(Single Mothers Fight Prejudice in South Korea) کوریا میں تعصب کے خلاف تنہا ماﺅں کی جدوجہد

 

دنیا کے بیشتر ممالک میں مئی کے مہینے کو ماں کا مہینہ بھی سمجھا جاتا ہے، مگر جنوبی کوریا میں ایسی ماﺅں کے لئے بھی خصوصی دن منایا جاتا ہے جو اپنے بچوں کی تنہا پرورش کررہی ہیں۔

Kim Jee-young اور ان کا سات سالہ بیٹا نئے گھر میں منتقل ہوگئے ہیں، کم جی خوش ہیں کہ ان کی زندگی ایک بار پھر بہتری کی سمت میں گامزن ہے۔ رواں برس کے شروع میں کم کو اپارٹمنٹ سے نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد اس کے پاس سرکاری پناہ گاہ میں جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا۔

کم(female) “کوریا میں غیرشادی شدہ ماں کیلئے اپنے والدین کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔یہاں مجھ جیسی ماﺅں کو بہت زیادہ تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرے اپنے والدین بھی مجھے ساتھ رکھنے پر خود کو شرمندہ محسوس کرتے ہیں”۔

جنوبی کویا میںغیرشادی شدہ خواتین اپنے بچوں کو خفیہ رکھنا پسند کرتی ہیں، تاہم گیارہ مئی ایسا دن ہوتا ہے جو تنہا ماﺅں کیلئے مختص ہے۔

سیﺅل میں تنہا ماﺅں کے دن کی تقریب منائی جارہی ہے۔ تنہا ماﺅں کے حامی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ ایسی ماﺅں کو زیادہ معاونت فراہم کرے۔

ایسی خواتین کو نہ صرف انکے خاندان اپنانے سے انکار کردیتے ہیں، بلکہ اکثر انہیں ملازمتوں سے بھی فارغ کردیا جاتا ہے۔Choi Hyung-sook ایک ایسی ہی ماں ہیں، جو اپنی جیسی خواتین کو سماجی تنہائی سے بچانے کے لئے ایک این جی او چلارہی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ تنہا ماﺅں کے پاس صرف دو ہی آپشنز ہوتے ہیں۔

 (female) Choi Hyung-sook “میں نے اپنے بچے کی پیدائش سے پہلے اس بارے میں اپنے بھائی سے بات کی، جس نے مجھے اسقاط حمل کرانے کا مشورہ دیا، اور کہا کہ اگر میں ایسا نہیں کرسکتی تو پھر مجھے اس بچے کو کسی اور شخص کے حوالے کردینا چاہئے”۔

ان کا کہنا ہے کہ جب ان کے بیٹے کی پیدائش ہوئی تو وہ اسے یتیم خانے لے گئیں، تاہم وہاں جاکر انھوں نے اپنا ارادہ تبدیل کردیا۔ جنوبی کوریا میں دوسروں کے بچوں کو گود لینے کا رجحان موجود نہیں، اس لئے ایسے بچوں کو اکثر امریکہ یا دیگر ممالک بھجوادیا جاتا ہے۔ جن میں سے اکثر بچے بالغ ہونے کے بعد وطن واپس آجاتے ہیں۔Jane Jeong Trenka بھی ایسی ہی خاتون ہیں، جو بیرون ملک سے واپس جنوبی کوریا آئی ہیں۔

 (female) Jane Jeong Trenka “جنوبی کوریا تنہا ماﺅں کے حوالے سے بہت پرتعصب ملک ہے۔ایسی ماﺅں کے ہاتھوں بچوں کی پرورش کے مقابلے میں یہاں کے رہائشی بچوں کو یتیم خانوں میں بھیجنا زیادہ پسند کرتے ہیں”۔

Jane Jeong Trenka اس وقت کوریا میں TRACK نامی گروپ کی صدر ہیں، جو بچوں کو بیرون ممالک گود دینے کی مخالفت کررہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اکثر بچے کوریا اس امید کے ساتھ واپس آتے ہیں کہ وہ اپنی اصل ماﺅں کو تلاش کرسکیں گے۔ 34 سالہ Amanda Lowell ایسی ہی خاتون ہیں جو اپنی حقیقی بہن اور خالہ کو تلاش کرنے میں کامیاب رہیں۔

 (female) Amanda Lowell “انھوں نے مجھے بتایا کہ میری ماں نے مجھے تین ماہ تک اپنے پاس رکھا، جس کے بعد میری ایک رشتے دار نے مجھے اغوا کیا اور میری ماں کو بتائے بغیر مجھے بچے گود دینے والے ادارے کے حوالے کردیا۔ ایک سال بعد وہ مجھے واپس لائیں تو میری ماں کی شادی ہوچکی تھی اس لئے مجھے خفیہ طور پر باہر بھجوا دیا گیا”۔

یہاں ایسی کہانیاں عام ہیں، تاہم اکثر بچے اپنی ماﺅں کو تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔Shannon Heit اپنے خاندان کو کافی عرصے سے ڈھونڈ رہی ہیں مگر اب تک انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔

 (female) Shannon Heit “ہم اپنی ماﺅں کی بے بسی کا احساس کرسکتے ہیں، اگر انہیں ہم جیسے روشن خیال افراد، سیاست دان یا حکومت کی حمایت حاصل ہوتی، تو ان کی زندگی بہت مختلف ہوتی”۔

کم کا کہنا ہے کہ اب صورتحال کافی حد تک بہتر ہوچکی ہے، وہ ایک جزوقتی ملازمت میں مصروف ہیں، تاہم وہ اس وقت آنسو بہانے پر مجبور ہوجاتی ہیں جب وہ اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں بات کرتی ہیں۔

کم(female) “اس وقت وہ بالکل ٹھیک ہے، مگر مجھے فکر ہے جب وہ بڑا ہوگا تو اس کے اساتذہ اور اس کے اسکول کے ساتھیوں کے والدین کہیں سے تنہا ماں کا بیٹا ہونے پر تنقید کا نشانہ نہ بنائیں”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *