برما میں پچیس سال قبل ایک جمہوریت پسند تحریک 8-8-88 شروع ہوئی، جس کے اوپر فوجی حکومت کے کریک ڈاﺅن میں تین ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے،اس تحریک کیخلاف حکومتی مطالم کے سائے اب تک برمی عوام کا پیچھا کررہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہزاروں افراد ینگون کے میانمار کنوینشن سینٹر میں جمع ہوکر 1988ءکی طلبہ تحریک کے دوران مارے جانے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں،چند برس قبل اس طرح کی تقریب کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، مگر اب برما میں حالات کافی تبدیل ہوگئے ہیں۔
اپنی تقریر کے دوران یہ شخص کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرسکتے، ہمیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہئے، 2011ءمیں نیم سویلین حکومت اقتدار میں آئی اور اس نے ملک سے فوجی حاکمیت کے خاتمے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد سے برما کافی تیزی سے جمہوریت کی جانب بڑھ رہا ہے، اب پہلی بار ماضی کے چند جرائم کو عوامی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے، تاہم اب تک ان کی زمہ داری کسی پر عائد نہیں کی گئی۔ دیو میتھی سن ہیومین رائٹس واچ کے عہدیدار ہیں۔
دیو میتھی سن”ان لوگوں کا خون پچیس سال سے انصاف مانگ رہا ہے، اور اب جبکہ ملک تیزی سے اہم اور پیچیدہ مراحل کامیابی سے طے کررہا ہے، میرا نہیں خیال کہ ہمیں 1988ءکو سفاکانہ قتل عام کے ذمہ داران کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہئے”۔
پچیس سال قبل جمہوریت نواز مظاہروں کو فوج نے انتہائی سفاکانہ طریقے سے کچلا تھا، جس کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے تھے، کھن اوہمران مطاہروں میں شامل ایک طالبعلم تھیں۔
کھن “میں اس وقت سڑک پر تھی، جہاں مجھے سیکیورٹی فورسز کو فائرنگ کرتے دیکھنے کا موقع ملا”۔
فوجی حکومت میں شامل متعدد سابق جرنیل اب بھی اقتدار میں ہیں، مگر حکومتی تبدیلی کے بعد وہ مثبت تبدیلیوں پر اثرانداز نہیں ہورہے، متعدد حلقوں کا ماننا ہے کہ اس ملک کو ماضی کو فراموش کرکے آگے بڑھنا چاہئے، مگر افرد کے مطابق ایسا نہیں ہونا چاہئے۔
کھن”ہم انفرادی طور پر اپنے اوپر کئے گئے مظالم کو تو معاف کرسکتے ہیں، مگر ہمیں دیگر افراد کے حوالے سے ایسا کہنے کا حق حاصل نہیں، درحقیقت اس وقت متاثرین یا بچ جانے والے افراد کو آگے آکر اپنے اوپر کی جانے والی ناانصافی کے بارے میں بات کرنے کا موقع ملنا چاہئے، اس طرح وہ بتاسکیں گے کہ وہ کیا جاچاہتے ہیں، کیا وہ انصاف چاہتے ہیں یا سب کچھ بھول کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں”۔
رضاکاروں کا کہنا ہے کہ وہ انتقام کے خواہشمند نہیں مگر لوگوں کو کم از کم بناءکسی خوف کے انصاف کے بارے میں بولنے کا موقع تو ملنا چاہئے، برما میں فوج کو ابھی بھی غلبہ حاصل ہے اور سیکیورٹی فورسز کو آئین کے تحت بے پناہ اختیارات اور استثنیٰ حاصل ہے۔ دیو میتھی سن اس بارے میں اظہار خیال کررہے ہیں۔
دیو”میرے خیال میں لوگ اب بھی انصاف اور احتساب کے خواہشمند ہیں، جو کہ برما کیلئے بھی ایک مثبت علامت ثابت ہوگا، اس سے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی اور فوجی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہوگا۔ اس سے موجودہ عمل پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے”۔