ہزاروں غریب اور بے گھر برمی بچوں کیلئے تعلیم ایک خواب سے کم نہیں، انہیں زندہ رہنے کیلئے کام کرنا پڑتا ہے اور غربت کے باعث تعلیم کا خرچہ اٹھا نہیں پاتے، تاہم ایک شخص صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہر شام یہ داخلی گزرگاہ بچوں سے بھر جاتی ہے،اس عارضی کلاس روم کے فرش پر جگہ جگہ ان کی کتابیں اور بستے پڑے ہوئے ہیں۔برمی علاقے منڈالاکے چالیس غریب ترین آوارہ بچوں کیلئے یہ تعلیم کے حصول کا واحد موقع ہے۔ سین ون نامی شخص نے پانچ سال قبل ایک ریلوے اسٹیشن کی اس گزرگاہ میں یہ کلاس روم قائم کیا تھا، یہاں آنے والے بیشتر بچے بے گھر اور اسٹیشن میں ہی مقیم ہیں۔
سین ون”اکثر بچوں کے والدین معمولی ملازمتیں جیسے بیل گاڑی چلانا یا قلی وغیرہ کا کام کرتے ہیں، جبکہ کچھ ایسی خواتین ہیں جو اکیلے اپنے بچوں کی پرورش کررہی ہیں”۔
سین ون اپنے اس کلاس روم کو ایک اپارٹمنٹ میں منتقل کرنے کے خواہشمند ہیں، کیونکہ اس گزرگاہ میں موسم سب سے بڑا چیلنج ہے۔
سین ون”میرے خیال میں کرائے پر کوئی جگہ لینا ناممکن ہے، کیونکہ اپارٹمنٹ کا کرایہ پانچ سے آٹھ سو ڈالرز ماہانہ کے درمیان ہے، اور ہمارا بجٹ اتنا نہیں۔ ابھی جب بارش ہوتی ہے تو ہمیں کلاس روک کر کسی اور جگہ جانا پڑتا ہے، اگر بارش مسلسل جاری رہے تو ہم بچوں کو گھر بھیج دیتے ہیں اور متبادل کلاس کچھ دیر بعد شروع کرتے ہیں”۔
اس جگہ سات اساتذہ رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرتے ہیں، اس کلاس کے چلنے کا انحصار امداد، پرانے طالبعلموں کی داخلہ فیس وغیرہ پر ہے۔ایک رضاکار اس حوالے سے بتارہی ہیں۔
خاتون رضا کار”مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں اپنی تعلیم ان بچوں کی مدد کیلئے استعمال کررہی ہوں”۔
بچوں کو اس بات کی پروا نہیں کہ وہ کس جگہ پڑھ رہے ہیں، ان کی نظر میں تعلیم غربت سے نجات کا راستہ ہے۔ ماﺅنگ ماﺅنگ سین دسویں کلاس میں پڑھ رہا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ وہ انگریزی اور معاشیات کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا، تاہم تعلیم میں بڑا چیلنج بارش ہے۔ متعدد طالبعلموں کی زندگیاں کافی مشکل ہیں، یہ کلاس رات کو ہی چلتی ہے، تاکہ طالبعلم دن بھر میں کام کرکے اپنا روزگار حاصل کرسکیں۔
طالبہ”میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے اور میری والدہ ملازمت کرکے ہمارا پیٹ پال رہی ہیں، میرا بھائی موٹرسائیکل ٹیکسی چلاتا ہے جبکہ میری بہن ایک اسٹور میں کام کرتی ہے”۔
میڈیا کی توجہ کے باعث اس کلاس کی جانب کچھ ڈونر بھی متوجہ ہوئے ہیں۔
ڈونر”میں نے اس کلاس کے بارے میں ایک جریدے میں پڑھا اور اب میں اس کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے تعاون کرنا چاہتا ہوں، گزشتہ دنوں ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز کے باعث یہ کلاس بند رہی تھی، اس لئے اب میں انہیں امداد فراہم کررہا ہوں”۔