(Some Koreans Change Names for Better Luck in Life) جنوبی کورین خواتین

  جنوبی کوریا میں خواتین کے تنہا ہونے کو بدقسمتی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بیشتر جنوبی کورین خواتین شوہر کی تلاش اور خاندان شروع کرنے کے لئے ہر اقدام کیلئے تیار رہتی ہیں، یہاں تک کہ اپنے لئے مناسب شخص کی تلاش کیلئے وہ اپنے نام بھی تبدیل کردیتی ہیں۔

Yu Do-hyung اپنے شناختی کارڈ کو دیکھ رہی ہیں، جسے دیکھ کر وہ کچھ دیر کیلئے الجھن کا شکار نظر آئیں۔اس کارڈ میں ان کا وہ نام درج ہے جو انھوں نے حال ہی میں اختیار کیا ہے۔ ان کا پیدائشی نام Young-ah تھا، تاہم تین سال اپنے والد کے اصرار پر انھوں نے اپنانام تبدیل کرلیا

 (female) Yu “شروع میں تو مجھے بہت غصہ آتا تھا، میرا نیا نام بہت عجیب ہے، مجھے اسے سننا بہت برا لگتا تھا، کیونکہ یہ نام مجھے مردانہ لگتا تھا”۔

تاہم Yu کے والد نے نام اپنے بیٹی کی زندگی میں خوش قسمتی لانے کے لئے تبدیل کیا تھا۔ کوریا میں لوگوں کا ماننا ہے کہ نام ہی کسی شخص کی قسمت کا تعین کرتا ہے۔بیشتر خواتین نام اس لئے تبدیل کرتی ہیں کہ وہ جلد اپنے لئے شوہر تلاش کرسکیں۔اس مقصد کیلئے وہ قسمت کا حال بتانے والے افراد سے رجوع کرتی ہیں۔ Tae-Eul،Seoul میں یہ کام کرتے ہیں۔

 (male) Tae-Eul “مرد اپنا نام کاروبار میں ترقی یا زیادہ رقم کمانے کیلئے تبدیل کرتے ہیں، مگر میرے پاس آنیوالی خواتین اکثر غیرشادی شدہ یا مطلقہ ہوتی ہیں، اور وہ اپنا نام شوہر کی تلاش کیلئے تبدیل کرانے آتی ہیں”۔

ان کا کہنا ہے کہ تاریخ پیدائش سے مناسبت نہ رکھنے والا نام بدقسمتی کا سبب بنتا ہے، جبکہ نئے نام کے ساتھ لوگ خود کو زیادہ خوش قسمت تصور کرتے ہیں۔سپریم کورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران سات لاکھ سے زائد کورین شہریوں نے قانونی طور پر اپنا نام تبدیل کیا۔Grace Chung، Seoul National University میں خاندانی امور پڑھاتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ نوجوان کورین لڑکیوں پر شادی کرنے کا بہت دباﺅ ہوتا ہے۔ان کے مطابق کورین ثقافت میں غیر شادی شدہ خاتون کو شادی شدہ خواتین کے مقابلے میں کمتر سمجھا جاتا ہے۔تیس سال کی Grace Chung خود کنواری ہیں اور انہیں بھی اس چیز کا تجربہ ہوچکا ہے۔

 (female) Grace Chung “ہر شخص کے ذہن میں یہ خیال بیٹھ چکا ہے کہ جلد شادی کرنا ہی بہتر ہے۔ اسی سے زندگی خوشگوار گزرتی ہے۔ اگر کوئی شادی شدہ نہ ہو تو ہر شخص جاننا چاہتا ہے کہ اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ اور پھر وہ سب کوشش کرتے ہیں کہ اس خاتون کو خوشی کے راستے پر چلایا جائے”۔

تاہم بہت سی خواتین بغیر کسی دباﺅ کے بھی اپنا نام تبدیل کردیتی ہیں۔ 27 سالہ Roh Hee-seung نے پانچ سال قبل ایسا کیا۔

 (female) Roh Hee-seung “ماضی میں مجھے چند خراب تجربات کا سامنا ہوا، جس کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ میرا پرانا نام میرے لئے بدقسمتی کا سبب بن رہا ہے، میرا نیا نام تو میرے لئے خوش قسمتی کا سبب بنا ہے”۔

Roh Hee-seung کی رواں سال کے آخر میں شادی ہورہی ہے، کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ نیا نام اختیار کرنا حالات سے فرار کے مترادف ہے۔ Jasper Kim، جنوبی کوریا میں Asia-Pacific Global Research Forum کے سربراہ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی تیزرفتار اقتصادی ترقی نے ہر شخص پر دباﺅ بہت بڑھا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ نیا نام بیشتر افراد کی زندگی آسان بنا دیتا ہے۔

 (male) Jasper Kim ” میرے خیال میں کسی اور نام کا استعمال کافی مثبت اثرارت مرتب کرتا ہے۔ اس سے روزمرہ کی زندگی میں ایک تبدیلی کا احساس ہوتا ہے، اور لوگوں کو مسائل سے پیچھا چھڑانے میں مدد ملتی ہے۔ میرے خیال میں کورین جب اپنی زندگیوں میں بہت دباﺅ اور مصروفیت محسوس کرتے ہیں تو وہ نام تبدیل کرکے کسی اور شخص کی زندگی کو اپنا لیتے ہیں، یہ خیال لوگوں کو بہت پرکشش محسوس ہوتا ہے”۔

Tae-Eul کے مطابق کورین عوام نئے نام سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔

 (male) Tae-Eul “بہت سے افراد کا خیال ہوتا ہے کہ وہ ایک بار پھر سے نئی زندگی شروع کرنے لگے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ ان کی زندگیاں بہت خراب ہوچکی ہیں، تاہم حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی اتنی خراب نہیں، بلکہ زندگی میں تلخیوں کی وجہ حالات سے نمٹنے کی صلاحیت نہ ہونا ہوتی ہے۔ میرا سوچنا ہے کہ لوگوں کی جانب سے خراب حالات پر نام تبدیل کرنا افسوسناک امر ہے، لوگوں کو حالات سے نمٹنے کا اہل بننا چاہئے”۔

اس کے برعکس Yu Do-hyung اپنے نام کی تبدیلی پر خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کرنے لگی ہیں۔

 (female) Yu Do-hyung “اب میں خود کو زیادہ مستعد محسوس کرنے لگی ہوں، نئے نام سے زندگی تو مکمل طور پر نہیں بدلتی تاہم اس سے مجھے ایک نئی طاقت اور توانائی حاصل ہوئی ہے۔ میرے خیال میں نئے نام نے میری ذات کو زیادہ بہتر بنادیا ہے”۔

مگر وہ ابھی اپنے آئیڈیل کو تلاش نہیں کرپائی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *