ذکر آم کا ہو اور مرزا غالب کا تذکرہ نہ آئے ، یہ ناممکن ہے۔غالب کہا کرتے تھے کہ آم ہوں اور خوب ہوں۔ غالب کے آم کھانے کے شوق نے ہی آم کے قصوں اور لطیفوں کواردو ادب میں مشہور کردیا ہے۔ پھلوں کا بادشاہ آم ،برصغیر میں چار ہزار سال قبل سے بویا جارہا ہے۔ اس کی تمام اقسام کی پیداوار دو طریقوں ،دیسی اور قلمی سے ہوتی ہے۔پاکستان میں اگرچہ چاروں صوبوں میں آم کی پیداوار ہوتی ہے، مگر قومی پیداوار کا بڑا حصہ پنجاب اور سندھ سے حاصل ہوتا ہے۔ پنجاب میں کاشت کیجانیوالی آم کی قسموں کے بارے میں مزید تفصیلات ملتان مینگوگروئرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری میجر ریٹائرڈ طارق خان بتارہے ہیں۔
پاکستانی آم کے بارے میں دنیا بھر کے زرعی سائنس دانوں کی متفقہ رائے ہے کہ اس سے زیادہ میٹھا اور خوش ذائقہ آم کرہ ارض پر کہیں اور پیدا نہیں ہوتا۔دنیا کے دیگر ممالک میں پیدا ہونیوالی آموں کی اقسام کے مقابلے میں پاکستانی آم اپنے ذائقے ، تاثیر ، رنگ اور صحت بخش خوبیوں کے لحاظ سے سب سے منفرد ہیں۔پاکستان آم پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرابڑا ملک ہے،تاہم خراب موسمی حالات کی وجہ سے اس سال پیداوار کم رہنے کا امکان ہے۔سندھ میںآم کی پیداوار کے حوالے سے سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل نبی بخش سٹھیو بتا رہے ہیں۔
آم کی قیمت اور طلب میں اضافے کے رجحان سے پاکستان میں آم کے زیر کاشت رقبے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس سے آنے والے برسوں میں اس کی پیداوار نمایاں طورپر بڑھنے کا امکان ہے۔اس حوالے سے غیرملکی اداروں سے بھی مدد لی جارہی ہے۔اس بارے میں میجر ریٹائرڈ طارق خان بتارہے ہیں۔
18لاکھ ٹن سالانہ پیداوار کے مقابلے میں پاکستانی آم کی برآمدمحض سوا لاکھ ٹن کے قریب ہے جو زیادہ تر خلیجی ریاستوں کو بھیجا جاتا ہے جبکہ اس کا محض چھٹا حصہ چند یورپی ممالک اور امریکہ کوبرآمد ہوتا ہے۔اس میدان میں بھارت ہمارا سب سے بڑا حریف ہے۔ اس حوالے سے درپیش مشکلات کے بارے میں سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل نبی بخش سٹھیو بتا رہے ہیں۔
میجر ریٹائرڈ طارق خان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر برآمدات ہوائی جہازوں کے ذریعے ہوتی ہیں، جس سے اخراجات کی شرح بڑھ جاتی ہے، اس کیلئے سمندری ذرائع پر توجہ دی جانی چاہئے۔
سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل نبی بخش سٹھیو کا کہنا ہے کہ بھارت آم سے نت نئی مصنوعات تیار کرکے برآمد کرتا ہے، جبکہ اس حوالے سے پاکستان میں کوئی کام نہیں ہورہا۔
میجر ریٹائرڈ طارق خان اس حوالے سے حکومتی عدم تعاون کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
آم کی افادیت سے متعلق اب تک بہت کچھ لکھا اور پڑھا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں ایک بار میں نہیں گنوا یاجاسکتا۔کراچی سمیت ملک کے کئی شہروں میں مینگو فیسٹیول کا انعقاد بھی ہورہا ہے جس سے عوام بہت زیادہ محظوظ ہورہے ہیں۔ نبی بخش سٹھیو اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔
ایک ایک ٹھیلے پر کئی کئی قسم اور رنگوں کے آم خریداروں کے منتظر ہیں۔ آم کے موسم میںکیری کا شربت اور مینگوشیک بھی خوب پیاجاتا ہے۔ جب آم کا موسم نہ ہو تو بھی لوگ مینگوآئس کریم کھا کر آم کی یاد تازہ کرلیتے ہیں۔ شوقین لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ بارش میں آم کھانے کا مزا ہی کچھ اور ہے۔ پنجاب کے کچھ شہروں میں ابرکرم برس گیا ہے ، مگرسندھ ابھی پیاسا ہے۔
