(Nepal Private Schools with Western Names Under Attack ) نیپالی اسکولوں کے مغربی ناموں کا تنازعہ

نیپال میں بیشتر نجی اسکولوں کے ناموں یورپی طرز کے ہیں، مگر اب حکومت ان کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس نے اس طرح کے ناموں پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے نیپالی ثقافت کیلئے مضر قرار دیا ہے۔

نیپالی تعلیمی نظام کا تمام تر انحصار غیرملکی امداد پر ہے، دارالحکومت کھٹمنڈو میں ڈھائی سو کے لگ بھگ نجی اسکولوں کے نام یورپی ہیں، جو طالبعلموں اور بیرونی فنڈز دینے والے اداروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان اسکولوں میں بین الاقوامی نصاب پڑھایا جاتا ہے، جبکہ فیسیں بہت زیادہ ہیں۔ ان اسکولوں کے نام تاریخی شخصیات جیسے آئن اسٹائن، مقامات فلوریڈا وغیرہ پر رکھے جاتے ہیں، تاہم نیپال کی حکمران ماﺅ نواز پارٹی کو یہ رجحان پسند نہیں۔ اس جماعت کے طلبہ ونگ نے ان اسکولوں کی بندش کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔

کھٹمنڈو میں ہونیوالی پریس کانفرنس میں طلبہ ونگ کے کوآرڈنیٹر Sharad Rasayeli نے غیرملکی ناموں والے چالیس اسکول بندکرانے کا مطالبہ کیا۔

 (male) Sharad Rasayeli “اسکولوں کے ناموں سے قومیت کا اظہار ہوتا ہے، تاہم ہمارے ملک میں متعدد تعلیمی ادارے غیرملکی شہروں یا شخصیات وغیرہ کے نام استعمال کرتے ہیں۔ یہاں ایک لیورپول اسکول ہے جس کا لوگو بالکل برطانیہ کے معروف فٹبال کلب لیورپول جیسا ہے، ان اداروں کے مالکان غیرملکی نام رکھ کر بچوں کے والدین سے زیادہ سے زیادہ رقم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی انکا اصل مقصد ہوتا ہے”۔

طلبہ یونین کا اصرار ہے کہ انکا احتجاج پرامن ہے، مگر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس یونین نے تعلیمی اداروں میں توڑ پھوڑ کی ہے اور کئی جگہ تو اسکولوں کی بسوں کو بھی نذرآتش کیا۔ ماﺅ طلبہ ونگ نے Rato Bangala نامی اسکول پر بھی حملہ کیا، جس کا نام غیرملکی نہیں تھا۔ Anamolmani Poudel صحافی ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہ احتجاج صرف قوم پرستی کو فروغ دینے کیلئے نہیں۔

 (male) Anamolmani Poudel “اس احتجاج کے پیچھے سیاسی وجوہات ہیں، حال ہی میں ماﺅ نوازوں میں پھوٹ پڑی ہے اور ایک دھڑے نے سخت گیر سیاسی جماعت تشکیل دیدی ہے۔ اس جماعت کا پہلا عوامی کنونشن آئندہ چند ماہ میں ہوگا، اسی مقصد کیلئے یہ لوگ نجی اسکولوں سے چندہ مانگ رہے ہیں، جو اس سے انکار کرتا ہے اس کے اسکول کو ہدف بنالیا جاتا ہے”۔

گزشتہ دنوں وزارت تعلیم نے بھی نجی اسکولوں کے مغربی ناموں پر پابندی عائد کردی، ڈاکٹر Rosenath Pandey وزارت تعلیم کے ترجمان ہیں۔

 (male) Rosenath Pandey “آپ کو یہاں پینٹاگون، وائٹ فیلڈ اور ایسے ہی متعدد ناموں کے اسکول مل جائیں گے، ہمارے تعلیمی قوانین میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسکولوں کے ناموں میں نیپالی ثقافت کا عکس جھلکنا چاہئے، مگر نجی اسکول اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ کچھ کالجوں کے انگریزی نام دیکھ کر طالبعلم ان کی جانب متوجہ ہوتے ہیں، ہم نے اب تمام اسکولوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے نام تبدیل کریں”۔

تاہم نجی اسکول یہ مطالبہ ماننے کیلئے تیار نہیں۔Higher Secondery School Association کے مطابق ملک میں ساڑھے سات سو نجی اسکولوں میں سے بیشتر مغربی نام استعمال کرتے ہیں۔ یوراج شرما ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین ہیں۔

یوراج(male) “نئی پالیسی اچھی نہیں، کیونکہ اسکولوں کے نام ہمارے برانڈ ہیں۔ ہم کئی برسوں سے تعلیمی خدمت میں مصروف ہیں، کوئی بھی شخص ناموں کی تبدیلی قبول نہیں کرے گا۔ ایک یا دو دہائیوں سے کام کرنے والے اسکولوں سے اب تک لاکھوں طالبعلم تعلیم حاصل کرچکے ہیں، انہیں تعلیمی سرٹیفکیٹس بھی مل چکے ہیں، انکا مستقبل تو اسکولوں کے نام تبدیل ہونے سے تباہ ہوجائے گا”۔

تاہم تعلیمی ماہر ڈاکٹر Bidhyanath Koirala کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ بڑا تیکنیکی مسئلہ نہیں۔

 (male) Bidhyanath Koirala “اسکول نئے سرٹیفکیٹس تیار کرسکتے ہیں، جس پر لکھا جاسکتا ہے کہ پہلے ہمارا نام یہ تھا اور اب یہ تبدیل ہوگیا ہے۔ یہ بہت آسان ہے میری نظر میں تو یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں۔دنیا بھر میں اس طرح کے واقعات موجود ہیں، کئی مقامات پر یونیورسٹیوں نے ہی اپنے نام تبدیل کئے مگر کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوا”۔

مگر وائٹ گولڈ کالج سے تعلق رکھنے والی Dikshya Basne اپنے تعلیمی ادارے کا نام تبدیل نہیں کرنا چاہتی۔

 (female) Dikshya Basne “نہیں اسکولوں کا نام تبدیل کرنا ٹھیک نہیں، ہم اپنے ادارے میں انگریزی پڑھاتے ہیں، تو آخر ہم اپنے اسکول کا انگلش نام کیوں نہیں رکھ سکتے؟ اسکولوں کیلئے نیپالی نام ٹھیک نہیں، میں وائٹ گولڈ کالج میں پڑھتی ہوں اور اس کو نیپالی نام دیا گیا تو وہ سننے میں اچھا نہیں لگے گا۔ خدارا ہمارے اسکولوں کو نام تبدیل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے”۔

انیس سالہ Pratik Dhakal، Prasadi Academy میں زیرتعلیم ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ناموں سے زیادہ اہم بات تعلیم کا معیار اچھا ہونا ہے۔

 (male) Pratik Dhakal “اگر اسکولوں کا معیار اچھا نہیں تو غیرملکی نام استعمال کرنے سے کیا ہوگا؟ تاہم اگر وہ اچھی تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کریں تو انہیں نام برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے۔ میں Prasadi میں پڑھتا ہوں جس کا نیپالی میں ترجمہ خدا کا تحفہ ہے، یہاں مجھے اچھی تعلیم فراہم کی جارہی ہے”۔

ہائیر سکینڈری اسکول ایسوسی ایشن حکومتی اقدامات کے خلاف جدوجہد کی تیاریاں کررہی ہے۔ یوراج شرما اس حوالے سے بتارہے ہیں۔

یوراج(male) “ہماری ایسوسی ایشن نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، ہم اس معاملے پر مسلسل اجلاس کررہے ہیں، ہمارا کہنا ہے کہ حکومت کو اسکولوں کے نام تبدیل کرانے ہیں تو وہ ہمیں زرتلافی ادا کرے، ہم نے کئی برسوں تک ان اداروں پر وسیع سرمایہ کاری کی ہے، اگر زبردستی کی گئی تو حکومت کو قانونی جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *