A Nessieچینی عفریت
اسکاٹ لینڈ کا علاقہ Loch Ness دنیا کی واحد جگہ نہیں جہاں پراسرار پانی کے اندر پائے جانیوالا عفریت پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چین کی جھیل Hanasi میں اسکاٹ لینڈ جیسا آبی عفریت موجود ہے۔قازقستان اور منگولیا کی سرحد کے قریب واقع چینی صوبے Xinjiang کی اس جھیل کے نام کا مطلب ہے خوبصورت اور پراسرار۔
شمالی Xingjiang میں موسم سرما کا آغاز ہوا ہے اور ہم لوگ Hanasi نامی جھیل پر برفباری سے قبل پہنچ جانا چاہتے ہیں۔تاہم شدید برفباری کے باعث ہمیں ایک رات جھیل کے قریب واقع گاﺅں Chungwuer میں گزارنا پڑی۔
گاﺅں کے ایک قازق ریسٹورنٹ کے مالک Xiaoke Lati کے بیٹے شیر علی کا کہنا ہے کہ اس نے جھیل میں ایک انتہائی عجیب مخلوق کو دیکھا ہے۔
شیر علی(male) “میں نے جھیل کے عفریت کو دیکھا ہوا ہے، میں نے اس کی دم دیکھی وہ ایک بہت بڑی سرخ مچھلی جیسا نظر آتا ہے، میں نے اسے کم از کم دو بار تو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے”۔
اس نے ہمیں بتایا کہ یہ عفریت کم از کم چار میٹر لمبا ہے یعنی اس کے والد کے ریسٹورنٹ سے بھی لمبا۔مگر کیا یہ واقعی ایک بچے کا وہم ہے؟
Hanasi جھیل کے اس لیجنڈ کو Chinese Nessie کا نام دیا گیا جس کی داستانیں برسوں سے عوام کو مسحور کررہی ہیں۔ 2007ءکی ایک ٹی وی نیوز میں اس جھیل کے اندر عجیب وضع کی گئی مخلوق کے ایک گروپ کو انتہائی تیزی سے سفر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ چین میں گزشتہ ایک دہائی سے اس جھیل میں ڈریگن یا دیگر عفریتوں کی موجودگی کی افواہیں پھیل رہی ہیں۔ ہم اگلی صبح جھیل کے کنارے پہنچ گئے، یہاں پہنچنے میں ہمیں تین گھنٹے لگے، جسکی وجہ برف کے باعث شاہراﺅں کی بندش تھی۔ہم نے اپنے ایک ڈرائیور Saier Qiangyida سے پوچھا کہ کیا وہ اس عفریت کو دیکھ چکا ہے؟
(male) Saier Qiangyida “جی ہاں میں اسے دیکھ چکا ہوں، اس کا رنگ سفید ہے، مگر گرمیوں میں وہ اپنی رنگت تبدیل کرلیتا ہے”۔
سوال”کیا آپ اس عفریت سے خوفزدہ ہیں؟
(male) Saier Qiangyida “میں خوفزدہ نہیں، تاہم اس جھیل پر شکار ممنوع ہے، ایسا کرنے کی صورت میں بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے”۔
Saier Qiangyida کا تعلق Tuva Mongolian نامی برادری سے ہے، جو اس جھیل کے ساتھ ہی رہائش پذیر ہے۔ اس عفریت کے بارے میں منگولین داستانوں میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک بڑی مچھلی تھی جو موسم سرما میں دریا سے یہاں پہنچی اور برفباری کے باعث پھنس گئی۔ جب موسم بہار میں برف پگھلی تو اس مچھلی نے زمین پر چھلانگ لگائی اور وہاں موجود تمام کاشتکاروں کو ہڑپ کرگئی۔ چند سائسندانوں کا ماننا ہے کہ یہ عفریت درحقیقت ایک بہت بڑی taimen مچھلی ہے جو ٹراﺅٹ کی نسل کی ہوتی ہے۔اس نسل کی مچھلی کو دنیا بھر میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی اور انتہائی خوفناک مچھلی سمجھا جاتا ہے، جو کہ دومیٹر لمبی ہوتی ہے۔
موسم گرما میں اس جھیل کے کنارے ہزاروں سیاح آتے ہیں،یہاں ایک انتہائی گھنا جنگل موجود ہے اور اس جگہ کو Oriental Switzerland بھی کہا جاتا ہے، مگر موسم سرما میں یہ جگہ ایک صحرا کا منظر پیش کرتی ہے۔
یہاں ہم نے ایک دیہاتی کو جھیل کے پانی میں جال ڈالتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ کیا اس نے جھیل کے عفریت کو دیکھا ہے تو وہ مسکرا اٹھا۔
(male) villager “یہاں آنیوالا کوئی شخص ایسا نہیں جو اس حوالے سے کہانیاں نہ بناتا ہو، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس طرح کا کوئی عفریت دنیا میں نہیں پایا جاتا”۔
