Minority Women Problem’s اقلیتی خواتین کے مسائل

خواتین کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں ان کا احترام ہر لحاظ سے کیا جاتا ہے،لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں عمومی طور پر تو خواتین امتیازی سلوک کا شکار ہوتی ہی ہیں لیکن اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین اس سلوک کا زیادہ شکار نظر آتی ہیں،
سفینہ جاوید گل Peace and Development Organization کی کارکن ہیں۔اقلیتی برادری کی خواتین کو درپیش امتیازی سلوک کے حوالے سے سفینہ جاوید گل بتاتی ہیں۔
اقلیتی برادری کی خواتین کو تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ،اوشادیوی اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کو بیان کرتے ہوئے اپنے ساتھ امتیازی سلوک پر شکوہ کناں ہیں،
ثمرین ایک گھریلو خاتون ہیں،اقلیت سے تعلق رکھنے کی بناءپر ان کو کس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اس بارے میں وہ کہتی ہیں،
اقلیتی برادری کی خواتین کی سیاست میں بھی نمائندگی نظر نہیں آتی،اس حوالے سینٹر فار ہیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سیمسن سلامت کہتے ہیں،
اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ زبردستی مذہب ان کاتبدیل کرانا بھی ہے،سیمسن سلامت کا اس بارے میں کہنا ہے،
سیمسن سلامت زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے مسئلے پر عدالتی کردار سے مطمئن نظر نہیں آتے،
اقلیتی برادری کی خواتین کو ملازمتوں میں ہمیشہ نچلے درجے پر رکھا گیا ہے ،زیادہ تر اقلیتی خواتین کھیتوں،ےا گھریلو ملازماﺅں کی صورت میں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں،جبکہ یہاں بھی ان کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس حوالے سے سینٹر فار ہیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سیمسن سلامت کہتے ہیں،
اقلیتی برادری کو ان کا جائز مقام دلانے کے لئے سفینہ جاوید گل تجاویز پیش کرتے ہوئے کہتی ہیں،
اقلیتی برادری کی خواتین جو کہ اسی ملک کی شہری ہیں ،ان کو بھی وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو دیگر خواتین کو حاصل ہیں لیکن ان خواتین کے مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کرنا اور ان پر ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند کر لینا ہمارے لئے لمحہءفکریہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *