Free Healthcare Clinics on the rise in Mynamar – برما میں مفت طبی مراکز

برما صحت کے شعبے کے حوالے سے دنیا کے چند بدترین ممالک میں شامل ہے، فوجی حکومت کے دور میں قومی بجٹ کا صرف ایک فیصد حصہ صحت کے شعبے کیلئے خرچ کی جاتا تھا، تاہم اب نیم جمہوری حکومت نے اس شعبے کیلئے بجٹ کا حصہ چار فیصد تک بڑھا دیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ۔

تریسٹھ سالہ ڈا، چو، ینگون میں واقع ایک مفت طبی مرکز سے علاج کرارہی ہیں۔

ڈا، چو”ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد مجھے جسم میں درد ہوا، میرے ہاتھ اور پیر کانپنے لگے جبکہ میں اکثر شدید بیمار بھی ہوجاتی، اس وقت سے میں یہاں اپنا علاج کرارہی ہوں اور اب بہتر محسوس کرنے لگی ہوں”۔

سو میٹر نامی یہ طبی مرکز بوڑھوں اور غریب افراد کا علاج کرتا ہے۔

حکومتی فنڈز کی کمی کے باعث ملک بھر میں سرکاری ہسپتالوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، ڈاکٹرز کی کمی اور ناکافی آلات کے باعث اکثر مریض علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یو کھن تن، اس مفت طبی مرکز میں علاج کیلئے آئے ہیں۔

یو کھن”ہمارے گاﺅں میں رہائش پذیر افراد کیلئے صرف ایک یا دو ڈاکٹرز موجود ہیں، تاہم وہاں ہمارا علاج یہاں جیسا نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیں دیگر بڑے ہسپتال بھیج دیتے ہیں۔ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے”۔

سرکاری ہسپتالوں کی ناقص کارکردگی کے باعث بڑے شہروں میں نجی کلینکس کو فروغ مل رہا ہے، تاہم سو میٹر کے بانی وائی پھیو اونگ کا کہنا ہے کہ یہ نجی کلینکس بہت مہنگے ہیں۔

وائی”نجی کلینکس عام عوام کیلئے بہت مہنگے ہیں، ہمارا بنیادی مسئلہ ہے کہ نچلی سطح پر طبی خدمات کا شعبہ تاحال پسماندہ ہے”۔
یہی وجہ ہے کہ متعدد افراد کے پاس حکومتی ہسپتالوں یا نیم حکیموں سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔

وائی”بیشتر اوقات ہم اپنے امراض کے علاج کیلئے روایتی ادویات کے استعمال پر مجبور ہوتے ہیں”۔
تمام سرکاری ہسپتالوں کا دعویٰ ہے کہ وہ انتہائی سستا علاج مہیا کررہے ہیں، تاہم ڈا چو کا کہنا ہے کہ اسے ہر چیز کے لئے بہت زیادہ رقم ادا کرنا پڑی تھی۔

ڈاچو”مجھے اپنے علاج پر سات سو دس ڈالر خرچ کرنا پڑے، جس میں ادویات اور کھانے کا خرچہ بھی شامل تھا”۔
سوال”ہسپتال والوں نے آپ کو کیا کچھ فراہم کیا؟

ڈا چو” کچھ بھی نہیں ہم نے ہر چیز خود خریدی، یہاں تک کہ روئی، پٹی اور سوئیاں وغیرہ سب کچھ”۔

ڈا چو نے پہلے ایک مقامی کلینک میں علاج کرایا، جس نے انہیں آپریشن کے لئے قریبی ہسپتال بھجوادیا۔

ڈا چو”ڈاکٹرز اور نرسز اچھے تھے، وہ مجھے بتاتے تھے کہ کون سی ادویات خریدنی ہے، جب میں انہیں دوائیں لاکر دیتیں تو وہ مجھے انجیکشن لگادیتے، تاہم اس کا انحصار رقم پر تھا، اگر آپ کے پاس پیسے ہیں تو یہ ہسپتال بھی بہت اچھے ہیں”۔

ڈا چوکو ایک ماہ تک علاج کرانے کیلئے چھ سو ڈالر قرضہ لینا پڑا۔

ڈا چو”اب ہمیں قرضہ چکانے کیلئے اپنا گھر فروخت کرنا پڑے گا، گھر پر نیلامی کا بورڈ بھی لگ چکا ہے”۔

تاہم سو میٹر کلینک کے باعث وہ اپنے علاج کا بار اٹھانے کے قابل ہوگئی ہیں۔ اس مرکز میں آنے والے بیشتر مریض خواتین یا بوڑھے افراد ہوتے ہیں، نیم جمہوری حکومت کے تحت سو میٹر کلینک جیسے مراکز کی تعداد ملک بھر میں بڑھ رہی ہے۔ مقامی مخیر افراد، فلاحی گروپس اور سیاسی جماعتیں ملکر غریب افراد کی مدد کررہی ہیں۔وائی پیو اونگ کا تعلق مفت طبی مرکز سے ہے۔

اونگ”سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ ادویات کی سپلائی کی ضرورت ہے، اس طرح کے چھوٹے کلینک بھی اچھا کام کررہے ہیں، اس سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہورہا ہے، حالانکہ یہ کوئی مثالی حل نہیں”۔