Southern Thailand: A Song for Peace – جنوبی تھائی لینڈ

رواں برس کے آغاز میں جنوبی تھائی لینڈ کے مسلم علیحدگی پسند گروپس اور حکومت کے درمیان امن بات چیت شروع کرنے پر اتفاق ہوا تھا، 2004ءسے جاری اس تنازعے کے باعث اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ متعدد حلقے اس تنازعے کو بڑھانے کا ذمہ دار میڈیا کو قرار دیتے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

جنوبی تھائی لینڈ کے صوبہ یالا میں ہاما بائے لو بائی ایک گانا گا رہے ہیں، یہ ایک لوک گیت ہے جو اس خطے میں بہت زیادہ سنا جاتا ہے۔ ملائے زبان کی خوبصورت شاعری اور ردھم اس گیت کی جان ہے۔

ہاما”ہم اپنے لوگوں کیلئے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور انہیں تفریح اور سکون فراہم کرتے ہیں۔ ہم اس گانے کی شاعری اور دھن سے امن کا پیغام پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں”۔

اس کی شاعری میں امن کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، تہام یہ خطہ 2004ءسے بدامنی کا شکار ہے، کیونکہ ملائے نژاد مسلم گروپس بدھ اکثریت کے ہاتھوں استحصال کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور خودمختاری کا مطالبہ کردیا۔ اس کے بعد سے یہاں بم دھماکے اور مسلح تصادم روزمرہ کا معمول بن گئے اور اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ رضاکارانگکانا نیلا پائی جیت کے شوہر ایک عسکریت پسند قرار دیئے جانے والے مسلم شخص کی حمایت پر قتل کردیئے گئے تھے۔

انگکانا”حکومت عسکریت پسند تحریک اور عام جرائم پیشہ کے درمیان فرق جانچنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ کا جنوبی تھائی لینڈ کا مسئلہ بہت سنگین ہے، یہاں افسران کو خصوصی قانون کے تحت کسی کو بھی گرفتار کرنے کا حق حاصل ہے، یہاں تک کہ وہ پرامن احتجاج کرنے والوں کو بھی پکڑ لیتے ہیں۔ تھائی حکومت کو ان افراد کو تحفظ فراہم کرنا چاہئے جو امن مذاکرات کے عمل میں شامل ہیں، دوسری جانب عام افراد اب بھی سخت سزاﺅں کا سامنا کررہے ہیں”۔

ڈیپ ساوتھ واچ ایک مقامی این جی او ہے جو یہاں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے،سری سمپپ جیتپیرو مسری اس کے بانی ہیں۔

مسری “ہماری توجہ نہ صرف تشدد پر مرکوز ہے، بلکہ ہمیں امن عمل پر بات کرنی چاہئے، جو ابھی بھی جاری ہے اور اس کے لئے وقت درکار ہے۔ لوگ اس عمل کے بارے میں اطلاعات چاہتے ہیں”۔

اس این جی او کی ایک نیوز ویب سائٹ ہے، جو مقامی افراد میں بہت مقبول ہے۔ ایڈیٹر اسمعیل بن محمد ہائی وائی جی کا کہنا ہے کہ یہ ویب سائٹ مرکزی میڈیا سے مختلف ہے۔

اسمعیل”اس صوبے سے باہر کا میڈیا اپنے قارئین کے خیالات کے مطابق ہماری عکاسی پیش کرتا ہے، مرکزی میڈیا ہمارے صوبے کے افراد کی پروا نہیں کرتا، انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہاں حقیقت میں کیا ہورہا ہے۔ ہم لوگ مسلم ہیں اور ہم جنوب کے رہائشی ہیں، اور اس علاقے کا مسئلہ انتہائی حساس ہے، لوگ ملک کے دیگر حصوں میں کام کرنے والے میڈیا کے مقابلے میں ان افراد پر ہی اعتماد کرتے ہیں جو ان کی زبان بولتے ہیں”۔

اس ویب سائٹ کی وجہ سے انہیں اکثر فوج کی جانب سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔

اسمعیل”یہ آسان کام نہیں، ہم مقامی افراد تک رسائی تو حاصل کرسکتے ہیں، تاہم انہیں مخالف گروپس یا حکام کے بارے میں بات کرنے پر تیار کرنا آسان نہیں، وہ ہم پر اعتماد نہیں کرتے”۔

ماہما صابری، اسمعیل کی ویب سائٹ کیلئے کام کرتے ہیں۔انکا ماننا ہے کہ مقامی میڈیا صورتحال بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، تاہم انتظامیہ کا خیال مختلف ہے۔

ماہما “وہ دوست جو ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں، ان سے اکثر فوج کی جانب سے تفتیش کی جاتی ہے، کہ ہمارے مقاصد کیا ہیں، ہماری حمایت کون کررہا ہے؟ کیا ہم تھائی لینڈ سے آزادی چاہتے ہیں؟ اور ہم مقامی افراد کے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے حکام سے بات کیوں نہیں کرتے؟”

پچاس سالہمنصور سریااپنے مقبول ریڈیو شو کے ذریعے امن عمل میں ایک کردار ادا کررہے ہیں، ان کا پروگرام دا ونڈو آن سوسائٹیثقافت، سیاست اور دیگر موضوعات کے گرد گھومتا ہے۔

منصور”حکومتی میڈیا کی ساکھ ایک مسئلہ ہے، اس میں موجودہ صورتحال سے آنکھیں چرانے کا تاثر واضح ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں حکومتی میڈیا کو پسند نہیں کیا جاتا، اور تنازعات نے لوگوں کو اس میڈیا سے دور کردیا ہے، وہ اسے سنتے ضرور ہیں مگر اس پر یقین نہیں کرتے”۔

تھائی فوج کے پچاس ہزار اہلکار جنوبی صوبوں میں تعینات ہیں، یہاں ہر جگہ فوجی نظر آتے ہیں، یعنی اسکولوں، سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات وغیرہ کے تحفظ کرتے ہوئے، مگر یہاں کے لوگ امن کے خواہشمند ہیں، جس میں لگتا ہے کہ ابھی کچھ وقت لگے گا۔

یہ ایک معروف شاعر کا گیت ہے جو مقامی افرادمیں بہت مقبول ہے۔ اس میں جنوب میں امن کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔