے حوصلہ بخش نتائج حاصل کرنا آسان نہیں، ہمیں کافی رکاوٹوں کا سامنا ہے، ہم نے درختوں کے بیج ہیروشیما سے سنگاپور بھیجے، بیجوں کی پہلی کھیپ میں سے صرف ایک درخت ہی نشوونما پاسکا”۔
یہ پراجیکٹ گزشتہ دنوں سنگاپور میں ہونے والے ایم ون فرنج فسٹیول کا بھی حصہ بنا، اورسونیری کا کہنا ہے کہ انکا اس منصوبے کو ختم کرنیکا کوئی ارادہ نہیں۔
سونیری”میرے خیال میں اس منصوبے کے تحت چند درخت اتنے بڑے ضرور ہوجائیں گے کہ ہر ایک انہیں دیکھ کر کہہ سکے گا کہ یہ درخت ہمارے ملک پر جوہری حملہ ہونے کی صورت میں محفوظ رہ سکیں گے”۔