نیپال میں امن معاہدے کے ذریعے خانہ جنگی کے اختتام کو چھ سال ہوگئے ہیں، اس معاہدے کے تحت سابق ماﺅ جنگجوﺅں کو دو انتخاب دیئے گئے تھے، ایک فوج میں شمولیت دوسرا ریٹائر ہوجانا۔ گزشتہ برس ایک ہزار جنگجوﺅں کو فوج میں شامل کیا گیا تھا اور وہ اب تربیت حاصل کررہے ہیں، تاہم چودہ ہزار کے قریب افراد نے رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ کا راستہ اپنایا، جنھیں حکومت نے بحالی نو کیلئے فنڈز دیئے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
انتیس سالہ پون کمار بگاٹی چاقو کی دھار تیز کررہے ہیں، تاکہ شہد کی مکھیوں کے چھتے سے شہد نکالا جاسکے۔
اب وہ شہد نکالنے کے لئے تیار ہیں۔
پون کمار نے حال ہی میں اس پیشے کو اپنا ہے، گزشتہ پانچ برس وہ ماﺅ نوازوں کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے عسکری ونگ پیپلز لبریشن آرمی میں کام کرتے رہے۔
پون”میرے متعدد دوست میرے سامنے مرگئے، میں طبی شعبے میں کام کرتا تھا، یہی وجہ تھی کہ میں زخمی جنگجوﺅں کا علاج کرتا تھا، مگر ناکافی ادویات و آلات کے باعث ہم ان کی زندگیاں بچانے میں ناکام رہتے تھے”۔
نیپالی خانہ جنگی حکومتی فورسز اور ماﺅ باغیوں کے درمیان 1996ءمیں شروع ہوئی تھی، جس کے دوران پندرہ ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب بے گھر ہوگئے تھے۔اس خانہ جنگی کا اختتام 2006ءمیں ایک امن معاہدے پر دستخط سے ہوا، جس کے تحت ایک ہزار سے زائد سابق باغیوں کو نیپالی فوج میں شامل کرلیا گیا، جبکہ 14 ہزار جیسے پون نے رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لے لی۔
پون”کنٹونمنٹ میں قیام کے دوران میں نے چند نئی چیزیں سیکھیں، جس کے بعد میں پراعتماد تھا کہ میں فوج سے باہر رہ کر بھی کچھ کرسکتا ہوں۔ میں نے فوج کی بجائے ایک عام شہری کی حیثیت سے رہنا زیادہ بہتر سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا”۔
اس کے بدلے میں حکومت کی جانب سے انہیں بارہ ہزار ڈالر کی امداد دی گئی۔
پون”اس رقم کے ساتھ میں نے کچھ زمین خریدی اور وہاں ایک چھوٹا سا گھر تعمیر کیا، اس کے بعد بچ جانے والی رقم سے میں نے اپنا کاروبار شروع کیا اور شہد فروخت کرنے کا کام شروع کرکے کمانا شروع کردیا”۔
پون اور ان کی اہلیہ سونو اب دارالحکومت کھٹمنڈو سے سات سو کلومیٹر دور واقع ایک گاﺅںماسوریا میں مقیم ہیں، اس گاﺅں میں دو سو سابق جنگجو بھی رہائش پذیر ہیں۔ تینتالیس سالہ سبھاش ڈنگی کا کہنا ہے کہ گاﺅں والوں نے اپنے نئے پڑوسیوں کا کھلے دل سے استقبال کیا ہے۔
سبھاش”یہاں متعدد سابق جنگجو موجود ہیں اور وہ یہاں متخف کام کررہے ہیں۔ ان کو احساس ہوگیا ہے کہ صرف سیاست ہی بقاءکیلئے کافی نہیں انہیں اپنے بہتر مستقبل کیلئے کام کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ چند ایک نے اپنی چھوٹی فیکٹریاں یا کاروبار شروع کرلئے ہیں، اور وہ خودانحصاری حاصل کرچکے ہیں، ہم اس بات کو سراہتے ہیں، ہم ان لوگوں سے سخت محنت کے فوائد سیکھ رہے ہیں”۔
بتیس سالہ چترا بہادر چوہدری اپنے نئے گیسٹ ہاﺅس میں مقیم مہمانوں کیلئے کھانا پکارہے ہیں۔ وہ اس سے پہلے ایک ماﺅ کمانڈر تھے اور خانہ جنگی کے دوران وہ شراب فروخت کرنے کے الزام میں کئی ہوٹل تباہ کرچکے ہیں، مگر ابچترا بہادر چوہدری اور ان کی بیویراما اپنا ہوٹل چلارہے ہیں۔
چترا بہادر چوہدری”ریٹائرمنٹ لینے کے بعد ہم نے ہوٹل بزنس میں جانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اس کے ذریعے روزگار کا حصول آسان ہے۔ ہم اس گاﺅں میں یہ گیسٹ ہاﺅس چلارہے ہیں، یہ کوئی بڑا قصبہ نہیں اور ہم بھی روزانہ پچاس سے ساٹھ ڈالرز کی آمدنی کے ہدف پر نظر جمائے ہوئے تھے، مگر ابھی ہماری روزانہ آمدنی صرف دس ڈالرز ہے۔ اس وقت ہمارے لئے صورتحال زیادہ اچھی نہیں”۔
تاہم انہیں اپنے اس فیصلے پر پچھتاوا نہیں۔
بہادر”میں اب سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتا، حالانکہ میری جماعت مجھے اکثر اپنے اجلاسوں میں مدعو کرتی ہے مگر میں انکار کردیتا ہوں۔ ہم ان ماﺅ رہنماﺅں سے بیزار ہوچکے ہیں اور میں اب بیرون ملک ملازمت کرنا چاہتا ہوں۔ میرا پاسپورٹ تیار ہوچکا ہے اور میں ملائیشیاءیا کسی خلیجی ریاست میں ملازمت تلاش کرنا چاہتا ہوں”۔
مگر متعدد افراد کیلئے زندگی ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوچکی ہے۔ پون اور سونو نے آج چالیس کلو شہد جمع کیا ہے، اور وہ اسے قریبی مارکیٹ
میں اسے فروخت کرکے اسی ڈالرز کمانے کے لئے پرامید ہیں۔
پون”زندگی اب بہت آرام دہ ہوچکی ہے، میری ایک بیٹی ہے اور میں اپنے خاندان کیلئے کام کررہا ہوں۔ ہمیں مقامی افراد کی حمایت حاصل ہے اور وہ ہماری حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ میں اب اپنی بیٹی کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتا ہوں”۔