Campaign Against Racism in Indiaبھارت میں نسل پرستی

شمال مشرقی بھارت میں ایک نوجوان طالبعلم کی موت کے بعد نسل پرستی یا نسلی امتیاز کا مسئلہ ایک بار پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا، اس سلسلے میں ایک نئی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

شمالی مشرقی بھارتی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طالبعلم و دیگر افراد نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کررہے ہیں، انھوں نے ایروناچل پرادیش سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان لڑے کی تصویر اٹھائی ہوئی ہے، جسے حال ہی میں دہلی میں تشدد کرکے ہلاک کردیا گیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں پوسٹرز بھی ہیں جن میں لکھا ہے کہ نسل پرستی کا خاتمہ کرو۔پچیس سالہ ییشی وانگچھو بھی مظاہرین میں شامل ہیں۔

ییشی وانگچھو”یہ پورا واقعہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوا، مگر انھوں نے اپنی آنکھیں اور کان بند کرلئے۔ لگتا تھا کہ وہ بھی مرچکے ہیں، جب پولیس تحقیقات کیلئے آئی تو علاقے کے کسی بھی رہائشی نے گواہی نہیں دی، لوگوں کو انسانیت کا تو خیال کرنا چاہئے، خود بھی زندہ رہیں اور دیگر افراد کو انسانوں کی طرح زندہ رہنے دیں”۔

کچھ گواہوں کے مطابق ہلاک ہونے والا نوجوان مقامی مارکیٹ کے دکانداروں سے ایک پتا پوچھ رہا تھا، جس پر دکانداروں نے اس کے بالوں کا مذاق اڑایا، جب اس نوجوان نے اعتراض کیا تو اسے بری طرح مارا گیا۔

شمال مشرقی ریاستوں سے متعدد طالبعلم دہلی اور دیگر بڑے شہروں میں اعلیٰ تعلیم کیلئے آتے ہیں، ان میں اکثریت کو روزانہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے۔ تیئس سالہ سنی تھیام دہلی یونیورسٹی سے ماسٹرز کررہی ہیں، انہیں یہاں پانچ سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے، مگر اب بھی وہ خود کو اجنبی سمجھتی ہیں۔

سنی تھیام”مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے ملک میں ایک خلائی مخلوق ہوں، گھر جاکر جب میں باہر گھومتی ہوں تو مجھے اچھا لگتا ہے، مجھے وہاں کے لوگ بھی اچھے لگتے ہیں، مگر یہاں مجھے ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ یہاں جب کوئی آپ کو گھورنے لگے تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کسی بھی لڑکی سے پوچھے سب کے جذبات یکساں ہی ہوں گے۔ یہاں اس طرح کی حرکات عام ہیں جس سے لگتا ہے کہ جیسے میں کچھ غلط کررہی ہوں۔ مجھے ہر وقت عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے، اور اس سے مجھے بہت تکلیف بھی ہوتی ہے۔ اگر یہاں کے لوگ ہمیں بھارتی نہیں سمجھتے تو مجھے معلوم نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے”۔

شمال مشرقی خطہ متعدد مسلح گروپس کا مرکز ہے جو بھارت سے آزادی چاہتے ہیں، مگر صرف اسی خطے کے رہائشیوں کو ہی امتیازی سلوک کا سامنا نہیں، بلکہ افریقی برادری بھی اسی مسئلے کا شکار ہے، بلکہ انہیں تو جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس طرح کے واقعات میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ سامبو ڈیوس ٹاکینانائیجرین بزنس مین ہیں جو کافی عرصے سے بھارت میں مقیم ہیں۔

سامبو ڈیوس ٹاکینا”سیاہ فام افراد کیساتھ اس طرح کے واقعات اور ان کے بارے میں بولی جانے والی زبان کسی طرح قابل قبول نہیں کیونکہ یہ واضح طور پر نسل پرستی کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ ہمیں نیگرو اور کالیا کہتے ہیں، میں اس لفظ کا مطلب تو نہیں سمجھتا مگر وہ یہ کہہ کر ہنستے ہیں، انہیں اس طرح کی زبان استعمال نہیں کرنی چاہئے، افریقہ میں ہم سب افراد کو برابر سمجھتے ہیں، ہم کسی کو ہراساں نہیں کرتے، اس لئے انہیں بھی ہمارے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہئے”۔

تاہم بھارت میں نسلی پرستی کافی عام ہے،مادھو کشورایک جریدے منوشی کی ایڈیٹر ہیں۔

کشور”سیاہ رنگت کے حامل افراد کے خلاف تعصب کی جڑیں بہت گہری ہیں، آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ گہری رنگت والی خواتین کی شادیاں بہت مشکل سے ہوتی ہیں، تاہم جہاں تک شمال مشرقی ریاستوں کی بات ہے، انہیں نسل پرستی، نفرت یا جارحیت سے ہٹ کر نظر انداز کیا جارہا ہے، جو کہ ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی ہے”۔

تاہم انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی کارکن جیسے بنالاکشمی نیپرام اس بات سے متفق نہیں۔

بنالاکشمی “اگر کچھ افراد کے خیال میں بھارت نسل پرست نہیں، تو انہیں خواب غفلت سے جاگ جانا چاہئے، یہاں بھارت میں شہریوں کے بارے میں فیصلہ ان کی جسمانی رنگت یا دیگر جسمانی فیچرز دیکھ کر کیا جاتا ہے، اور اسے ہی نسل پرستی کہا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں نسل پرستی کی جڑیں بہت گہری ہیں، اور ہم اسے نظرانداز نہیں کرسکتے”۔