South Korean Women Confront Taboo of Rapeجنوبی کورین خواتین

دنیا بھر میں متعدد خواتین زیادتی کے واقعات پر خاموش رہنے کو ترجیح دیتی ہیں، جنوبی کوریا میں اس طرح کے اکثر واقعات کی رپورٹ درج نہیں، مگر ایک خاتون نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے دیگر خواتین کی مدد کا فیصلہ کیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

کم یون جونگ جنوبی کورین دارالحکومت سیﺅل میں کپڑے ڈیزائن کرنے کا کاروبار چلارہی ہیں، 27 سالہ یہ خاتون 2012ءکے اس واقعے کے بارے میں بتارہی ہیں، جب ایک شخص نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا، انکا کہنا ہے کہ وہ شروع میں اس بارے میں بات کرنے پر شرمندگی محسوس کرتی تھیں۔

کم یون جونگ “میں اپنی ذات ہی کو مودر الزام سمجھتی تھی، میں جانتی تھی کہ یہ میری غلطی نہیں مگر اپنی سوچ کا کیا کرتی، کورین تعلیمی نظام خواتین کو اس طرح کی صورتحال پر ردعمل ظاہر کرنے کے بارے میں سیکھانے میں ناکام ہوچکا ہے”۔

کم یون جونگ کا کہنا ہے کہ انکا خاندان، پولیس اور ایک خاتون وکیل نے بھی ملزم کیخلاف الزامات واپس لینے کیلئے زور ڈالا، وہ اس وقت خود کو تنہا سمجھنے لگی تھی، تاہم کچھ سہیلیوں کے تعاون کے بعد یہ احساس تنہائی ختم ہوگیا۔

کم یون جونگ “یہ لڑکیاں جنھیں میں برسوں سے جانتی ہوں، پہلے تو آگے آنے سے گھبرا رہی تھیں، مگر میری مشکلات سن کر وہ میری مدد کیلئے آگے آئیں”۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ایک تہائی خواتین جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔جنوبی کوریا میں پولیس کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، خواتین سماجی رضاکاروں کا کہنا ہے کہ کوریا کا نظام انصاف مردوں کی بہت زیادہ حمایت کرتا ہے۔چانگ پل وہا، ایشین سینٹر فار وومن اسٹیڈیز کی ڈائریکٹر ہیں۔

چانگ “ہمارا معاشرہ مردوں کی غلطیوں پر بہت رحم دلی کا مظاہرہ کرتا ہے، یہاں مردانہ غلبے کا کلچر بہت مضبوط ہوچکا ہے”۔

جنوبی کورین صنفی مساوات کی وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے سے آگاہ ہیں، مگر اس کا کوئی آسان حل نہیں۔ لم جونگ پل ،وومنز اینڈ یوتھ رائٹس ڈویژن کے عہدیدار ہیں۔

لم”ہم اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، حکام کو تعلیم دی جارہی ہے کہ حقوق نسواں کا احترام کریں، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ عوامی رویے کو تبدیل کرنا اور ہر پولیس اہلکار کو کنٹرول کرنا آسان نہیں”۔

انکا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں جنسی زیادہ کے واقعات زیادہ ریکارڈ ہونے سے اس حوالے سے لوگوں کے رویے میں تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔

لم”خواتین اب اپنے حقوق سے زیادہ آگاہ ہیں، ماضی میں وہ پولیس کے پاس نہیں جاتی تھیں، مگر اب وہ زیادہ پراعتماد ہوکر اپنے اوپر ہونے والے ظلم سے پولیس کو آگاہ کرتی ہیں”۔

تاہم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب بھی زیادتی کے بیشتر واقعات رپورٹ نہیں ہوتے، لی می کیونگ ، ایک این جی او کورین سیکسول وائلنس ریلیف سینٹرکی بانی ہیں۔

لی می “خواتین پہلے کسی مرد کی زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں، مگر انہیں اس وقت پھر ہدف بننے کا احساس ہوتا ہے جب خاندان، پولیس اور دیگر افراد ان کے گرد جمع ہوکر انہیں طرح طرح کی باتیں بناکر شرمندہ کرتے ہیں”۔

انکا کہنا ہے کہ خواتین کو اس احساس پر قابو پاکر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کیخلاف آواز اٹھانی چاہئے۔کم یونگ جونگ کی طرح سب کو اپنی خاموشی توڑنی چاہئے۔

ستمبر 2013ءمیںکم یونگ جونگ نے اپنی جیسی متاثرہ خواتین کے تجربات سامنے لانے اور مدد کیلئے ایک گروپ ڈسرپٹیو وومنزقائم کیا، جس کیلئے کم کو اپنی دوست اور کاروباری شراکت دار وانیسا برکے سے بھی مدد ملی،وانیسا برکے کو بھی امریکہ میں جنسی زیادتی کے بھیانک تجربے سے گزرنا پڑا تھا۔

وانیسا برکے”میں اپنی جیسی مظلوم خواتین کو بولنے کا محفوظ موقع فراہم کرنے پر خوش ہوں، اس طرح ان خواتین کو اپنے تجربات شیئر کرنے سے اپنے دکھ میں کمی کا احساس ہوتا ہے”۔

وہ زور دیتی ہیں کہ ان خواتین کو متاثرہ فریق کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔

وانیسا برکے”خود کو مظلوم سمجھنے کا مطلب اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ آپ اس کے خلاف جدوجہد نہیں کرنا چاہتے، اس طرح کے تجربات سے سماجی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، اس لئے خواتین کو آگے بڑھنے کی جدوجہد کرنا چاہئے، انہیں اپنے خلاف ظلم سے لڑ کر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا چاہئے، آگے بڑھ کر بات کرنے سے ہی مستقبل میں آگے بڑھنے کا موقع مل سکتا ہے”۔

کم اوربرکے کے اس گروپ کا اجلاس ہر ماہ ہوتا ہے،کم کا کہنا ہے کہ انکے خیال میں ایسی خواتین کے اکھٹے بیٹھنے سے بہت کچھ باہر نکلتا ہے۔

کم “ہم عوام کے رویے میں تبدیلی کی توقع تو نہیں کرسکتے، مگر ہم از کم ہمیں کوشش تو کرنی چاہئے، ہمیں خطرہ مول لینا ہی ہوگیا، بغیر کچھ کئے تو ہماری زندگیوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہٰں آسکتی”۔

انکا کہنا ہے کہ انہیں یہ تو یقین نہیں کہ انکا گروپ پورے معاشرے کی سوچ بدل سکتا ہے، مگر یہ ایک آغاز ہے۔

کم “کسی ایک خاتون کی زندگی میں معمولی بہتری کا احساس بھی میرے لئے خوش آئند ہوگا اور میں زیادہ اچھی نیند لے سکوں گی۔ وہ اپنے مظالم پر بات کرکے زیادہ بہتر محسوس کریں گی، مجھے بھی اس کی ضرورت ہے کیونکہ میں بھی اسی بھیانک تجربے سے گزری ہوں”۔