Sudheer’s Death Anniversary سُدھیرکی برسی

تانگے والا خیر منگدا جیسے متعدد لازوال گیتوں کو اپنی اداکاری سے امر کرنے والے پاکستان کے پہلے ایکشن ہیرو کا خطاب پانے والے لالہ سدھیر کوجہان فانی سے رخصت ہو ئے آج سولہ برس بیت گئے۔
شاہ زماں المعروف سدھیر زندہ دلوں کے شہر لاہور میں 1922ءکو پیدا ہوئے، وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے معماروں میں شامل تھے۔ معاملہ فہم اور درد مند انسان ہونے کے باعث انہیں فلم انڈسٹری میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ فلم انڈسٹری سے وابستہ لوگ انہیں لالہ سدھیر کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ اداکاروں کی تنظیم کے چیئرمین بھی رہے۔
قیام پاکستان کے بعد سدھیر کی پہلی فلم ہچکولے تھی، اسی دور میں ان کی فلم دوپٹہ مقبول ہوئی، جس میں وہ نورجہاں اور اجے کمار کے مقابل جلوہ گر ہوئے، جبکہ 1956ءمیں فلم ماہی منڈا اور یکے والی نے سدھیر کو بام عروج پر پہنچا دیا۔
ماہی منڈا کا یہ گیت تو بہت مقبول ہواJhootiye jehan diye´
اس دور کی ہیروئین شمی کو اپنا شریکِ حیات بنایا۔ لالہ سدھیر کو جنگ و جدل پر مبنی فلموں میں بہترین پرفارمنس پر جنگجو ہیرو کا خطاب بھی دیا گیا۔
سدھیر نے 200 سے زائد فلموں میں اپنے وقت کی معروف ہیروئینوں کے مقابل مختلف کردار کئے، جن میں نورجہاں، صبیحہ خانم، مسرت نذیر، یاسمین، آشا پوسلے، لیلی، راگنی، زیبا، دیبا، شمیم آرا، ریحانہ، نئیر سلطانہ، نیلو، نجمہ، فردوس، نغمہ، سلونی، شیریں، بہار بیگم اور رانی نمایاں ہیں۔
ان کی مقبول فلموں میں دوپٹہ، سسی، کرتار سنگھ، بغاوت، یکے والی، جی دار، حکومت، چاچا خوامخواہ، ڈاچی، ماں پتر، ابا جی، چٹان، جانی دشمن، لاٹری، ٹھاہ اور ان داتا شامل ہیں۔
معروف گلوکار عنایت حسین بھٹی اور لالہ سدھیر کا اشتراک بہت مقبول رہا جن کے اشتراک سے کئی یادگار گیتوں نے جنم لیا، جن میں چن میرے مکھناں اب بھی لوگوں کی زبان پر رواں ہے۔
انہیں 1970ءمیں پنجابی فلم ماں پتر اور 1974ءمیں ایک اور پنجابی فلم لاٹری پر بہترین اداکارپرنگار ایوارڈ دیا گیا۔
لالہ سدھیر19 جنوری 1997میں اس جہاں فانی سے رخصت ہوگئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *