معروف اداکار لہری کی آج دوسری برسی منائی جا رہی ہے
معروف اداکار لہری سنہ انیس سو انتیس میں پیدا ہوئے۔لہری کا اصل نام سفیر اللہ صدیقی تھا۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز پچاس کی دہائی میں بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے کیا۔
ان کی پہلی فلم ”انوکھی “ تھی جو بلیک وائٹ تھی اور سنہ 1956ءمیں ریلیز ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی عمر کے 35سال فلمی دنیا کے نام کئے۔ ان کی مہارت وہ انداز ڈیلوری تھا جوکسی بھی اسکرپٹ کا محتاج نہیں تھا۔ وہ اداکاری کرتے کرتے ، مکالمے بولتے بولتے اسے اپنے مخصوص انداز میں ڈھال لیا کرتے تھے۔ وہ ایسے مزاح نگار تھے جس کا حرف آخر بھی وہ خود ہی تھے۔مکالموں میں برجستگی، شائستگی، اتار چڑھاﺅ، تاثرات، حرکات و سکنات۔سب فنوں میں وہ یکتا تھے۔
وہ تقریباً150 فلموں کے مرکزی کرداروں میں شامل رہے۔ ان فلموں میں فیصلہ، اپنا پیار، انصاف، نوکری، یہ دنیا، انسان بدلتا ہے، زمانہ کیا کہے گا، دیور بھابی، تم ملے پیار ملا، نئی لیلیٰ نیا مجنوں، پیا ملن کی آس، جیسے جانتے نہیں، مہمان، دل دے کر دیکھو، بہاریں پھر بھی آئیں گی، انجمن، تہذیب، امن، دھماکا، میں بھی تو انسان ہوں، سوسائٹی، بابل موڑ مہاراں، ننھا فرشتہ ، پھول میرے گلشن کا، دل لگی، دلنشیں، اناڑی ، صورت اور سیرت، داغ، وعدہ ، جیو اور جینے دو، اف یہ بیویاں ، امبر، آبشار، کبھی کبھی، پرنس، موسم ہے عاشقانہ ، مسٹر رانجھا،ا ب گھر جانے دو، چلتے چلتے ، دل ایک کھلونا ، کرن اور کلی ، مانگ میری بھردو“ اور ” ہلچل“ جیسی شاندار اور کامیاب ترین فلمیں شامل ہیں۔ سن1986ءان کے فلمی سفر کا آخری سال تھا۔ اس برس ان کی آخری فلم ‘دھنک’ ریلیز ہوئی مگر یہ کامیابی حاصل نہ کرسکی۔
لہری ستر کی دھائی میں بننے والی ہر فلم کی ضرورت تھے۔ فلم کی کامیابی میں ہیرواور ہیروئن کے بعد لہری صاحب کا ہی سب سے بڑااور اہم کردار ہوا کرتا تھا۔
لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے مزاح کی خاص بات ان کے برجستہ جملے ہوتے تھے اور وہ کبھی مزاح کے لیے جسمانی حرکتوں سے کام نہیں لیتے تھے۔ ان کے اس انداز کے پیرو کاروں میں معین اختر مرحوم سرفہرست ہیں اور پاکستان کے حیات مزاح کاروں میں انور مقصود نے بھی انھی کے انداز کو کمال دیا ہے۔
انہیں پاکستان میں مزاحیہ اداکار کے سب سے زیادہ نگار ایوارڈز لینے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
سنہ 1986ءمیں ان کی بینائی کمزورہوگئی تھی جبکہ وہ مسلسل بیماربھی رہنے لگے تھے جس کے سبب انہیں فلمی دنیا سے رشتہ توڑنا پڑا۔اسی سال وہ لاہور سے مستقل طور پر کراچی شفٹ ہوگئے۔ فلمی دنیا سے 26برس تک دور رہنے کے بعد وہ تیرہ ستمبر 2012ءکو خالق حقیقی سے جا ملے۔