(Skateboarding brings change to young Cambodians)کمبوڈین اسکیٹ بورڈنگ

کمبوڈین نوجوانوں میں اسکیٹ بورڈنگ (Skateboarding) تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔ ایک بین الاقوامی این جی او کی جانب سے غریب بچوں میں اس کھیل کو فروغ دیا جارہا ہے، جس سے ان کی شخصیت میں ایک نیا نکھار پیدا ہورہا ہے۔

Phnom Penhمیں سہ پہر کا وقت درحقیقت اسکیٹ بورڈنگ کا وقت ہوتا ہے، اس وقت درجنوں نوجوان اسکیٹ بورڈ پارک میں موجود ہیں۔ بیس سالہ Chan Sopheakna اسکیٹ کرتے ہوئے ہوا میں اڑتا نظر آرہا ہے۔

 (male) Chan Sopheakna ” جب بھی میں اسکیٹ بورڈنگ کے مختلف انداز دیکھتا ہوں، تو میں انہیں سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں ایک اچھا اسکیٹر بننا چاہتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ مشق کرنا چاہتا ہوں”۔

وہ سات ماہ سے اس کھیل کو سیکھ رہا ہے، وہ اپنی والدہ کے ہمراہ ایک کوڑے خانے میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

 (male) Chan “میں کوڑے خانے میں اپنی والدہ کی مدد کرتا ہوں، اس کے ساتھ میں ایک تعمیراتی عمارت میں کام کرکے بھی اپنے خاندان کیلئے رقم کماتا ہوں۔ مجھے ہفتے میں ایک یا دو روز ہی اسکول جانے کا وقت ملتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میری تعلیم اور صحت زیادہ اچھی نہیں”۔

کچھ عرصہ قبل صحت زیادہ خراب ہونے پر اس نے اسکول چھوڑ دیا تھا، تاہم طبیعت بہتر ہونے کے بعد وہ پھر اسکول لوٹ گیا۔ وہاں ہی اس نے اسکیٹ بورڈنگ سیکھنا شروع کی۔

 (male) Chan “میں اسکیٹ بورڈنگ کے بارے میں بہت کچھ سیکھ چکا ہوں، اسکول میں مجھے سیکھایا گیا کہ اسکیٹ بورڈ سے کیسے آگے بڑھتے ہیں، کیسے خود کو روکتے ہیں، کس طرح چھلانگ اور ہوا میں اڑتے ہیں۔ اس کھیل سے میرے اندر بہت زیادہ اعتماد پیدا ہوگیا ہے، جبکہ میری صحت بھی بہتر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ میرے دوستوں کی تعداد بڑھی ہے اور یہ بھی جانا ہے کہ اسکیٹ بورڈنگ کے دوران مشکل حالات پر کیسے قابو پایا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کو میں اپنی تعلیم اور زندگی میں بھی آزماﺅں گا”۔

اب وہ مسلسل اسکول جارہا ہے اور دیگر نوجوانوں کو اسکیٹ بورڈنگ بھی سیکھا رہا ہے، جس سے اسے ماہانہ سو ڈالر کی آمدنیہورہی ہے۔

ایک بین الاقوامی این جی او Skateistan نے گزشتہ سال یہ کھیل کمبوڈیا میں متعارف کرایا تھا، این جی او کے کنٹری منیجر Benjamin Pecqueur نوجوانوں تک اس کھیل کی رسائی کی اہمیت بتارہے ہیں۔

 (male) Benjamin Pecqueur “یہ بات ٹھیک نہیں کہ اسکیٹ بورڈنگ کا کھیل بچوں کو بہتر زندگی فراہم کرسکتا ہے، درحقیقت ہم اس کے ذریعے بچوں کی تعلیمی اور خاندانی مشکلات جان کر انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ وہ اسکول واپس جاسکیں۔ درحقیقت اسکیٹ بورڈ ایسا ذریعہ ہے جسکے ذریعے ہم ہر کسی کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالیتے ہیں”۔

Skateistan نے اس سے پہلے افغانستان میں بھی اس طرح کے منصوبے پر کام کیا تھا، اور اب وہاں یہ کھیل خواتین سمیت چار سو افراد سیکھ رہے ہیں۔کمبوڈیا میں اس کھیل کے سیکھنے والوں کی تعداد دو سو کے لگ بھگ ہے، جن میں نوجوانوں کی اکثریت زیادہ ہے۔

 (male) Benjamin “اسکیٹ بورڈنگ ایک ایسی چیز ہے جسے نوجوان کرنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے اس شوق کو مزید بڑھا کر ہم انہیں واپس اسکول آنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔ ہم انہیں کہتے ہیں کہ اگر آپ اسکیٹ بورڈ کی مشق کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے ساتھ چلو۔ تاہم اگر آپ ہمارے ساتھ چلنا چاہتے ہو تو آپ کو ہمارے ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔ آپ کو ہیلمٹ اور سیفٹی جیکٹ پہننے کے ساتھ ساتھ اپنے اساتذہ کی بات سننی ہوگی۔یہ بچوں کو اسکول میں واپس لانے کا پہلا قدم ہوتا ہے، ہم انہیں ضوابط کے ذریعے ایک نظام سے متعارف کراتے ہیں، یہی واحد راستہ ہے جس سے ہم ان بچوں کی مدد کرپاتے ہیں”۔

سترہ سالہ Sem Mean اپنے خاندان کی کفالت کیلئے اسکول چھوڑنے کا سوچ رہے تھے، تاہم اب انہیں اسکول امتحانات میں کامیابی پر فخر ہے۔

 (male) Sem “جب سے میں نے اسکیٹ بورڈنگ پروگرام میں شمولیت اختیار کی ہے میں اسکول زیادہ جانے لگا ہوں۔ میں اس کھیل اور اسکول کے کام کیلئے وقت کا شیڈول بناسکتا ہوں۔ مجھے اب معلوم ہوا کہ میری تعلیم میرے مستقبل کیلئے کتنی اہم ہے، یہی وجہ ہے کہ میں اب اسکول میں بہت زیادہ محنت کررہا ہوں۔ میں بہت خوش ہوں کہ میں اپنے تمام دوستوں کے ساتھ اسکیٹ بورڈ کھیل سکتا ہوں۔ ہم اسکول اور اسکیٹ بورڈ پارک میں اچھے طالبعلم ثابت ہورہے ہیں”۔

انیس سالہ Kov Chan Sangvra اسکیٹ بورڈ سیکھانے والی واحد استاد ہیں۔ وہ اپنی نئی زندگی کے لئے اسکیٹ بورڈ کی شکرگزار ہیں۔

 (female) Kov Chan Sangvra “پہلے میں کسی کی مدد کے بغیر اسکیٹنگ نہیں کرپاتی تھی، مگر اب میں خود ایسا آسانی سے کرلیتی ہوں۔ اس کھیل سے میری تعلیم اور زندگی بھی بہتر ہوئی ہے۔یہاں زیادہ لڑکیاں اسکیٹنگ نہیں کرپاتیں تاہم مجھے اس پر مہارت حاصل کرنے پر فخر ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں اسکیٹ بورڈ پر کھڑی ہوتی ہوں اور دیگر نوجوانوں کو یہ کھیل سیکھاتی ہوں۔ خصوصاً وہ نوجوان جو میری طرح غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *