Pakistan Launches Largest Nuclear Power Project – پاکستانی جوہری پلانٹ منصوبہ

پاکستان توانائی کے حصول کیلئے جوہری صلاحیت کو سب سے بڑا ذریعہ بنانے کیلئے پرعزم ہے، اس حوالے سے حکومت نے کراچی میں ملک میں سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔ چین کے تعاون سے جاری اس منصوبے کے بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

عبدالرحمن گوٹھ کراچی کے نواح میں واقع صدیوں پرانا ماہی گیروں کا گاﺅں ہے، احمد بلوچ کی زندگی یہاں اس وقت تک تبدیل نہیں ہوئی جب تک یہاں قریب ہی ایک جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر شروع نہیں ہوگئی۔

احمد بلوچ”اب یہاں قریب ہی جوہری پلانٹ زیرتعمیر ہے، جسکی وجہ سے میرین سیکیورٹی لوگوں کو سمندری پانیوں میں آزادی سے نقل و حرکت کی اجازت نہیں دیتی، اب ہم کیا کریں؟”

جوہری پلانٹ پر دہشتگردوں کے حملے کے خوف کے پیش نظر اس علاقے میں سیکیورٹی بہت سخت کردی گئی ہے، جس نے ماہی گیروں کو قید کرکے رکھ دیا ہے۔ابراہیم ایک ماہی گیر ہے۔

ابراہیم”اب یہاں مچھلی کا شکار زیادہ نہیں ہورہا، ہم اپنی نئی نسل کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں”۔

یہاں مقیم افراد بہت کم بجلی خرچ کرتے ہیں، مگر ملک کے باقی حصے توانائی کے شدید بحران کے شکار ہیں، اور بڑے شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے تک لوڈشیڈنگ عام معمول ہے، جس کی وجہ سے اکثر احتجاجی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔

حکومت کا ماننا ہے کہ اس مسئلے کا حل جوہری توانائی میں چھپا ہوا ہے، اظفرمنہاج کے 1 اور کے 2 جوہری پلانٹس منصوبوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔

منہاج”توانائی کے دیگر متبادل ذرائع پورے سال سو فیصد تک بجلی کی پیداوار فراہم کرنے میں کارآمد ثابت نہیں ہوسکے ہیں”۔

مگر متعدد افراد کسی جوہری حادثے کے حوالے سے فکرمند ہیں، کیونکہ یہاں کی سیکیورٹی صورتحال کافی خراب ہے، جبکہ تحفظ کے اقدامات بھی کچھ خاص اچھے نہیں۔

کراچی میں ایک اجتماع کے دوران معروف سائنسدان ڈاکٹر پرویز ہُوڈ بوائے تقریر کررہے ہیں، وہ جوہری توانائی کیخلاف مہم کی قیادت کررہے ہیں۔

ہُوڈ”ترقی یافتہ ممالک جیسے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ نے جوہری پلانٹس سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا ہے، مگر یہاں پاکستان، بھارت، سعودی عرب اور بنگلہ دیش وغیرہ زیادہ سے زیادہ جوہری پلانٹس تعمیر کرنا چاہتے ہیں، جوہری پلانٹس کے بارے میں آپ سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ان میں کوئی حادثہ نہیں ہوگا، جاپان کا فوکوشیما جوہری حادثہ اس کی واضح مثال ہے”۔

نیوکلئیر پاور آپریٹرز ان خدشات کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ چینی تیکنیکی معاونت سے ان پلانٹس کو محفوظ بنایا جارہا ہے، اظفر منہاج اس بارے میں بتارہے ہیں۔

منہاج”ہم جوہری ری ایکٹرز کو ٹھنڈا کرنے والا پانی پلانٹ سے باہر خارج نہیں کریں گے، اس کے علاوہ تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کافی اقدامات کئے جائیں گے”۔
تاہم ناقدین اس سے مطمئن نہیں، ماہرین ماحولیات علی ارسلان کا کہنا ہے کہ بجلی کا موجودہ بحران بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔

ارسلان”ہمیں اب حیرت انگیز صورتحال کا سامنا ہے، نیشنل گرڈ سے تیس فیصد بجلی ہزاروں کلومیٹر فاصلے کا سفر کرتے ہوئے ضائع ہوجاتی ہے، ہمارا ڈسٹری بیوشن نظام بہت خراب ہے، ذرا سوچے اگر آپ کی تیس فیصد پیداوارکو ضائع ہونے سے بچالیا جائے تو ہمیں مزید بجلی پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی”۔

تاہم ماہی گیروں کو کسی جوہری حادثے کی تو فکر نہیں ان کیلئے سب سے بڑی فکرمند کی بات یہ ہے کہ سیکیورٹی انہیں شکار کیلئے جانے کی اجازت نہیں دے رہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *