پاکستان سمیت آج پوری دنیا میں بچوں کی مشقت کے خلاف عالمی دن منایا جارہا ہے، جس کا مقصد 5 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو مزدوری سے روکنے کے ساتھ پڑھائی کی طرف مائل کرنا ہے ،لیکن بدقسمتی سے عالمی سطح پر تمام تر کوششوں کے باوجود اب بھی 21 کروڑ 80 لاکھ بچے چائلڈ لیبر فورس کا حصہ ہیں۔ یہ بچے عالمی سطح پر غربت کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث بچپن کے قیمتی دن نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں گزارنے کی بجائے مختلف قسم کی صنعتوں، فیکٹریوں، ورکشاپوں، زرعی شعبے اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔یہ بچے انتہائی نامناسب حالات میں کام کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ان بچوں کی زندگی بھی خطرات سے دوچار رہتی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی سطح پر 2016ءتک دنیا سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کا عزم کیا گیا ہے،تاہم غربت میں اضافے اور معاشی بحران کے باعث اب یہ ہدف پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ جنوبی ایشیاءمیں 2 کروڑ 60 لاکھ بچے چائلڈ لیبر فورس کا حصہ ہیں۔ جنوبی ایشیاءکی 48 فیصد چائلڈ لیبر بھارت میں ہے، جبکہ 19 فیصد بنگلہ دیش، 14 فیصد پاکستان اور 2 فیصد نیپال میں ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 5 سے 14 برس کی عمر کے 4 کروڑ بچوں میں سے 38 لاکھ محنت مزدوری اور مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ملکی چائلڈ لیبر کا 34 فیصد زراعت سے منسلک ہے اور کل فورس میں 27 فیصد لڑکیاں اور 73 فیصد لڑکے شامل ہیں۔ صوبائی سطح پر 19 لاکھ چائلڈ لیبر فورس کے ساتھ پنجاب سرفہرست ہے جبکہ 6 لاکھ 50 ہزار کے ساتھ خیبر پختونخواہ دوسرے، 4 لاکھ 62 ہزار کے ساتھ سندھ تیسرے اور 4 لاکھ 50 ہزار کے ساتھ بلوچستان چوتھے نمبر پر ہے۔
Ç