برمی حکومت نے آئندہ سال سے خام لکڑی کی برآمد پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے، جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے باعث اس پابندی کو لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔نئے قوانین کے تحت خام لکڑی کی برآمد پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جبکہ گھریلو ضروریات کیلئے درختوں کی کٹائی کو کم کیا جائے گا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سا ون نینگ برما کی ساگوان صنعت کیلئے ٹرک چلانے کا کام کرتے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے لکڑی کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے نے ان کی ملازمت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ساون”اس خبر کو سن کر مجھے کیسا محسوس ہورہا ہے؟ مجھے لگ رہا ہے کہ اب مجھے اپنے لئے نئی ملازمت تلاش کرنا ہوگی”۔
سوال” کس طرح کی ملازمت؟
ساون نینگ”ایسی ہی جیسی ابھی کررہا ہوں یا پھر مجھے گھر واپس جانا پڑے گا”۔
وہ آٹھ سال سے یہاں کام کررہے ہیں، ان کے دو چھوٹے بیتے ہیں، جن میں سے ایک تین سال کا ہے، جبکہ دوسرا ڈیڑھ سال کا ہے، انکے بقول ماضی کے اچھے دنوں میں ملازمین کو کمپنی کی جانب سے بونسز ملا کرتے تھے، مگر کام میں کمی کے باعث آمدنی کم ہوتی چلی گئی۔
ساون “پہلے ہمارے پاس فارغ وقت نہیں ہوتا تھا، مگر اب سال میں ہمارے چار سے پانچ ماہ فارغ ہی گزرتے ہیں”۔
غیر قانونی کٹائی، قبائلی تصادم اور بہت زیادہ کٹائی کے باعث برمی جنگلات کا خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔ایک دہائی قبل برما کا نصف سے زائد حصہ جنگلات سے گھرا ہوا تھا، مگر اب یہ صرف ایک چوتھائی رہ گیا ہے۔ لکڑہارے شیل پھا گزشتہ بیس سال سے یہ کام کررہے ہیں۔
شیل”اب بڑے درختوں کو تلاش کرنا آسان نہیں، اب ہو صرف اونچے مقامات یا پہاڑی چوٹیوں پر ہی ملتے ہیں”۔
شیل پھا کے گیارہ رکنی خاندان کا انحصار ہی اس کام پر ہے۔
شیل پھا”پورے خاندان کا گزارہ میری آمدنی سے ہوتا ہے اور اب ہمیں مشکلات کا سامنا ہے”۔
وہ ایک ہاتھی کی نگہداشت بھی کررہے ہیں۔
سیل”جنگل میں یہ مادہ ہاتھی بانس، موٹے تنے اور جڑوں کا گنٹھا وغیرہ کھاتی ہے، اسے میری خصوصی نگہداشت کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم گھر میں اس کے خوراک کی ذمہ داری میرے اوپر ہے”۔
تاہم ماہرین ماحولیات اور حکومت کا کہنا ہے کہ لکڑی کی برآمد پر پابندی جانوروں کی بقاءکیلئے ضروری ہے، برما ہاتھیوں، ریچھوں، شیروں اور پرندوں کی سینکڑوں اقسام کا گھر ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے اطلاق سے ہمیں بہترین قسم کی لکڑی برآمد کرنے پر توجہ دینے کا موقع ملے گا۔من تھین اعلیٰ معیار کی لکڑی کی مصنوعات فروخت کرنے والی کمپنی چلاتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ اس مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔
من تھن”یہ پابندی ہماری صنعت کیلئے فائدہ مند ہے، اور یہ ہمارے ملک کے ورکرز کیلئے بھی فائدہ مند ہے”۔
برما ساگوان کی لکڑی کا اہم برآمد کنندہ ہے یعنی عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ فیصد ہے، تاہم من تھن کا کہنا ہے کہ لکڑی کی تیار مصنوعات کی مدد سے خام لکڑی کے مقابلے میں زیادہ زرمبادلہ کمایا جاسکے گا۔
من تھن”اس سے آمدنی میں تین سے چار گنا اضافہ ہوگا، کیونکہ خام مال کی بجائے تیار شدہ مصنوعات سے زیادہ زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے”۔
من تھن کا کہنا ہے کہ ان کے ملک پر مغربی حکومتوں کی پابندیوں کی وجہ سے انہیں اپنی دو فیکٹریاں بند کرنا پڑی تھیں، مگر اب وہ اپنے کاروبار کے بہتر مستقبل کیلئے پرامید ہیں۔
من تھن “میرے خیال میں خام مال کی برآمد پرعائد اس پابندی کے چھ ماہ بعد ہی مجھے نئے آرڈرز ملنے لگیں گے، اور ایک سال کے اندر صورتحال بہت بہتر ہوجائے گی”۔
تاہم ٹرک ڈرائیورساون نینگ کو کوئی اور کام دیکھنا پڑے گا۔
ساون نینگ”طوفان ہماری طرف بڑھ رہا ہے، ہم اس ملازمت جانے کی صورت میں دیگر آپشنز پر بات چیت کررے ہیں”۔
تاہم شیلل پھا کو توقع ہے کہ نئی سرمایہ کاری سے ان کی زندگی بھی بدلے گی۔
شیل پھا”مجھے توقع ہے کہ تیار شدہ مصنوعات کی صنعت بھی ہمارے لئے بہتر ثابت ہوگی۔ جبکہ اس میں میرے ہاتھی کو بھی جگہ ملے گی”۔