Saving Malaysian Street Kids – ملائیشین آوارہ بچے

ملائیشیاءجنوب مشرقی ایشیاءکے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے، تاہم اس کے دارالحکومت کوالالمپور میں اب بھی ہزاروں بچے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے مطابق اس وقت کوالالمپور کی گلیوں میں ہزاروں بچے مقیم ہیں، مقامات جیسے بوکیٹ بنٹیک، چو کٹ اوراسٹریٹ پیٹالنگ میں بڑی تعداد میں بھکاری نظر آتے ہیں۔یہ فقیرنی اپنا نام چھپانے کی درخواست کررہی ہے۔

وہ بتا رہی ہے کہ اس کے آٹھ بچے ہیں، جس میں سب سے چھوٹا صرف دو سال کا ہے، یہاں چار سے آٹھ سال کی عمر کے بچے گلیوں میں کھلونے فروخت کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ ہم نے دو لڑکیوں سے بات کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے والدسایلین نے اس میں مداخلت کی۔

ہم نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں سے آیا ہے، جس پر اس کا جواب تھا کہ وہ سباح سے آیا ہے۔

سائیلن جیسے افراد کو روزگار کے متبادل مواقع فراہم کرنے کیلئے 2010ءمیں چو کٹ کٹا نامی مرکز قائم کیا گیا تھا، یہاں گلیوں میں مقیم بچوں کو زندگی گزارنے کیلئے نئے ہنر سیکھائے جاتے ہیں۔ اس مرکز کی بانیوں میں شامل لیو پک سوون کا کہنا ہے کہ یہ آوارہ بچے انتہائی غریب گھرانون سے تعلق رکھتے ہیں، یہ بہت برے ماحول میں رہ رہے ہیں، اسکول جانے کی ان میں سکت نہیں جبکہ ان میں سے متعدد بچے منشیات کے عادی یا جسم فروشی کا کام کررہے ہیں۔وہ ان بچوں کو اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ دکھانا چاہتی ہیں۔

لیو”جو بچے دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں، تو ہم اسے فنی صلاحیتوں سے روشناس کراتے ہیں، ہم نے ان بچوں سے ایک سروے کرکے معلوم کیا ہے کہ کس طرح وقت گزارنا پسند کرتے ہیں؟ کون سا کام سیکھنا انہیں پسند ہے؟ اس سروے سے ہمیں معلوم ہوا کہ یہ تمام بچے ٹی شرٹ پرنٹنگ کا کام کرنے، ویڈیو، فوٹو گرافی، مصوری اور ایسے ہی دیگر کاموں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی ورکشاپس میں ان پر کام کررہے ہیں۔ ہم اپنے منصوبے ایسے بنارہے ہیں جو ان بچوں کی ضروریات کے مطابق ہوں”۔

بے شمار معروف فنکار ان ورکشاپس میں آتے ہیں۔

لیو”اس وقت ہمارے منصوبے میں دو سو رضاکاروں نے اپنے نام لکھوائے ہوئے ہیں، ان میں سے بیشتر طالبعلم اور نوجوان ہیں، یہ رضاکار ہر سیشن میں ہماری مدد کیلئے آتے ہیں”۔

تاہم چو کٹ کٹاجیسی این جی اوز ک قیام کے باوجود ابھی بھی ملائیشیاءمیں آوارہ بچوں کی تعداد میں کمی کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔