اسلامی ماہ و سال میں چند ایسے متبرک و محترم ایام بھی ہیں جن کو عالم اسلام میں نہایت ہی عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ان میں سے ماہ© شعبان المعظم ہمارے لیے اِس وجہ سے قابل احترام ہے کہ اس میں وہ شبِ عظیم بھی ہے جس کو شب برا¿ت کہا جاتا ہے۔مگر ہمارے ملک میںشعبان جیسے مبارک مہینے میںتو پٹاخے پھاڑنے کا باقاعدہ مقابلہ شروع ہوجاتا ہے جو عید الفطر تک جاری رہتا ہے،جس سے لوگوں کی نیند، آرام اور سکون ختم ہوجاتے ہیں۔ جامعہ بنوریہ کے منتظم مفتی محمد نعیم اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔
ہر سال شب برات کے موقع پر آتش با زی اور پٹا خوں کے سامان کی فروخت پر ملک بھر میں حکومت کی جانب سے پابندی لگا ئی جاتی ہے، مگر پابندی کے باوجود گلی محلوں میں آتش با زی اور پٹا خوں کا سامان تیار، فروخت اور استعمال کیا جا تا ہے۔حالانکہ رہائشی علاقوں میں آتش بازی کا سامان تیار کرنا قوانین کے تحت جرم ہے۔جبکہ ہر سال ملک کے مختلف علاقوں میں ماہ شعبان سے رمضان کے دوران آتشبازی کے گوداموں،دکانوں اور اسٹوروں میں آگ لگ جانے سے بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصان الگ ہوتا ہے۔اس پابندی پر موثر عملدرآمد کرائے جانے کے سوال پر ملیر تھانے کے SHO، محمد علی کا کہنا تھا۔
جب محکمہ داخلہ سندھ کے مشیر شرف الدین میمن سے پو لیس ڈیپارٹمنٹ کی اس شکایت کے بارے میں بات کی گئی تو انہوں نے کہا۔
ایسے کوئی اعداد و شمار سامنے نہیں آتے کہ کتنے حساس لوگ ان مسلسل دہشت خیز آوازوں سے ذہنی مریض بن گئے، سماعت سے محروم ہوگئے یا اس دار فانی سے کوچ کر گئے، مگر ایسے واقعات پیش ضرور آتے ہیں۔اسلام میں لوگوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے ۔مفتی محمد نعیم کا کہنا ہے کہ ان واقعات کا مطلب ہے کہ ہمارے معاشرے میں حقوق العباد پر عمل نہیں کیاجا رہا۔
پاکستان میں آگ سے جلنے کے واقعات میںشعبان المعظم اوربالخصوص شب برات کے موقع پر اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ اضافہ پٹاخوں کے جلنے سے ہوتا ہے۔اس موقع پر آگ سے متاثر ہونے والوں میں 30 فیصد 12 سال سے کم عمر کے بچے ہوتے ہیں۔ بچوں میں جھلسنے کی بڑی وجہ ماچس کی تیلی کا شعلہ، ایک دوسرے پر پھلجھڑیاں پھینکنا اور پٹاخوں کا ہاتھ میں پھٹ جانا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ماں باپ یا تو خود یہ پٹاخے لے کر دیتے ہیں یا پھر بچوں کو پیسے دیکر خود بھی شریک جرم ہوتے ہیں،اس حوالے سے ایک پٹاخے بیچنے والے کاکہنا ہے۔ fire cracker seller
ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے ماہ شعبان اور اسکے بعد بھی پٹاخوں اور دھماکہ خیز اشیاءکے استعمال پر پابندی کو یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ معصوم لوگوں کی جان و مال کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔اس کے علاوہ ایسی آگاہی مہم بھی چلائی جانی چاہئے جس سے عوام کو پٹاخوں کے نقصانات کے بارے میں معلوم ہوسکے۔
