The Netherlands: a Mecca for Indonesian Cuisine – نیدرلینڈ، انڈونیشین کھانوں کا گڑھ

خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں دنیا بھر میں انڈونیشین کھانوں زیادہ مقبول نہیں، جیسے چینی یا تھائی لینڈ کے کھانے مشہور ہیں۔ تاہم یورپ کا ایک شہر ایسا ہے جہاں ایک ہزار سے بھی زائد انڈونیشین ہوٹل موجود ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

نیدر لینڈ میں انڈونیشین فیئر کے نام سے ایک ثقافتی میلے کا انعقاد ہوا ہے، جس میں عالمی برادری خصوصاً ڈچ عوام کو انڈونیشیاءکے بارے میں بہت کچھ دکھایا جارہا ہے۔ یہاں لگتا ہے کہ سب سے زیادہ مقبولیت کھانوں کو حاصل ہے، جب ہی تو ایک تہائی حصہ انڈونیشین طعام کیلئے مختص ہے۔

اس میلے میں چالیس ریسٹورنٹس نے حصہ لیا، جن میں سلیرو میانگ ریٹورینٹ سب سے مقبول ثابت ہوا۔یہ ریسٹورنٹ سمارٹا جزائر کے خصوصی پاڈانگ نیس کھانے فروخت کرتا ہے، جو مزے اور مرچوں کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ ایرتا لبیک نیدر لینڈ میں پاڈانگ کھانے تیار کرنے والے واحد ریسٹورنٹ سیلر میننگ کی مالکہ ہیں، انکا خاندان انڈونیشیاءسے کافی عرصے قبل نیدر لینڈ آیا تھا۔

سیلر”میں مخصوص پاڈانگنیس کھانے فروخت کرتی ہوں، جن میں مٹھاس نام کو بھی نہیں ہوتی اس لئے یہ بہت زیادہ تیکھے ہوتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ میں سبا نامی کھانا بھی تیار کرتی ہوں، جو ڈچ عوام کے ذائقے کیلئے موزوں ہے۔ تو تیز مرچوں والا گائے کا گوشت ہمارے انڈونیشین صارفین کیلئے ہوتا ہے، یہ بہت زیادہ مرچوں والا کھانا ہوتا ہے جسے ہمارے ڈچ صارفین برداشت نہیں کرسکتے”۔

نیدرلینڈ میں انڈونیشین سفارتخانے کے تحت اس میلے کا انعقاد ہر سال ہوتا ہے، رینٹو مرسدی انڈونیشین سفیر ہیں۔

رینٹو”اس کی وضاحت میرے لئے تو مشکل ہے، یہاں ہر شخص انڈونیشین کھانوں اور ریسٹورنٹس کی بات کرتا ہے، نیدر لینڈ میں کئی رسمی تقاریب کے دوران انڈونیشین کھانا پیش کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ ڈچ بحریہ میں بھی انڈونیشن کھانے معمول کے مینو میں شامل ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ نیدرلینڈ میں انڈونیشین کھانوں کو دوسرے قومی پکوانوں کی جگہ حاصل ہے”۔

یورپ کے بیشتر ممالک میں بہت کم ریسٹورنٹس میں ہی انڈونیشین کھانے فروخت ہوتے ہیں، تاہم نیدرلینڈ میں سولہ سو انڈونیشین ریسٹورنٹس ہیں۔ تاہم یہ اس لئے حیرت انگیز نہیں کیونکہ نیدرلینڈ انڈونیشیاءپر ساڑھے تین سو سال قابض رہا تھا، اور اس وقت بھی نیدرلینڈ کی دو فیصد آبادی انڈونیشین نژاد پر مشتمل ہے۔ چالیس سالہ ایلبرٹ جان کے والد انڈونیشیاءمیں ڈچ فوج کے اہلکار رہ چکے ہیں۔

ایلبرٹ جان”میرے والد 1946ءسے 1947ءکے درمیان فوجی رہے تھے، اس دوران وہ انڈونیشیاءمیں تھے، جب وہ گھر واپس آئے تو اپنے ساتھ انڈونیشیاءکی سنہری یادیں بھی لے آئے”۔

نیدرلینڈ میں اسی کی دہائی سے انڈونیشین ریسٹورنٹس کو فروغ ملنا شروع ہوا، جبکہ اس کے ساتھ ایسے اسٹالز بھی لگنے لگے جہاں انڈونیشین کھانوں میں استعمال ہونے والے خصوصی مصالحے فروخت کئے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ متعدد افراد جیسے ایلبرٹ جان کیلئے انڈونیشین کھانے اپنے گھر میں بنانا بہت آسان ہوگیا ہے۔

ایلبرٹ”مجھے اپنے لئے انڈونیشین کھانے بنانا بہت پسند ہے، تین یا چار ہفتے قبل میں نے اپنے بھائی اور خاندان کو مدعو کیا اور ان کے لئے روایتی انڈونیشین پکوان تیار کئے۔ میں نے چلی چکن ،رکا رکا چکن اور سپائسی سٹر فرائڈ بینس گرین تیار کئے، ان تمام کھانوں کی تیاری میں پورا دن گزر گیا”۔

انڈونیشین پکوانوں کی طلب میں اضافے کے بعد ان کھانوں اور ریسٹورنٹس کی آن لائن لغت بھی تیار کرلی گئی ہے جسے انڈونیشین فیئر کے دوران متعارف کرایا گیا۔ انڈونیشین سفیر رینٹو مرسدی اس لغت کی روح رواں ہیں۔

رینٹو مرسدی”ہم نیدرلینڈ کو یورپ میں انڈونیشین کھانوں کے فروغ کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں، ہم انڈونیشین کھانے متعارف کرانے کے حوالے سے کئی حکمت عملیوں پر عمل کررہے ہیں”۔