شمسیہ حسانی افغانستان کی پہلی گرافٹی آرٹسٹ سمجھی جاتی ہیں، وہ اکثر اپنے فن کا مظاہرہ خانہ جنگی کے دوران تباہ ہونیوالی دیواروں پر کرتی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
پچیس سالہ شمسیہ حسانی وسطی کابل کی مصروف گلی قلعہ فتح اللہ کے قریب اسپرے پینٹ سے تصاویر بنانے میں مصروف ہیں، وہ ایسی برقعہ پوش خواتین کی تصاویر بنارہی ہیں جو اپنے حقوق کیلئے چیخ رہی ہیں مگر کوئی ان کی بات سننے کیلئے تیار نہیں۔
شمسیہ حسانی “میں خواتین کو درپیش مسائل کی عکاسی کرنا چاہتی ہوں، خانہ جنگی کے دوران بیشتر افراد خصوصاً خواتین کو سخت پابندیوں کا سامنا رہا، ہمارے معاشرے میں لوگ خواتین کے مسائل پر زیادہ توجہ نہیں دیتے”۔
وہ برقعہ پوش خواتین کی تصاویر اپنے پسندیدہ نیلے رنگ میں بنارہی ہیں، افغانستان میں دیواروں پر اسپرے پینٹ سے نقش نگاری یا گرافٹی قانونی ہے، شمسیہ حسانی اپنے کام کیلئے عوامی مقامات کی دیواروں کا انتخاب کرتی ہیں۔
شمسیہ حسانی”اگر ہم دیوار پر کوئی تصویر بنائیں تو کافی تعداد میں لوگ اسے دیکھ سکیں گے، یہ زیادہ بہتر طریقہ ہے اور اسی لئے میں نے گرافٹی آرٹسٹ بننے کا فیسلہ کیا۔ میں خانہ جنگی کے دوران تباہ ہوجانے والی ان دیواروں کو زیادہ خوبصورت بنانا چاہتی ہوں، میں ان دیواروں سے جنگ کی یادیں کھرچ دینا چاہتی ہوں اور اس کیلئے میری نظر میں گرافٹی ایک اچھا طریقہ ہے”۔
شمسیہ حسانی کا خاندان قندھار سے تعلق رکھتا ہے اور خانہ جنگی کے دوران وہ ایران چلا گیا تھا، آٹھ سال قبل یہ خاندان افغانستان واپس آیا اور شمسیہ کو کابل یونیورسٹی میں فائن آرٹس کی ڈگری لینے کا موقع ملا۔اب وہ اسی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔
پروفیسر راڈرا عمر ذاد، افغانستان میں اس آرٹ کے بانی ڈائریکٹر ہیں۔انکا کہنا ہے کہ دیواروں پر نقش نگاری کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، خصوصاً ایسی جگہوں پر جہاں کی بیشتر آبادی غیرتعلیم یافتہ ہو۔
پروفیسر راڈرا عمر ذاد”گرافٹی کے اثرات کا انحصار اس بار پر ہوتا ہے کہ اسے عوام میں کس طرح متعارف کرایا جاتا ہے، اگر اس میں معاشرے کے حقیقی مطالبات کو پیش کیا جائے تو لوگ اسے پسند کرتے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں، گرافٹی اپنی شکایت کے اظہار کا موثر طریقہ ہے اور اس سے معاشرتی مسائل و ناانصافی کی عکاسی بھی جاسکتی ہے”۔
چوبیس سالہ طالبعلم یحییٰ انصاری شمسیہ کی ایک تصویر کے سامنے سے گزررہے ہیں، جس میں ایک خاتون متعدد ہاتھوں سے ڈھکی ہوئی ہے اور وہ آزادی کا مطالبہ کررہی ہے۔
یحییٰ”فن کا یہ انداز ہمارے شہر کیلئے نیا ہے، میرے خیال میں تو یہ اچھا ہے کیونکہ اس سے ہمارے معاشرے کے عام مسائل کو سامنے لایا جاسکتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر عام افراد ان تصاویر میں چھپے پیغامات کو سمجھ نہیں پاتے، جب میں نے پہلی بار ایسی تصاویر دیکھی تھیں تو میں بھی کچھ سمجھ نہیں سکا تھا”۔
شمسیہ حسانی نے یہ کام تین سال قبل اس وقت شروع کیا جب ایک برطانوی مصور نے اسٹریٹ آرٹ کے کورس کا انعقاد کیا، اب وہ افغانستان اور بیرون ملک اپنی ورکشاپس کا انعقاد کررہی ہیں، اور انہیں تیس سے زائد ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔
اگرچہ وہ کابل میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں تاہم کئی بار وہ اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے فکر مند بھی ہوجاتی ہیں۔
شمسیہ “میں گلیوں میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتی، بم دھماکے کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ ہوسکتے ہیں، کئی بار تو جب میں اپنا کام کررہی ہوتی ہوں تو لوگ بھی مجھے تنگ کرتے ہیں، وہ یہ پسند نہیں کرتے کہ لڑکیاں گلیوں میں اس طرح کا کام کریں، مگر میں یہ جاری رکھنا چاہتی ہوں، ہر نئے کام کو آغاز میں اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے”۔
شمسیہ حسانی کی نظر میں اسپرے پینٹ تلوار سے بھی زیادہ تیزدھار ہے، انہیں توقع ہے کہ وہ اپنے فن سے خواتین کے حقوق کا دفاع کرسکیں گی۔
شمسیہ حسانی”میں گرافٹی کے ذریعے معاشرے میں خواتین کے کردار کا دوبارہ تعین کرنا چاہتی ہوں، میں جدید عہد کی خواتین دکھانا چاہتی ہوں، جو مضبوط اور ہر چیز کرنے کی اہل ہیں، میں مثبت پہلو دکھانا چاہتی ہوں کیونکہ اس کے عوام پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں”۔