سنگاپور کے اکثر شعبوں میں مثالی ریاست سمجھا جاتا ہے، تاہم یہاں ہر شخص تیز ترین ترقی سے مستفید نہیں ہورہا۔ حالیہ دنوں میں کچھ فنکاروں کے خلاف مقدمات کے بعد یہاں فنکاروں کی برادری کے احتجاج میں اضافہ ہوا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ساماتھا لو سنگاپور میں اپنے طنزیہ اسٹریٹ اسٹکرز کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، گزشتہ سال شہر بھر میں انکے مخصوص پیغام پھیلے نظر آئے تھے۔
انھوں نے یہ الفاظ بھی اسپرے سے پینٹ کئے، میرے دادا کا روڈ، جس کے بارے میں کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سنگاپور کے بانی لی کوان یو کا حوالہ ہے، جو جرم ہے۔ تاہم سامانتھا لو کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سنگاپوری شہریوں کا جذبہ بڑھانا ہے۔
سامانتھا”میں صرف لوگوں کو تعلق بنانا چاہتی ہوں، میں لوگوں کو آپس میں جوڑ کر انہیں اپنے پیغام سے واقف کرانا چاہتی ہوں۔ میں ان سے اپنے معاشرے کے مختلف پہلوﺅں پر بات کرنا چاہتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ وہ اپنے ارگرد کے بارے میں سوالات کریں، کیونکہ اس وقت تو ہر کوئی چلتے ہوئے اپنے فونز پر جھکا نظر آتا ہے، تو میں اس رجحان کو بدلنا چاہتی ہوں”۔
تاہم اس ریاست جہاں چیونگم کی فروخت پر پابندی ہو، وہاں اس طرح کے خیالات کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا، اور یہی وجہ ہے کہ 27 سالہ فنکارہ کو عوامی تکلیف کا باعث بننے کا الزام لگا کر گرفتار کرلیا گیا اور انہیں 240 گھنٹے کی کمیونٹی سروس کی سزا سنائی گئی۔ اپنے سزا کا تذکرہ کرتے ہوئے سامانتھا لوتسلیم کرتی ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ سنگاپوری فنکار گھٹن محسوس کرتے ہوں، مگر وہ ان میں شامل نہیں۔
سامانتھا لو”میں جانتی ہوں کہ میری آزادی پر پابندی ہے کیونکہ اب میں گلیوں کو چھو نہیں سکتی، مگر اصل بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے اندر کس حد تک آزادی محسوس کرتے ہیں، اسی کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے”۔
سوال” آپ کیسا محسوس کررہی ہیں؟
سامانتھا لو”میں خود کو اب بھی آزاد محسوس کرتی ہوں، مجھے لگتا ہے کہ میرے کندھوں پر موجود بوجھ اتر گیا ہے، حالانکہ اس وقت میں آزاد نہیں اور مجھے کسی سے ملنے کی اجازت نہیں، مگر اظہار رائے کے حوالے سے مجھے نہیں لگتا کہ میں گھٹن کا شکار ہوں، میں اب بھی اسٹکرز بنارہی ہوں، حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ یہ غیرقانونی ہے مگر میں اپنے صلاحیتوں کی آزادی پر پابندی نہیں لگاسکتی، اظہار رائے کی آزادی ہی اہم ہے، کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا؟”
سامانتھا کی گرفتاری پر آن لائن کافی مذمت سامنے آئی اور چودہ ہزار سے زائد افراد نے ان کی رہائی کیلئے آن لائن پٹیشن پر دستخط کئے، جبکہ اس مقدمے کے بعد سنگاپور میں فنکارانہ اور سیاسی اظہار رائے کی آزادی پر گرما گرم بحث کا بھی آغاز ہوگیا۔ اس میں شدت اس وقت آئی جب حال ہی میں ایک کارٹونسٹ لیسلی چیو کو گرفتار کرلیا گیا۔لیسلی چیو کو فیس بک پر مزاحیہ خاکے شائع کرنے پر مبینہ فتنہ انگیزی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا، اگر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں تین برس قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ وکیل ایم روی کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنگاپور کی میڈیا کا بڑا حصہ ریاستی ملکیت میں ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں تنقید اور مذاق اڑانا بھی جرم بن جاتا ہے۔
روی”حالیہ مہینوں یا گزشتہ برس جب کسی سیاسی شخصیت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو ہتک عزت کے مقدمات کا خطرہ بڑھ گیا، اسی طرح توہین عدالت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، کیونکہ حکومت عوامی سطح پر کسی بھی مقدمے پر لوگوں کو بات چیت سے روک سکتی ہے۔ تو یہاں ریاست کی جانب سے کئی طرح کی پابندیاں نافذ ہیں، یہی وجہ ہے کہ اگر آن لائن بھی کوئی کچھ بولتا ہے تو اسے شرپسندی یا توہین عدالت کے ازلامات کے تحت جیل بھیج دیا جاتا ہے۔یہ ایک تشویشناک رجحان ہے”۔
ٹیرینس چیو نگ، سنگاپور کے انسٹیٹیوٹ فار ایسٹ ایشیئن اسٹڈیز سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے حال ہی میں آرٹ منشور کا مسودہ تیار کیا، جس میں زیادہ فنکارانہ آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔
چونگ “میرے خیال میں بیشتر افراد کا یہ پرانا مطالبہ ہے، جو لوگ فنکارانہ سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں، اور جو لوگ فنون لطیفہ کے بارے میں لکھتے ہیں، انہیں زیادہ آزادی ملنی چاہئے، تاہم ہماری حکومت اس بارے میں کوئی بات سننے کیلئے تیار ہی نہیں”۔
انکا کہنا ہے کہ سنگاپور اس وقت ترقی کے اہم مرحلے پر موجود ہے مگر یہاں مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
چونگ”ہم دنیا کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم ثقافتی ، تخلیقی اور سرحدوں کی بندش توڑنے کے خواہشمند ہیں، کیونکہ یہاں اب بھی ایسے شعبے موجود ہیں جنھیں نوگو ایریاز کہا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں پیچیدہ پالیسیاں ہی اس وقت مسئلہ ہیں، اب ہم یہاں سے کہاں جائیں؟ میرے خیال میں کوئی بھی اس کا جواب دینے کیلئے تیار نہیں، مجھے لگتا ہے کہ حکومت کو ابھی بھی بہت کرنا ہوگا اور فنکاروں کو بھی کافی جدوجہد کرنا ہوگا”۔