بھارت کی عام آدمی پارٹی کی نئی دہلی میں حکومت صرف 49 روز ہی برقرار رہ سکی، جس کے دوران انھوں نے انسداد کرپشن لائن قائم کی، جس پر روزاہ ہزاروں کالز موصول ہوئیں، یہ پارٹی عوامی زندگی سے کرپشن کے خاتمے کیلئے پرعزم تھی، تاہم اب اس کی حکومت ختم ہوچکی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجری وال کے استعفی کے اعلان پر ہجوم نے نعرے لگائے، عام آدمی پارٹی کی 49 روزہ حکومت کی اقتدار سے روانگی انتہائی ڈرامائی رہی، اروند کیجری وال اور ان کی پوری کابینہ نے اس وقت مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، جب دہلی اسمبلی نے انسداد بدعنوانی قانون کی منظوری دینے سے انکار کردیا۔
اروند”انسداد بدعنوانی قانون ہماری پارٹی کی بنیاد ہے، اور اگر ہمیں اسے بحث اور منظوری کیلئے پیش کرنیکی اجازت نہیں دی جائے گی، تو پھر ہمارے حکومت میں رہنے کا کیا فائدہ ہے؟ ہمارے پاس چونکہ اسمبلی میں اکثریت نہیں اس لئے ہمارے پاس کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا، یہی وجہ ہے کہ ہم نے مستعفیٰ ہوکر عوام میں واپس جانے کا فیسلہ کیا ہے، اگر ان کو دلچسپی ہوگی تو ان کے تعاون سے ہم دوبارہ اکثریت کیساتھ واپس آئیں گے”۔
انسداد بدعنوانی قانون عام آدمی پارٹی کی انتخابی وعدوں میں سب سے اہم تھا، اس جماعت نے وعدہ کیا تھا کہ اسے حکومت میں آکر ایک ماہ کے اندر ہی متعارف کرادیا جائے گا، تاہم عام آدمی پارٹی کے پاس دہلی اسمبلی میں اکثریت نہیں تھی، جبکہ کانگریس اور بی جے پی نے اس بل کو مسترد کردیا۔ روی شنکر پرساد بی جے پی کے ترجمان ہیں۔
پرساد”بی جے پی انسداد بدعنوانی قانون کی حامی ہے مگر اس کیلئے کسی طریقہ کار پر عمل کیا جانا چاہئے، کو طریقہ کار مطابق مزید چند روز دیکر قانون منظور کرانا چاہئے، مگر وہ غیرقانونی امر پر اصرار کررہے ہیں کیونکہ وہ اسے فرار کا بہترین موقع سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ دہلی کے عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پورے نہیں کرسکتے، وہ تمام فرضی وعدے تھے اور وہ پہلے دن سے فرار کا راستہ ڈھونڈ رہے تھے”۔
کانگریس پارٹی نے عام آدمی پارٹی کو اقتدار میں آنے میں مدد تو دی مگر وہ اس قانون سے خوفزدہ نظر آئی، سندیپ ڈکشت کانگریس کے سنیئر رہنماءہیں۔
ڈکشت ،ہماری حمایت کی بنیاد اس بات پر تھی کہ ہم دہلی مین ایک سیکولر حکومت چاہتے تھے، مگر ہم نے دیکھا کہ انھوں نے گورننس کا کیا حال کیا، انہیں حکومت چلانے میں کوئی دلچسپی نہٰں تھی، بلکہ وہ صرف ڈرامہ کرکے لوگوں کی توجہ حاصل کرنا چاہتے تھے، نہ کوئی کام اور نہ کوئی ذمہ داری، بس شور شرابا، یہ ان کا طریقہ تھا اور وہ ایسے ہی حکومت چلارہے تھے”۔
عام آدمی پارٹی نے اپنے قیام کے ایک سال کے اندر ہی گزشتہ سال دسمبر میں نئی دہلی کے ریاستی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے سب کو حیران کردیا تھا، اور حکومت کے قیام کے دو ماہ کے اندر ہی اس نے اپنے کافی اہم انتخابی وعدے پورے بھی کردئیے، جیسے مفت پانی اور سستی بجلی کی فراہمی وغیرہ، اس نے انسداد کرپشن ہیلپ لائن شروع کی، جس پر عوامی ردعمل بہت زبردست رہا۔ اروند کیجری وال کا کہنا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی اس لئے انسداد بدعنوانی قانون کیخلاف متحد ہوگئی کیونکہ وہ اپنے اندر موجود کرپٹ سیاستدانوں کو بچانا چاہتے ہیں۔
اروند”وہ جانتے ہیں کہ میں نے چھوٹی اینٹی کرپشن برانچ کے ذریعے کرپٹ افراد کی زندگیاں مشکل بنادی ہیں، انہیں ڈر تھا کہ مضبوط انسداد بدعنوانی قانون کے ذریعے حکومت کرپٹ افراد کیخلاف زیادہ سخت طریقے سے کریک ڈائرن کرے گی، اور ان میں سے بیشتر کو جیل جانا پڑے گا، تو انھوں نے آپس میں ملکر اس بات کو یقینی بنایا کہ قانون منظور نہ ہوسکے”۔
عم آدمی پارٹی کے متعدد حامی جیسے وکاس کمارقتدار چھوڑنے کے فیصلے سے خوش نہیں۔
وکاس”ہاں انسداد بدعنوانی قانون اہم ہے مگر یہ واحد مسئلہ نہیں جس کا ہمیں سامنا ہے، متعدد دیگر مسائل بھی موجود ہے اور انہیں ان مسائل پر بھی اس طرح کے فیصلے کرنا چاہئے تھے جیسے پانی اور بجلی کے معاملے پر کئے، یہ ٹھیک ہے کہ وہ مشکل حالات میں کام کررہے تھے مگر اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر بھاگنا کوئی حل نہیں”۔
عام آدمی پارٹی نے اب ریاستی انتخابات کے ساتھ ساتھ پارلیمانی انتخابات کی بھی تیاری شروع کردی ہے، اس کا ارادہ ملک بھر سے اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا ہے۔ تجزیہ کار جیسے سنگیتا شرما استعفے کو قومی سطح پر انتخابات کے موقع پر اسمارٹ فیصلہ سمجھتی ہیں۔
شرما”عام انتخابات جلد ہونے والے ہیں اوراس جماعت کو ایسے ایشو کی ضرورت تھی جو قومی سطح پر ووٹرز کو ان کی جانب کھینچ سکے، کیونکہ جو کچھ انھوں نے اب تک کیا وہ دہلی کے ووٹرز کیلئے تو اچھا ہے مگر انھوں نے قومی سطح پر کوئی کام نہیں کیا۔ موجودہ حالات میں کرپشن سے بہتر ایشو کوئی اور نہیں ہوسکتا، اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے کہ موقف اختیار کیا، اس سے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھے گا اور عام آدمی پارٹی کو فائدہ ہوگا”۔