Pakistan, Anger Over Proposal to Ban Instant Messaging in Sindh Province – پاکستان میں انٹرنیٹ پر پابندیاں

سندھ حکومت کی جانب سے اسکائپ، وائبر اور واٹس ایپ جیسی انٹرنیٹ میسجنگ سروسز پر پابندی کی تجویز پر انٹرنیٹ کی آزادی کیلئے کام کرنے والے رضاکاروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا، تاہم صوبائی حکومت سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کیلئے اسے ضروری سمجھتی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ

صوبہ سندھ خصوصاً کراچی رواں برس عسکریت پسندی، فرقہ وارانہ اور جرائم پیشہ گروپس کے تشدد سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اس تشدد کی روک تھام کیلئے حکومت سندھ نے انٹرنیٹ میسجنگ سروسز پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا، شرجیل انعام میمن سندھ کے وزیراطلاعات ہیں۔

شرجیل”امن و امان کی صورتحال اور لوگوں کی زندگیاں ہمارے لئے زیادہ اہم ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ویب سائٹس جیسے ٹینگو، وائبر، اسکائپ اور واٹس ایپ پر تین ماہ کیلئے پابندی کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ ان نیٹ ورکس پر دہشتگردوں اور مجرموں کے رابطوں کو روکا جاسکے”۔

سندھ حکومت ان نیٹ ورکس پر ملک گیر پابندی چاہتی ہے، وفاقی حکومت عام طور پر اہم قومی اور مذہبی دنوں میں عوامی تحفظ کے نام پر موبائل فون سروس بند کرتی ہی رہتی ہے، صرف 2012ءمیں ہی موبائل نیٹ ورکس بارہ مرتبہ بند کئے گئے۔

طالبعلم جیسے ابراہیم عباس کا کہنا ہے کہ سائٹس پر پابندی سے تشدد کو نہیں روکا جاسکتا۔

ابراہیم”یہاں متعددپروکسیز موجود ہیں جنھیں آپ اپنے انڈروئڈ فائل پر استعمال کرکے باآسانی وائبر اور واٹس ایپ تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں، اگر دہشتگرد وائبر ٹیکنالوجی استعمال کرکے بم دھماکے کی منصوبہ بندی کررہا ہے، تو وہ آسانی سے پروکسی کے ذریعے ایسا کرسکتا ہے، جبکہ حکومتی پابندی شہریوں کی مشکلات میں صرف اضافہ ہی کرے گی”۔

کچھ افراد جیسے پچیس سالہ میڈیا کی طالبہ سلیمہ بھٹو تو حکومتی تجویز کو مضحکہ خیز قرار دیتی ہیں۔

سلیمہ”یہ ایک مذاق ہے، یوٹیوب اور وائبر ایسی سائٹس ہیں جنھیوں نوجوان زیادہ استعمال کرتے ہیں، تو ان پر پابندی ہمیں ذہنی انتشار کا ہی شکار کرے گی، میں ملک گیر سطح پر پابندی کی کسی صورت حمایت نہیں کرسکتی”۔

پاکستان میں اس وقت تین کروڑ کے قریب انٹرنیٹ صارفین ہیں، اور حالیہ برسوں کے دوران یہاں سوشل میڈیا کے استعمال میں حیران کن اضافہ ہوا ہے، 80 لاکھ پاکستانی فیس بک جبکہ بیس لاکھ کے قریب ٹیوئیٹر استعمال کرتے ہیں، اور یہ تعداد سات فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ بلاگرز جیسے عافیہ سلیم کا ماننا ہے کہ اس کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

عافیہ”یہ ایسے عوامی مسائل کو منظرعام پر لانے کا طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، جنھیں مرکزی میڈیا جان بوجھ کر یا غیردانستہ نظر انداز کردیتا ہے۔ میرے خیال میں اس کے ذریعے بہت زیادہ معلومات ملتی ہے، شعور اجاگر ہوتا ہے اور معاشرتی سرگرمیاں بڑھتی ہیں، یہ واقعی بہت مثبت کردار ادا کررہا ہے”۔

ایک حالیہ عالمی سروے میں پاکستان کو انٹرنیٹ پر پابندیوں کے حوالے سے سرفہرست دس ممالک میں شامل کیا گیا تھا، اگرچہ حکومتیں مسلسل انٹرنیٹ پر پابندیاں لگاتی رہتی ہیں، مگر سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دینے کیلئے سوشل میڈیا پر بھی بہت توجہ دیتی ہیں۔ سیاستدان جیسے تحریک انصاف کے عواب نے حکومت سے میسجنگ سروسز پر پابندی کی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

اواب”یوٹیوب پر 2005ءاور 2010ءمیں پابندی لگائی جاچکی ہے، حکومت کو جانا چاہئے کہ اس طرح کی پابندیوں سے کسی قسم معلومات کے پھیلاﺅ کو روکا نہیں جاسکتا”۔