Investment Fever in Burmaبرما میں سرمایہ کاری کا رجحان

آئندہ چند برسوں کے دوران برما میں دوسو ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کا امکان ہے، جس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، ایک سماجی کارکن بو بو آنگ اور ان کے ساتھی سوئیڈن میں غیرملکی سرمایہ کاری کی اہمیت اور اس حوالے سے اپنے تحفظات کی مہم چلارہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

بو بو آنگ ایک مقصد کیلئے سوئیڈن آئے ہیں، یعنی یہ بتانے کہ بڑی سرمایہ کاری ماحولیات، قدرتی مناظر اور برمی معیشت کو بدل سکتی ہے۔

بو بو آنگ”بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کمپنیاں اور کاروباری افراد زمینوں کے بڑے حصے کو اپنے نام کراسکتے ہیں، جس سے مقامی کاشتکار اپنی زمینوں سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوجائیں گے”۔

وہ ایک استاد تھے، مگر متعدد تنازعات کو دیکھنے کے بعد وہ زمینوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے رضاکار بن گئے۔

بو بو آنگ” 2010ءدو ہزار دس میں ڈاوی میں خصوصی اقتصادی زون کا منصوبہ سامنے آیا، اور اس وقت مجھے لگا کہ اس بارے کچھ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ بہت بڑا منصوبہ تھا، یہ جنوب مشرقی ایشیاءکا سب سے بڑا منصوبہ تھا جس پر 86 چھیاسی ارب ڈالر خرچ ہونا تھے، تو ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت تھی، اسی لئے میں نے مقامی افراد کے تحفط کی مہم شروع کی”۔

اس منصوبے پر جاپان سرمایہ کاری کررہا تھا، اور یہ جنوب مشرقی ایشیاءکا سب سے بڑا اقتصادی زون تھا، جس کی تعمیر پر مقامی رہائشیوں کو اپنے گھروں اور زمینوں سے ہاتھ دھونا پڑتے، جبکہ چار ہزار میگاواٹ کے کوئلے کے پاور پلانٹ سے علاقے میں آلودگی بھی بڑھ جاتی۔ مقامی افراد کو زمینوں کے بدلے میں بہت کم معاوضہ دیا جارہا تھا، بلکہ لوگوں کو یہی معلوم نہیں تھا کہ انہیں کتنا معاوضہ ملے گا۔ تاہم ہر ایک سرمایہ کاری کو برا نہیں سمجھتا۔ جو وی ٹاایک ٹور آپریٹر ہیں۔

جو وی ٹا”حکومت نے ہر چیز سب کے سامنے کھول دی ہے، تاکہ وہاں برماآکر سرمایہ کاری کریں۔برما میں سرمایہ کاری قوانین سرٹیفائڈ ہیں، ہر چیز بالکل ٹھیک ہے اور شفافیت سب کے سامنے ہے”۔

تاہم صرف سرمایہ کاری پر ہی تنقید نہیں ہورہی، بلکہ اس کے ساتھ منسل شرائط خصوصاً ورکرز کے حوالے سے کافی بحث ہورہی ہے۔ فریدا پر جس، اسٹاک ہوم میں اولوف پالمے سینٹر کی ٹریڈ یونین اسپشلسٹ ہیں۔

فریدہ” 2012ئدو ہزار بارہ میں ٹریڈ یونین کی تشکیل قانونی قرار دیدی گئی ہے، اور اس کے بعد سے اب تک سات سو لیبر یونینز قائم ہوچکی ہیں، تاہم ان میں بیشتر صنعتوں کے مالکان کی اپنی قائم کردہ ہیں”۔

برما میں فوجی سے سویلین قوانین کے نفاذ کا عمل سست روی کا شکار ہے، جبکہ ملک میں نسلی تنازعات کے باعث معدنیاتی اور جنگلات میں کام کرنے والے افراد کو استحصال کا سامنا ہے۔ بو بو آنگ اس بارے میں بتارہے ہیں۔

بو بو آنگ” شان ریاست میں لڑائی ابھی بھی جاری ہے، کئی بار تو یہ لڑائی حکومت اور فوج کیساتھ ہوتی ہے تو کئی بار مسلح گروپس آپس میں ہی لڑنے لگتے ہیں”۔

سوئیڈن میں ایک تقریب کے دوران برمی این اوز کے فورم نے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے تنقیدی پہلوﺅں پر روشنی ڈالی ، سائی کھونگ پونگ ایک برمی این جی او میں انسانی حقوق کے مشیر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔

سائی کھونگ پونگ “پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ منصوبے شفاف نہیں، دوسرا یہ کہ حکومت نے برمی کی مختلف قومیتوں کی مدد کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی متعارف نہیں کرائی، تو برما میں ابھی بھی اقلیتوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے جس سے تنازعات ختم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں”۔

بو بو آنگ کا کہنا ہے کہ آنگ سان سوچی پر پورے برما کی توقعات کا بوجھ نہیں لادنا چاہئے۔

بو بو آنگ “ان کی پہلی ترجیح برما کا صدر بننا ہے، اور اس کے بعد ہی وہ کچھ کرسکیں گی۔ مگر میرے خیال میں یہ بہت مشکل کام ہے، صرف ایک شخص سب کچھ بدل نہیں سکتا”۔