Weight-loss surgery trending as India deals with rising obesity – بھارت میں موٹاپے سے بچاﺅ کیلئے سرجری کا رجحان عام

ایک ایسا ملک جہاں ہر چھ میں سے ایک شخص کم خوراکی کا شکار ہے وہاں موٹاپے میں کمی کیلئے سرجری کا عمل تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ۔

آدیتیا ہنس راج پاٹیل کی عمر 26 سال ہے، اور وہ وزن کم کرانے کیلئے سرجری کرارہے ہیں، تاکہ زندگی کو نیا رخ دے سکیں۔ آدتیہ کو توقع ہے کہ سرجری کے بعد ان کا وزن کم ہوجائے گا اور انہیں درپیش صحت کے مسائل حل ہوجائیں گے۔

آدتیہ”میں بہت زیادہ موٹا ہوں اور جب بھی میں کہیں جاتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں وہ دیکھو موٹا شخص آرہا ہے۔ کئی بار مجھے بہت برا اور کئی بار اچھا لگتا تھا، مگر اب کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ میں اپنی شخصیت میں تبدیلی لارہا ہوں۔ میں شوگر اور دل کے دورے کا شکار نہیں بننا چاہتا، اس سرجری سے میرا پورا جسم، ذہنی معیار اور اعتماد سمیت سب کچھ بدل جائے گا”۔

بھارت وزن کم کرانے کی سرجری کیلئے ایک پسندیدہ مقام کی حیثیت سے سامنے آرہا ہے، یہ رجحان متوسط طبقے کے بھارتی شہریوں میں فروغ پارہا ہے۔بھارت میں گزشتہ دہائی کے دوران اس سرجری کا رجحان بڑھا اورڈاکٹر ایتل پیٹرز اس تحریک کے روح رواں ثابت ہوئے۔

ایتل”آٹھ برس قبل جب میں نے اپنی پریکٹس شروع کی، تو میرے پاس آنے والے مریضوں کی اکثریت غیرملکیوں کی تھی، یہ لوگ مشرق وسطیٰ اور امریکہ وغیرہ سے آتے تھے۔ تاہم کچھ وقت گزرنے کے بعد میرے پاس دس سے پندرہ فیصد مریض بھارتی شہری ہوگئے، مگر اب ہم صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی دیکھ رہے ہیں، میں کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت میرے نوے فیصد مریض بھارتی شہری ہیں اور دس فیصد غیرملکی ہیں”۔

بھارت میں موٹاپے سے بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کی وجہ سے اس سرجری کی صنعت بھی عروج پر پہنچ گئی ہے، جبکہ تیزی سے ہونے والی اقتصادی ترقی اور سست طرز زندگی نے بڑے شہروں میں موٹاپے کے شکار افراد کی تعداد بڑھا دی ہے۔ ڈاکٹراُمیش دیشمکھ دہلی کے ایک ہسپتال سے تعلق رکھتے ہیں۔

دیش مکھ”بھارت میں بااثر ہونا غریب ہونے کے مقابلے میں زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ مغرب میں تو غربت مسئلہ ہوتی ہے، مگر جب سے بھارت ایک امیر ملک بننا شروع ہوا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ موٹاپا ایک بڑی وباءبن کر سامنے آیا ہے۔ یہ بدقسمتی ضرور ہے مگر میرے خیال میں اس حوالے سے کام کیا جانا چاہئے”۔

اس وقت ایک اندازے کے مطابق سالانہ دس ہزار ایسے آپریشن ہورہے ہیں اور مزید بیس لاکھ بھارتی شہری ایسا کرانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اس سرجری کے ماہر ڈاکٹر یو گیش گوتمبھی اسے ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

ڈاکٹر یوگیش “موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دستیاب اعدادوشمار کے مطابق 2025ءمیں موٹے افراد کی تعداد میں موجودہ سطح کے مقابلے میں سترفیصد اضافہ ہوگا۔ یعنی ہر سال پندرہ فیصد کے حساب سے موٹے افراد کی تعداد بڑھے گی”۔

ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنس کی ایک تحقیق کے مطابق ستر فیصد سرجری کرانے کے خواہشمند افراد تعمیراتی صنعت سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ باقی ملازمت پیشہ خواتین ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 87 فیصد سے زائد ایسے آپریشن کرانے والے افراد کی عمریں 52 سال سے کم ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کم عمر افراد میں یہ ایک فیشن بن چکا ہے۔ ڈاکٹر پیٹرزاس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔

پیٹرز”میں مریضوں کی عمروں میں فرق دیکھتا ہوں، پچاس سے ساٹھ فیصد افراد کا تعلق کاروباری خاندانوں سے ہوتا ہے، دس سے پندرہ فیصد نوجوان بھی یہاں آتے ہیں، یعنی ایسی لڑکیاں جن کی شادیاں ہونے والی ہوتی ہیں اور لڑکے جو ذیابیطس کا شکار ہوتے ہیں یا اس کے بارے میں جان کر سرجری کرانے آتے ہیں۔ اس وقت بااثر طبقے یا امیرترین کاروباری افراد موٹاپے کا شکار ہورہے ہیں”۔

بھارت میں اس وقت کروڑوں افراد کم خوراکی کا شکار ہیں، مگر ایک حالیہ تحقیق کے مطابق شہری آبادی کا ستر فیصد حصہ موٹاپے کی کیٹیگری میں آتا ہے۔ڈاکٹر گوتم اس صورتحال پر فکرمند ہیں۔

گوتم”موٹاپا ایک وبا ہے اور کسی وبا کو نشتر کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں طبی طور پر مزید کام کرنا ہوگا جس کے بعد ہی کوئی مناسب راستہ نکلے گا”۔