Salary Increment تنخوا ہو ں میں اضافہ
ہر نیا سال شروع ہوتے ہی سرکاری ملازمین میں آنے والے بجٹ کے بارے چہ میگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ مہنگائی ، تنخواہوں میں عدم مطابقت، کنٹریکٹ ملازمین کے مستقبل، پے ا سکیل، پنشن، ایڈہاک ریلیف، ایڈیشنل الاو¿نسزاور پے اینڈ پنشن کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد پر گفتگوکا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔سرکاری ملازمین کی مختلف تنظیموں کی طرف سے تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے ریلیاں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں اور یہ سلسلہ بجٹ کی آمد تک جاری رہتا ہے۔
اس سال بھی بجٹ میں وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کیلئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں‘ پنشن اور بعض الاﺅنسز میں اضافہ کیا ہے۔مگر کیا سرکاری ملازمین کی نظر میں یہ اضافہ کافی ہے؟ اس حوالے سے پاکستان نرسنگ فیڈریشن کراچی چیپٹر کے صدر اور گریڈ سولہ کے سرکاری افسر اعجازکلیری کچھ زیادہ مطمئن نظر نہیں آتے۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق 2009ءتک سرکاری ملازمین کو ملنے والے تمام ایڈہاک ریلیف تنخواہ میں ضم کر دیئے گئے ہیں، جس سے سالانہ انکریمنٹ میں بنیادی طور پر15کی بجائے80فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ گذشتہ سال 50 فیصد ایڈہاک ریلیف اور 15 فیصد موجودہ سال ملنے والے ریلیف ملتے رہیں گے اور اپنی موجودہ سطح پر منجمد رہیں گے۔مگر اس حوالے سے ایک خیال یہ ہے کہ یہ مسئلہ تنخواہوں میں اضافے سے نہیں بلکہ مہنگائی میں کمی لانے سے حل ہو گا۔سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے عہدیدار افتخارمحمد عظمی کا بھی یہی کہنا ہے۔
نوٹیفیکشن کےمطابق نظرثانی شدہ بنیادی پے ا سکیل کا اطلاق یکم جولائی 2011 ءسے ہوگا۔گریڈ ایک تا پندرہ کے ملازمین کے کنوینس الاﺅنس میں20 سے 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ واشنگ، ڈریس،ہل ایریا،فائروڈ،یونیفارم اور نائب قاصد الاﺅنسزمیں بھی سو فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ گریڈ بارہ کے سرکاری اہلکار عمران قریشی کا تو مطالبہ ہے کہ حکومت کو ہرسال تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔
نئے پے اسکیل کے بعد گریڈ ایک کی کم سے کم بنیادی تنخواہ2970 روپے سے بڑھ کر4800 روپے ہوگئی ہے،جبکہ گریڈ 22کے افسرکی کم سے کم بنیادی تنخواہ 27680روپے سے بڑھ کر 43ہزار روپے ہوگئی ہے۔ای ٹی او لیاقت آباد اور گریڈ پندرہ کی افسر راحیلہ تنخواہوں میں اضافے پر مطمئن ہیں اور انہوںنے تسلیم کیا کہ تنخواہوں کے مقابلے میں سرکاری ملازمین کی کار کردگی10 فیصد بھی نہیں۔
تاہم ان سب مختلف آراءکے باوجود سرکاری ملازمین کی اکثریت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے میں تنخواہوں میں حالیہ اضافے کو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر قرار دیتی ہے۔آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن کراچی ڈویژن کے صدر اور مرکزی اسسٹنٹ پریس سیکرٹری سید توقیر شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہمارے ساتھ مذاکرات میں کئے گئے وعدے کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |

Leave a Reply