Burma Plans for a Nationwide Ceasefire – برمی جنگ بندی

برمی حکومت تمام مسلح گروپس کیساتھ جنگ بندی کی منصوبہ بندی کررہی ہے، دہائیوں سے یہ گروپس خودمختاری کیلئے مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

دو سو کے قریب افراد امن کے عالمی دن کے موقع پر ینگون کے نواح میں مارچ کررہے ہیں، انھوں نے ہاتھ میں بینرز اٹھارکھے ہیں، کہ خانہ جنگی کو روکو، لاﺅڈ اسپیکرز پر امن کے نغمے چل رہے ہیں۔تیس سالہ سیاسی کارکن ما تن تن تو اس مارچ میں شامل ہیں۔

ما تن تن تو”میں چاہتی ہوں کہ لوگ سیاست اور امن کے بارے میں جانے، یہ ہماری زندگیوں کا حصہ ہے، بغیر امن کے ہم کچھ نہیں کرسکتے، ہم اس کے بغیر اپنا کاروبار بھی نہیں کرسکتے”۔

برما میں گزشتہ چھ دہائیوں سے خانہ جنگی جاری ہے، اتھارہ مسلح گروپس حکومت کیخلاف زیادہ خودمختاری کے حصول کیلئے لڑ رہے ہیں، متعدد بار جنگ بندی کے معاہدے ہوئے اور پھر ختم ہوگئے، تاہم گزشتہ دنوں صدر تھین سووننے تمام گروپس کیساتھ ملک گیر سطح پر جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کئے۔

یو حلا ماونگ سوے، حکومتی ادارے میانمار پیس سینٹر سے تعلق رکھتے ہیں۔

یو ہلا”یہ معاہدہ آگے بڑھنے کیلئے ضروری تھا، مسلح گروپس نے بات چیت میں مطالبہ کیا تھا کہ حکومت پہلے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرے، اس کے بعد سیاسی مذکرات شروع کئے جائیں، حکومت اور مسلح گروپس کا ماننا ہے کہ مسائل کاحل بات چیت سے ہی ممکن ہے”۔

اب تک حکومت نے اٹھارہ میں سے سولہ کیساتھ جنگ بندی کے الگ الگ معاہدوں پر دستخط کردیئے ہیں، تمام فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ سیاسی بات چیت اور ایک ساتھ ملکر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کیا جانا چاہئے۔ نیو مون اسٹیٹ پارٹی، مون نامی قبائلی مسلح گروپ کا سیاسی ونگ ہے۔ اس گروپ کے ترجمان نئی تلا نی نے حکومتی منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔

نئی تلا”ہم جلد از جلد امن کا قیام چاہتے ہیں، تاکہ لوگ جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثر نہ ہوں، پچاس سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے لوگوں کو جنگوں سے متاثر ہوتے ہوئے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم امن کے قیام کو یقینی بنائیں، تمام جماعتوں کو اس کے فوائد کے بارے میں سوچنا چاہئے”۔

مگر اب بھی کچن اسٹیٹ میں مسلح لڑائی جارہی ہے اور چینی سرحد کیساتھ ستر ہزار پناہ گزین موجود ہیں، اب تک کاچن انڈیپینڈینس آرمی اور پالا اونگ اسٹیٹ لبریشن فرنٹ کیساتھ جنگ بندی معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔

کچھ خواتین گروپس نے حال ہی میں وسطی ینگون میں تین روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا تھا تاکہ خانہ جنگی کا پرامن حل نکالا جاسکے۔ یہ پہلی بار تھا کہ اس طرح کی کوئی کانفرنس ہوئی۔ تن تن نیو ، وومنز لیگ آف برما کی جنرل سیکرٹری ہیں، انکا کہنا ہے کہ حکومت کو نسلی گروپس کے اندر اعتماد بڑھانا چاہئے۔

تن تن”حکومت کو مشاورت اور تمام مسلح گروپس کیساتھ ابتدائی معاہدے پر دستخط کرنے چاہئے، اس کے بعد وہ سیاسی مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات کرے۔ مگر ابھی حکومت اس طریقہ کار پر عمل نہیں کررہی ہے، اور اس نے ملک گیر جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کئے، ہمارے خیال میں یہ طریقہ کار زیادہ موثر نہیں”۔

انکا کہنا ہے کہ اس عمل میں خواتین کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔

تن تن “ہم اس بات کا انتظار نہیں کرسکتے کہ کوئی ہمیں ہمارے حقوق دے، تو ہمیں بھی اس عمل میں شامل ہونا ہوگا، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے،کیا ہماری مدد کے بغیر امن عمل تیزرفتاری سے آگے بڑھ سکتا ہے؟”

بیا لیس سالہ مئے لی اونگ کا تعلق کا چن اسٹیٹ سے ہے۔

مئے لی اونگ”ہم اپنے لئے امن کی ضمانت چاہتے ہیں،یہاں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک ارادہ پختہ نہ ہو، یہ ملک مختلف نسلوں اور مذاہب پر مشتمل یونین ہے، ہمیں اپنے تضادات کا احترام کرنا چاہئے اور ہر ایک کو مساوی حیثیت دینی چاہئے، اگر ایسا نہ ہوا تو یہاں مستقل امن قائم نہیں ہوسکے گا”۔