تیس سال میں پہلی بار برمی حکومت آئندہ ماہ مردم و خانہ شماری کا آغاز کررہی ہے، ماضی میں اقلیتی گروپس کے بیشتر افراد کو بہتر روزگار کے مواقعوں کیلئے اپنی شناخت چھپانا پڑتی تھی، مگر اب قبائلی رہنماءاپنی حقیقی شناخت شناختی کارڈز پر دیکھنا چاہتے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
یہمون نیشنل ڈے ہے اور ہنگون میںمون قبیلے کے ہزاروں افراد اپنے اس قومی دن کو منارہے ہیں۔
ایونٹ کے ایک کونے میں ایک خصوصی ڈیسک موجود ہے، جس میں قومی مردم شماری کیلئے مون افراد کا ڈیٹا اکھٹا کیا جارہا ہے، 34 سالہ سرکاری عہدیدار ما تھندر کھینگ بھی مون ہیں، مگر ان کے شناختی کارڈ میں انکا تعلق ملک کے اکثریتی فرقے برمن سے ظاہر کیا گیا ہے۔
کھینگ”جب ہم اپنے شناختی کارڈ کیلئے متعلقہ ادارے کے پاس گئے، تو میں نے حادثاتی طور پر خود برمن قرار دیدیا، میں نے اس پر زیادہ غور بھی نہیں کیا، مگر یہ ایک غلطی ضرور تھی، میں ایکمون ہوں اور میں خود کو مون ہی کہلوانا چاہتی ہوں”۔
نئیں من تونگ شن،مون نیشنل ڈے سیلیبریشن کمیٹی کے وائس چیئرمین ہیں۔
شن”کاغذات میں تو حکومت لسانی گروپس کے ثقافتی شناخت برقرار رکھنے کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے، مگر حقیقت میں ایسا نہیں، حکومت ایسا کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتی اور وہ ہم پر نگرانی رکھتی ہے، تو جب یہ گروپس اپنے خاص دن نہیں مناپاتے تو وہ فرسٹریشن محسوس کرتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ ان کی شناخت کو تبدریج ختم کیا جارہا ہے”۔
فوجی حکومت کے دور میں لسانی اقلیتی گروپس کو دبایا جاتا تھا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے، اگر وہ خود کو کسی اقلیتی گروپ سے اپنا تعلق ظاہر کرتے تو ان کیلئے ملازمتوں کے دروازے بند ہوجاتے، ینگون میں مون پاپولیشنلسٹ کولیکشن کے ڈائریکٹر من سو ئی اون کا کہنا ہے کہ وہ رواں برس ہونیوالی مردم شماری کی مہم میں یہ ذہنیت تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
اونگ”وزارت امیگریشن اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور نہ ہی اقلیتی گروپس، کچھ جگہوں پر تو اقلیتی آبادی کی فہرستوں میں ردوبدل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، اقلیتی آبادی کی تعداد اس وجہ سے مزید کم ہوگئی ہے، ہمیں معلوم ہوا کہ ہے کہ فہرستوں میں سے دس میں سات افراد کی قومیتوں کیساتھ ردوبدل کیا گیا ہے”۔
انکا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ اور خانہ شماری میں بھی اگر کوئی خود کومون لکھوائے تو بھی حکومتی فہرست میں اسے برمن بنادیا جاتا ہے۔
اونگ”آئین کے مطابق ہر ریاست یا ڈویژن میں اگر کسی اقلیتی برادری کی تعداد مجموعی آبادی کے 0.01 فیصد ہو تو وہ اپنا رکن پارلیمنٹ منتخب کرسکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم ینگون ڈویژن میںمون برادری کی حقیقی تعداد جاننا چاہتے ہیں، تاکہ اہم اپنے رکن پارلیمنٹ منتخب کرسکیں، اسی لئے ہم یہ کام کررہے ہیں”۔
مون نیشنل ڈے سیلیبریشن کے سلسلے میں ایک ڈرامہ پیش کیا جارہا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مون افراد دیگر لسانی گروپس کیساتھ امن و سکون سے رہ رہے ہیں۔ اس ڈرامے میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ایک مون ہیرو ایک چینی کمانڈو کیخلاف لڑ کر برمی بادشاہت کو بچارہا ہے۔ تاہم برما میں 1962ءمیں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے لسانی گروپس کو اپنی شناخت اور حقوق کیلئے لڑنا پڑرہا ہے، کئی تنازعات تو اب تک جاری ہیں،من سو ئی اونگکے مطابق یہ سب سے ناانصافی کا نتیجہ ہے۔
اونگ”تمام لسانی گروپس صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں، تو ان کے درمیان انصاف پر مبنی سلوک بہت اہمیت رکھتا ہے، جمہوریت اور انسانی حقوق تک رسائی کے ذریعے ہی ملک میں امن کا قیام ممکن ہے، یہ سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں، ان کے تقاضے پورے کرکے ہی ہم امن قائم کرسکتے ہیں”۔
دوہزار میں صدرتھین سیئن نے اقتدار میں آکر ملک میں اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا اور اب لسانی گروپس کو اپنی ثقافت اور شناخت ظاہر کرنے کی زیادہ آزادی حاصل ہے، حکومت نے تمام آٹھ لسانی گروپس کو اپنے مخصوص دن منانے اور اپنی زبان میں تعلیم دینے کی اجازت دیدی ہے۔ 34 سالہ کیاو من من، ایک اور اقلیتی گروپراکھینی سے تعلق رکھتے ہیں۔
کیاو”مجھے راکھینی ہونے پر فخر ہے کیونکہ ہماری اپنی ثقافت اور ادب ہے”۔