انڈونیشین جزیرے مغربی جاوا کے علاقے بوگار میں واقع تاریخی بدھ مندر مذہبی تحمل کا علمبردار سمجھا جاتا ہے، اس کے دروازے عبادت کیلئے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کیلئے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ایک بدھ مندر کے اندر موجود پانچ افراد قرآن مجید پڑھ رہے ہیں۔
مغرب کی نماز کے بعد یہ لوگ مندر کے باورچی خانے میں عشائیے سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔
سریانا”ہم تین سال سے یہاں ہر جمعرات کی رات آتے ہیں، یہ معمول بن چکا ہے”۔
ایپول سیف اللہ آج قرآن مجید پڑھنے والے اس گروپ کی قیادت کررہے ہیں۔
ایپول سیف اللہ”پہلے لوگ کہتے تھے کہ یہ تو بدھ مندر ہے آپ یہاں کیوں موجود ہیں؟ مگر یہ بات اہمیت نہیں رکھتی، یعنی قرآن مجید پڑھنا اہمیت رکھتا ہے مقام نہیں”۔
پان کھو بدھسٹ ٹیمپل، 1704ء(سترہ سو چار) میں تعمیر ہوا تھا اور یہ بوگار کا سب پرانا مندر مانا جاتا ہے، اس کے ارگرد نصف سے زائد آبادی مسلم ہے جبکہ باقی چینی بدھ ہیں۔ علاقے کے ایک گزرگ ابراہیم حلیم وضاحت کررہے ہیں کہ کیوں یہ مندر دیگر مذاہب میں تحمل کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔
ابراہیم”یہ شروع سے ہی تمام برادریوں کیلئے کھلا ہوا ہے، مگر پہلے لوگ یہاں آنے سے گریز کرتے تھے، 2007ء(دو ہزار سات )میں میرے دوست یہاں رہنے آئے تو وہ اس مندر بھی گئے، اور اس کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوگیا، کہ آخر ہر جمعرات کی رات ہم یہاں کیوں نہ جمع ہوں؟ جہاں تک مندر کے عملے کا تعلق ہے تو ان کا کوئی مسئلہ نہیں، اب تو کافی افراد ہمارے ساتھ یہاں آنے لگے ہیں”۔
تاہم مندر کے ارگرد رہائش پذیر افراد اب فکر مند ہیں، کیونکہ مقامی انتظامیہ نے مندر کیساتھ بہنے والے دریا سی لی ونگ پر کچرا ٹھکانا لگانے کے حوالے سے کچھ منصوبہ بندی کی ہے، مارس ہیندرا پترا،ریجنل ڈیو لپمنٹ اینڈ پلاننگ ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں۔
مارس ہیندرا پترا”ہم فضلہ ٹھکانا لگانے کا بہتر نظام بنانا چاہتے ہیں، ہم راہ گیروں کے چلنے کا بہتر انتظام، گھریلو کچرے کو جمع کرنے اور سیوریج کے نظام میں بہتری کیلئے تیاریاں کررہے ہیں”۔
مگر پان کھو ٹیمپل اس دریا کے قریب ہی واقع ہے اور لوگوں کو فکر ہے اس نئے منصوبے پر عملدرآمد کیلئے مندر کو خالی نہ کرالیا جائے۔
مارس”نہیں ہمارا ایسا ارادہ نہیں، ایسا خیال ہمارے ذہن میں کبھی نہیں آیا، ہم تو بس دیگر چیزوں کے انتظامات پر نظرثانی کررہے ہیں، ہم اس علاقے کو ماحول دوست بنانا چاہتے ہیں”۔
مندر کے سیکرٹری چندرا حکومتی منصوبے کی مشروط حمایت کرتے ہیں۔
چندرا”خدارا یہاں کی برادری کی مذہبی ہم آہنگی کو ختم نہ کیا جائے، انہیں الگ نہ کیا جائے، ہم سب طویل عرصے سے ساتھ رہ رہے ہیں، اگر حکومت علاقے میں اصلاحات کرنا چاہتی ہے تو ہم اس میں حمایت کریں گے، مگر خدارا ہماری ہم آہنگی کو نقصان نہ پہنچایا جائے”۔
مقامی رہائشی آسپ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے علاقے کی مذہبی ہم آہنگی پر فخر ہے۔
آسپ “میں نے دیگر علاقوں میں اس طرح کی ہم آہنگی کے بارے میں کبھی نہیں سنا، یہ چیز ہمارے لئے باعث فخر ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی ثقافت کا تحفظ چاہتے ہیں اور اسے اپنی نئی نسل میں منتقل کرنا چاہتے ہیں”۔