(Saving Bengal Tigers from Tourism )بھارت میں بنگال ٹائیگرز کا تحفظ

بھارتی سپریم کورٹ نے ملک میں شیروں کیلئے مخصوص علاقوں کی سیاحت پر عارضی پابندی عائد کردی ہے۔ بھارت میں شیروں کی تعداد میں تشویشناک حد تک کمی آئی ہے، اور اس وقت ملک میں صرف سترہ سو شیر موجود ہے، جبکہ ایک صدی قبل یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی زائد تھی۔

بھارت جنگلی شیروں کی سب سے بڑی آبادی والا ملک سمجھا جاتا ہے، یہاں ہر سال پانچ لاکھ سے زائد افراد شیروں کے علاقوں میں گھومنے کیلئے جاتے ہیں۔ اس صنعت سے سالانہ پچیس لاکھ ڈالر کمائے جاتے ہیں۔

مگر کرہ ارض میں شیروں کی نسل کے خاتمے کا خطرہ سامنے آگیا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ غیرقانونی شکار ہے۔ ماہر جنگلی حیات Ajay Dubey کا کہنا ہے کہ کمرشل سرگرمیاں اور انسانی مداخلت بھی اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

 (male) Ajay Dubey “میرے خیال میں اس قسم کی سیاحت شیروں کی آبادی بڑھانے میں مددگار نہیں ہوتی، بھارت میں شیروں کے متعدد ایسے علاقے ہیں، جہاں سے شیروں کا ہی خاتمہ ہوگیا ہے، حالانکہ وہاں سیاحوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔ سیاحوں کی گاڑیاں ایسے علاقوں میں داخل ہوجاتی ہیں جن سے شیر غضبناک ہوجاتے ہیں۔ 2010ءمیں Bandhavgarh کے علاقے میں شیروں کا سفاکانہ قتل بھی غیرذمہ دارانہ سیاحت کا ایک اور ثبوت ہے۔ میرے خیال میں اس صنعت کو قوانین کے دائرے میں لانا بہتر آپشن ہے۔ شیروں کا تحفظ اس بے فضول سیاحت سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ سیاحت Wildlife Protection Act, 1972 کے تحت ہونی چاہئے، جس کے مطابق سیاحوں کو مخصوص علاقوں میں داخلے کی اجازت نہیں”۔

سیاحت کے اثرات سے پریشان Ajay Dubey نے اپنی تشویش کو سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔انھوں نے ایک درخواست دائر کی جس میں کہا تھا کہ حکومت شیروں کے علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کو ضابطے میں لائے۔

اجے(male) “میں 1972ءکے Wildlife Protection Act پر عملدرآمد چاہتا ہوں۔ یہ قانون کہتا ہے کہ شیروں کی خاص عادات اور علاقوں کو انسانی سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جائے۔ اس قانون پر عملدرآمد شیروں کے تحفظ کیلئے ضروری ہے”۔

اس درخواست پر گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ان علاقوں میں سیاحت کو عارضی طور پر ممنوع قرار دیدیا۔ وسیم قادری National Tiger Conservation Authority سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

وسیم قادری(male) “سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ شیروں کے لئے مخصوص علاقوں کے مخصوص مقامات پر کسی قسم کی سیاحت نہیں ہوگی۔ عدالت نے تمام ریاستوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیصلے پر عملدرآمد کرے اور اس حوالے سے بیان حلفی جمع کرائیں۔ عدالت نے تمام ریاستوں کو دو بار ہدایت کے باوجود بیان حلفی جمع نہ کرانے پر دو سو ڈالر کا جرمانہ بھی کیا ہے”۔

مگر اس سیاحت کے آپریٹرز اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ Aditya Singh، راجھستان کی ریاست میں شیروں کیلئے مخصوص Rathambore Tiger Reserve میں ایک ریزورٹ کے مالک ہیں۔

آدیتیہ سنگھ(male)”میں اس حکم پر خوش نہیں، یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے، تاہم ابھی کیس زیرسماعت ہے۔ اس لئے میں عدالتی حکم پر کچھ کہہ نہیں سکتا۔ مگر اس سے ہمارا روزگار متاثر ہوگا۔ شیروں کے علاقے کے ارگرد متعدد چھوٹے قصبے اور دیہات موجود ہیں جن کاروزگار سیاحت پر ہی منحصر ہیں۔ یہ فیصلہ تباہ کن ہے”۔

فروری میں راجھستان میں شیروں کے تحفظ کیلئے ایک پورے گاﺅں کو ہی نقل مکانی کرنا پڑی تھی، ان لوگوں کو نئی زمین پر منتقل کیا گیا، جبکہ انہیں ایک لاکھ روپے سے زائد دیئے گئے۔ تاہم ابھی بھی راجھستان میں شیروں کے خاص علاقے میں گیارہ دیہات موجود ہیں، جہاں پچیس سو سے زائد افراد مقیم ہیں۔

انیل سنگھ کی زندگی کا انحصار ہی شیروں کے علاقے میں سیاحت پر ہے، وہ مدھیہ پردیش میں واقع Satpura tiger reserves ایک ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں۔

انیل سنگھ(male) “اگر یہ پابندی برقرار رہی تو ہمیں ملازمت کے بغیر رہنا پڑے گا۔ روزگار کے حصول کیلئے میرے پاس کوئی اور صلاحیت نہیں۔ میرے خیال میں اس سیاحت پر پابندی سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا، ہزاروں افراد کا روزگار اس سیاحت سے منسلک ہے۔ میرے خیال میں لوگوں کو ان حقائق کا بھی جائزہ لینا چاہئے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *