برما میں اب لوگوں کو موبائل فونز کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی مل رہی ہے، جس سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ سستے سم کارڈز اور انٹرنیٹ تک آسان رسائی نے فیس بک اور ٹیوئیٹر جیسی ویب سائٹس کو بہت زیادہ مقبول کردیا ہے۔ تاہم کچھ گروپس نے ان سائٹس کو نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی تناﺅ پھیلانے کیلئے بھی استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہیز فوڈ کیٹرنگ سروس ، ینگون میں لوگوں تک کھانا پہنچانے والا ادارہ ہے، تھُوا ون زا اس کے مالک ہیں۔
ون زا”ہم اپنی کیٹرنگ سروس کی ترقی کیلئے فیس بک کو استعمال کررہے ہیں، ہمارے بیشتر صارفین نے ہمیں فیس بک کے ذریعے ہی ڈھونڈا”۔
صارفین آن لائن کھانے کی فہرست اور تصاویر دیکھ اپنی پسند کا پکوان گھر منگوا سکتے ہیں، آن لائن موجودگی کے باعث تھوا ون زا کو کمپنیوں سے بھی بڑے آرڈر ملنے لگے ہیں۔ صحافی مار جے، بھی اپنے کام کیلئے فیس بک استعمال کرتے ہیں، وہ اپنے فیس بک فرینڈز کی پوسٹوں سے بہت متاثر ہیں۔
مار جے”جب مجھے لکھنے کیلئے کچھ مواد نہیں ملتا، تو اس وقت آن لائن سرگرمیوں سے مجھے بہت کچھ مل جاتا ہے، سوشل میڈیا، ہم جیسے صحافی افراد کیلئے بہت ضروری ہے اور میرے خیال میں ہمیں اسے استعمال کرنا چاہئے”۔
مگر مار جے کا کہنا ہے کہ آن لائن خبروں کی اسکروٹنی ضروری ہے۔
مار جے”سوشل میڈیا پر موجود معلومات دلچسپ ہوسکتی ہے، مگر جب تصدیق کی جائے تو اکثر وہ غلط یا مبالغہ آرائی پر مشتمل نکلتی ہے، کچھ کہانیاں تو ذاتی حملوں کیلئے جان بوجھ کر تیار کی جاتی ہیں”۔
حال ہی میں انتہا پسند بدھسٹ نائن سکس نائن مو و مینٹ کی ایک سرگرم اداکارہ کا ایک انٹرویو سامنے آیا جس پر آن لائن یہ دعویٰ سامنے آیا کہ یہ مار جے نے لکھا ہے، مگر یہ انٹرویو فرضی نکلا اور اس بات نے مار جے کو مشتعل کردیا ہے۔
مار جے”میں نے ایک اداکارہ سے سچ بولنے کا مطالبہ کیا، اس نے بتایا کہ وہ یہ دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی کہ اس کے ان باکس میں ہزاروں شکایات آئی ہوئی ہیں، اس نے بتایا کہ وہ اس افواہ کے باعث بیمار ہوکر رہ گئی ہے”۔
نے فون لت، میانمار آئی سی ٹی فار ڈیویلیپمینٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، انہیں حال ہی میں قید سے رہائی ملی ہے، اس سے قبل انہیں سابق صدر
جنرل تھین شوے کا کارٹون اپنے بلاگ پر شائع کرنے پر بیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم حکومت نے انہیں معافی دیدی، وہ اس وقت سوشل میڈیا کے استعمال کے رجحان پر فکرمند ہیں۔
نے”اس وقت سوشل میڈیا اچھے یا برے ارادوں کے ساتھ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں، جو لوگ منفی یا نفرت انگیز تحاریر شائع کرتے ہیں، ان کا اثر زیادہ دیکھنے میں آتا ہے”۔
متعدد فیس بک صارفین کے ایک سے زائد اکاﺅنٹس ہیں، جو اکثر فرضی ناموں سے بنائے جاتے ہیں۔
نے”درحقیقت اس وقت برمی صارفین کے اکاﺅنٹس کی تعداد ملک میں فیس بک استعمال کرنے والوں سے بہت زیادہ ہے”۔
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا میں نفرت انگیز تحاریر کو پھیلاﺅ مل رہا ہے، جس کی وجہ سے مذہبی فسادات ہورہے ہیں، نے فون لت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس بات کا شعور بیدار کرنا ہوگا کہ آن لائن ہر مواد قابل اعتبار نہیں ہوتا۔
نے فون”باضابطہ معلومات اور کسی ایک شخص کی شائع کردہ معلومات میں فرق ہوسکتا ہے، لہذا جب کوئی غلط خبر شائع ہو تو متعلقہ حکام کو اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہئے”۔