(Thai police trained to address domestic violence) گھریلو تشدد کی روک تھام کیلئے تھائی پولیس سرگرم
تھائی لینڈ میں گھریلو تشدد کو روکنے کیلئے پولیس اہلکاروں کا ایک دستہ تیار کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کیلئے اقوام متحدہ کے تعاون سے خاص تربیت کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
تھائی لینڈ میں ایک سروے کے مطابق سالانہ تین لاکھ سے زائد خواتین گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں، تاہم این جی اوز کا کہنا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ کے ہر علاقے میں گھریلو تشدد کا مسئلہ بہت سنگین ہے۔ تاہم اب اس کی روک تھام کیلئے تھائی پولیس کا خصوصی دستہ تیار کیا جارہا ہے، جسے ایک خاص تربیتی کورس کرایا جارہا ہے، تاکہ خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کی روک تھام کی جاسکے۔ Ryratana Rangsitpol تھائی لینڈ میں اقوام متحدہ کی امور نسواں پروگرام کی منیجر ہیں۔
female) Ryratana Rangsitpol) “خواتین پر ہونیوالے تشدد کا خاتمہ تھائی لینڈ کے National Women’s Development Plan کا بنیادی مقصد ہے، اقوام متحدہ اس مقصد کیلئے تھائی شہزادی اور اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر Bajrakitiyabha کے ساتھ ملکر کام کررہی ہے۔ ہم اس حوالے سے قانون سازی کے عمل کی حمایت کرتے ہیں، اس کے علاوہ عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے مہم چلارہے ہیں تاکہ لوگ اس مسئلے کی حقیقی سنگینی کو سمجھ سکیں”۔
سوال“یہ تھائی لینڈ میں اس طرز کا پہلا تربیتی پروگرام ہے، کیا تھائی پولیس کو گھریلو تشدد کی روک تھام کے حوالے سے پہلے کوئی تربیت نہیں دی جاتی تھی؟
female) Ryratana Rangsitpol) “تھائی پولیس اس سے پہلے گھریلو تشدد کے واقعات پر فوجداری قوانین کے مطابق کارروائی کرتی تھی، مگر ہمیں معلوم ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد اتنا سیدھا معاملہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مخصوص تربیت کے دوران پولیس اہلکاروں کو متاثرہ خواتین کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ انہیں سیکھایا جاتا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد صرف جسمانی یا جنسی نہیں ہوتا بلکہ انہیں ذہنی طور پر بھی تشدد کا بنایا جاتا ہے”۔
سوال“مرد اور خواتین پولیس اہلکار اس تربیت میں شریک ہیں، تربیتی پروگرام کے دوران اہلکاروں کی جانب سے کس قسم کے ردعمل کا اظہار کیا گیا؟
female) Ryratana Rangsitpol) “ہمیں پولیس اہلکاروں کی جانب سے مثبت اور حوصلہ افزاءردعمل ملا ہے۔ مثال کے طور پر ان میں سے ایک اہلکار نے کہا کہ اس تربیتی پروگرام میں شرکت کرکے اس کی شخصیت میں انقلاب آیا ہے اوراسے سمجھ میں آگیا ہے کہ گھریلو تشدد نجی یا خاندانی معاملہ نہیں، بلکہ سنگین جرم ہے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ اگر کوئی خاتون تشدد کا شکار نظر آئی تو وہ اس کی بھرپور مدد کرے گا”۔
سوال“تھائی حکومت کے سروے کے مطابق پندرہ سے انیس سال کی لڑکیاں تشدد کی زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ہم جاننا چاہتے ہیں کہ تھائی لینڈ میں گھریلو تشدد کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے آپ کی کیا حکمت عملی ہے؟
female) Ryratana Rangsitpol) “درحقیقت گھریلو تشدد کے واقعات کی حقیقی تعداد تو معلوم نہیں، تاہم ہمیں توقع ہے کہ اگر نوجوان نسل کی ذہنیت میں تبدیلی لائی جائے تو مردوں کے روئیے میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اسی طرح خواتین کو معلوم ہونا چاہئے کہ اپنے شوہر کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بعد اسے کیا کرنا چاہئے، اور اس صورتحال میں اسے مدد کیلئے کس سے رابطہ کرنا چاہئے”۔
سوال“کیا آپ کے خیال میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں اب بھی گھریلو تشدد کو خاندانی معاملہ سمجھنے کی سوچ پائی جاتی ہے، اور کیا واقعی وہ اس معاملے میں پولیس یا دیگر حکومتی عہدیداران کی مداخلت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں؟
female) Ryratana Rangsitpol) “ہمارے خیال میں یہ بہت ضروری ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس بات کو سمجھیں کہ خواتین پر تشدد نجی معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک عوامی مسئلہ ہے اور باہر کے لوگ اس میں مداخلت کرنے کیلئے حق بجانب ہیں۔ اگر ہم معاشرے کا حصہ ہونے کے باوجود تشدد کو روک نہ سکے تو یہ ہماری ناکامی ہے۔میرے خیال میں تو اس طرح ہم خود اس تشدد کے ذمے دار بن جائیں گے”۔