برما میں ہزاروں مسلمانوں کو حکومتی ہدایات کے باوجود طبی سہولیات سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے پناہ گزین کیمپوں میں ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔امریکی کانگریس کے سابق رکن ٹام اینڈرسن نے گزشتہ دنوں برما کا دورہ کیا، جس کے دوران انھوں نے مسلمانوں کے پناہ گزین کیمپ کا بھی دورہ کیا، ان کا انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں
اینڈرسن”اقوام متحدہ نے ان مسلمانوں کو دنیا کی سب سے زیادہ غیرمحفوظ برادری قرار دیا ہے، جنھیں انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے، لاکھوں مسلمان اس وقت ان پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں”۔
سوال”آپ نے ان کیمپوں کا دورہ کیا ہے، وہاں کی صورتحال کے بارے میں بتائیں؟
اینڈ رسن”وہاں مقیم افراد مکمل طور پر دنیا سے کٹ چکے ہیں، انہیں کیمپ چھوڑنے کی اجازت نہیں، ہم ان نوے ہزار افراد کی بات کررہے ہیں، جو اس چھوٹے سے رقبے میں موجود ہیں، وہ یہاں سے اسی صورت میں نکل سکتے ہیں جب وہ کشتیوں پر سوار ہوکر کہیں اور کوچ کرجائیں، اور کسی اور ملک فرار ہونے کی کوشش کریں، صرف گزشتہ برس ہی تیس ہزار افراد کشتیوں پر فرار ہوئے، ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کتنے بچنے میں کامیاب رہے، مگر ہمیں یہ معلوم ہے کہ ان میں سے بیشتر ہیومین ٹریفکنگ کا شکار ضرور ہوگئے، اس وہاں کی خراب صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔کچھ افراد نے مجھے بتایا ہے کہ عالمی برادری ان کی واحد امید ہے، اور اگر اس نے کچھ نہ کیا تو ان لوگوں کا کہنا ہے کہ خدارا ہمارے اوپر بمباری کرکے ہمارا خاتمہ ہی کردیا جائے، میں نے یہ بات متعدد افراد کے منہ سے سنی”۔
سوال” طبی سہولیات کی کمی کیساتھ ساتھ وہاں کی عام حالت جیسے خوراک، پانی، سیوریج وغیرہ کی حالت کیسی ہے، کیا وہاں لوگ واقعی بیمار ہورہے ہیں؟
اینڈرسن”جی ہاں لوگوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں اور وہ مر بھی رہے ہیں، مجھے ابھی پتا چلا ہے کہ طبی سہولیات واپس لینے کے فیصلے کے بعد کئی افراد مرچکے ہیں، اور یہ سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے، میں نے متعدد افراد سے ملاقات کے دوران محسوس کیا کہ وہاں طبی سہولیات کی بہت زیادہ ضرورت ہے، وہاں ایڈز اور پھیپھڑوں کے امراض بھی پھیل رہے ہیں،وہاں ہزاروں افراد ملیریا کی وباءکا بھی شکار ہوچکے ہیں، تو وہاں کے حالات انتہائی سنگین ہے اور وہاں طبی سہولیات کی فوری ضرورت ہے، بلکہ بیشتر افراد کو تو ہسپتال منتقل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ادویات نہ ہونے کے باعث وہاں کے لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا کہ اپنے پیاروں کے علاج کیلئے کیا، کیا جائے”۔
سوال”کیا آپ کو معلوم یا اندازہ ہے کہ اب تک وہاں کتنی ہلاکتیں ہوچکی ہیں؟
اینڈرسن”میں کوئی تعداد تو نہیں بتاسکتا، میں صرف بتا سکتا ہوں وہ یہ کہ جب میں ان کیمپوں میں گیا تو میں نے اس چار روزہ دورے کے دوران بہت زیادہ افراد کو دیکھا، جو قریب المرگ تھے، تاہم کوئی تعداد فی الحال بھی بتائی جاسکتی، مگر یہ حقیقت ہے کہ کچھ افراد ہلاک ضرور ہوئے ہیں”۔
سوال”کی آپ کو توقع ہے کہ برمی حکومت پر دباﺅ سے ان کیمپوں میں طبی مراکز کھل جائیں گے؟ آپ کے خیال میں کس قسم کا دباﺅ اس حوالے سے کامیابی دلاسکے گا؟
اینڈرسن”یہ بات بہت اہم ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال پر توجہ دے، صرف صحت کے بحران پر نہیں بلکہ وہاں موجود فرقہ وارانہ کشیدگی کے حوالے سے بھی اقدامات کئے جائیں،اپنے دورے کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ اس کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اس کی وجہ نفرت انگیز تقاریر کی بھرمار، عدم برداشت اور تعصب ہے۔مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی واقعہ اس تشدد کو ہوادے سکتا ہے، اور یہ صرف اسی صورت میں روکا جاسکتا ہے، جب حالات کو تبدیل کردیا جائے، میرا مطلب ہے کہ اس کیلئے عالمی برادری کو اس مسئلے پر پوری توجہ دینا ہوگی، ہمیں زمینی حقائق پر نظرین جمانا ہوگی، دنیا بھر کی حکومتوں کو اپنے ردعمل کا اظہار کرنا ہوگا، عالمی برادری کو برمی حکومت پر دباﺅ ڈالنا ہوگا تاکہ وہ ان مظلوم افراد کی امداد کرسکے جو طبی سہولیات سے بھی محروم ہیں، کیونکہ سب سے اہم کام ان کی زندگیاں بچانا ہے”۔