ملبوسات کو نت نئے اسٹائل دینے اور وقت کے ساتھ بدلتے رجحانات اپنانے کو فیشن ڈیزائننگ کا نام دیا گیا ہے ،پچھلے کچھ سالوں میںدنیا بھر میںفیشن ایک گلوبل انڈسٹری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔فرانس،اٹلی،یو کے اور یو ایس کے بعدترکی اور اسپین سے نامور ڈیزائنرز اُبھر کر دنیا کے سامنے آئے ہیں۔پاکستان میں ڈیزائنر ملبوسات کے بڑ ھتے ہوئے رجحان نے فیشن ڈیزائننگ کو خاصا فروغ دیا ہے۔اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میںفیشن ڈیزائننگ ایک پر کشش،گلیمرس اور منافع بخش فیلڈ سمجھی جاتی ہے۔ملک بھر میں کئی ادارے فیشن ڈیزائننگ میں ڈگری اور سرٹیفکیٹ کورسز کے ساتھ ساتھ نئے ڈیزائنرز کو متعارف کروانے اوربین الاقوامی اداروں کے ساتھcollaborationکے مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ایشین انسٹیٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں بحیثیت فیشن انسٹرکٹر خدمات انجام دینے والی ندا خرم کا کہناہے کہ خواتین کیلئے نہ صرف اس فیلڈ میں لامحدود مواقع ہیں بلکہ تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین زیادہ اچھی ڈیزائنر ثابت ہو سکتی ہیں:
پاکستان کے تمام صوبے رنگا رنگ ثقافت اورحسین رسم و رواج کا نمونہ ہیں اس حوالے سے ندا خرم کا کہنا ہے کہ اگر ان تمام رنگوں کو یکجا کیا جائے تو تخلیق ہونے والے اسٹائل اور ڈیزائن قومی اور بین الاقوامی سطح پر دھوم مچا سکتے ہیں:
تخلیقی ذہن رکھنے والی خواتین کیلئے فیشن ڈیزائننگ اور اسٹائلنگ سے بہتر اور کوئی فیلڈ نہیں سمجھی جا سکتی:
ندا خرم سمیت بے شمار فیشن ڈیزائنرز اس بات پر متفق ہیں کہ دیہی علاقوں میں بسنے والی خواتین کے ہنر سے استفادہ کرتے ہوئے فیشن انڈسٹری کو ایک نئی جدت دی جا سکتی ہے جسے ہر سطح پر پسند کیا جائے گا:
کراچی کے علاقے طارق روڈ پہ فیشن آﺅٹ لیٹ چلانے والی نرگس قمر کا کہنا ہے انھوں نے ہینڈ میڈ ملبوسات سے اپنے کریئر کا آغاز کیا اور اب وہ اپنا بوتیک کامیابی سے چلا رہی ہیں:
مختلف علاقوں کے کلچر، دلکش رنگوں،ڈیزائنزاور شیپس کو استعمال میں لاتے ہوئے نہ صرف ملبوسات بلکہ دیگر لائف اسٹائل ایسسریز بھی ڈیزائن کی جاسکتی ہیں،اس وقت جہاں ڈیزائنرویئر اینڈ ایسسریزکاٹرینڈ فروغ پارہا ہے وہیںقومی اور بین الاقوامی سطح پرفیشن ڈیزائنرزکی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
