People in Southern Philippines Still Desplaced Despite Peace Deal فلپائنی امن معاہدہ

فلپائنی حکومت اور سب سے بڑے مسلم باغی گروپ کے درمیان جنوبی علاقوں میں چالیس سالہ خانہ جنگی کے اختتام کے حوالے سے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، اور مسلم گروپ نے اس خطے میں حکمرانی کے بدلے ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ساٹھ سالہ سارہ عالم گزشتہ چار ماہ سے زمبوانگا شہر کے ایک پناہ گزین مرکز میں مقیم ہیں۔

سارہ”خانہ جنگی کے دوران میری تین سالہ پوتی ہیضے کے باعث ہلاک ہوگئی تھی، جبکہ دیگر بچے یہاں آکر خوراک نہ ملنے کے باعث انتقال کرگئے، میری خواہش ہے کہ مجھ جیسے بوڑھے افراد اس طرح کی اذیت سے محفوظ رہیں، مگر ہم ایسا کربھی نہیں سکتے”۔

گزشتہ سال ستمبر میں مسلم گروپ مورو نیشنل لبریشن فرنٹ کے ایک دھڑے نے حکومتی فوجیوں پر فائرنگ کردی تھی، یہ گروپ زمبوانگامیں اپنی خودمختار مسلم ریاست بینگ سامورو ریپبلک کیلئے جدوجہد کررہا ہے۔اس گروپ کے ایک دھڑے نے متعدد دیہات پر قبضہ کرکے لوگوں کو قیدی بنالیا اور متعدد گھر نذرآتش کردیئے۔ اس ہنگامے سے ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے، جن میں سے چودہ ہزار تاحال پناہ گزین مراکز میں مقیم ہیں۔

سٹی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر روڈل آگبلوس کا کہنا ہے کہ متعدد بچے ہیضے اور خوراک نہ ملنے کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

روڈل آگبلوس”یہاں اب ڈینگی بخار کے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں اور ہم اب تک اس وبا کے بیس واقعات ریکارڈ کرچکے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ اس بیماری کو روکنے کا واحد طریقہ علاقے کی صفائی ہے، اور مچھروں کی افزائش گاہوں کو ختم کرنا ہے”۔

اب تک اس پناہ مرکز میں 65 پینسٹھ بچے ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے بیشتر کی عمریں پانچ سال سے کم ہیں، فادر البرٹ الیجومقامی حکومت کی انتظامی کمیٹی کے ایک رکن ہیں، انکا کہنا ہے کہ خانہ جنگی کے بعد بحالی نو کا عمل جاری ہے۔

فادر البرٹ الیجو”ہم صرف گھر ہی تعمیر نہیں کررہے ہیں، بلکہ لوگوں کے روحانی تکالیف کا علاج بھی بحالی نو کا حصہ ہونا چاہئے، تاکہ نئے تنازعات پیدا نہ ہوسکیں۔ ہمیں لوگوں کی بات سننی چاہئے، کیونکہ بحالی نو کے فیصلوں سے کئی حلقوں کے متاثر ہونیکا خدشہ ہوتا ہے”۔

23 سالہ فائیدالین آپلاسن کا پہلا بچہ اس جنگ کے دوران ہلاک ہوگیا تھا، تاہم اب وہ اپنے دیگر بچوں کے تحفظ کیلئے فکرمند ہے۔

فائیدالین آپلاسن”جنگ کے دوران ہمارے گھروں کے باہر موت ناچ رہی تھی،اسی دوران میرے بچے کی پیدائش کا وقت ہوگیا، ہم اس وقت پناہ گزین مرکز کا رخ کررہے تھے،اب مجھے ڈر ہے کہ میرا بچہ بیمار نہ ہوجائے، میں اس کی بہت اچھی نگہداشت کررہی ہوں اور روزانہ تین بار نہلا رہی ہوں”۔